Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 09:48 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

کانگریس کے دور میں دہلی کے ہر شعبہ حیات میں ترقی ہوئی


بارہ دری میں منعقدہ جلسے میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ہارون یوسف کا اظہار خیال
امیر احمد راجہ

نئی دہلی،30،جنوری( ایس ٹی بیورو ):دہلی اسمبلی کا اثردھیرے دھیرے پرانی دہلی میں بھی نظر آنے لگا ہے۔یہاں کے ٹھنڈے پڑے ما حول میں اب گر می آنی شروع ہو گئی ہے اور انتخابی گہماگہمی پورے عروج بام پر ہے ، سبھی پار ٹیوں کے امیدوارمختلف طریقوں سے عوام کو لبھا نے میں مصروف ہیں، جو سابق ممبران اسمبلی اس بار بھی انتخابی میدان میں اترے ہیں وہ اپنے فنڈسے کرائے گئے ترقیاتی کاموں سے لوگوں کو واقف کرا رہے ہیں۔ حلقہ بلی ماران سے کانگریس کے ہردلعزیز امیدوارہارون یوسف کا سماج ہر طبقے کی طرف سے زور دار استقبال اور حمایت کا سلسلہ بد ستور جاری ہے ،ان کی حمایت میں کل رات ایک عظیم الشان جلسہ بارہ دری چوک پر کیا گیا جس کی صدارت علا قے کی بزرگ شخصیت شجا ع الدین نے کی اور جلسے کی نظامت سینئرکانگریسی کار کن شیخ علیم الدین اسعدی نے کی۔اس موقع پر لوگوں کو خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بھاجپا کے بڑھتے قدم کو کو روکنے کیلئے متحد ہو کر کانگریس کو ووٹ کیا جائے کیونکہ کا نگریس پارٹی نے کبھی بھی فرقہ پرستی سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ اس کے بڑھتے قدم کو زنجیر ڈالنے کاکام کیاہے۔ ہارون یو سف نے اپنے خطاب میں کہاکہ دہلی میں شیلا دکشت کی قیا دت میں جو ترقیا تی کام ہوئے ہیں ان کا بیان کر نا مشکل ہے وہ کسی سے پو شید ہ نہیں ہیں۔کانگریس کے دور اقتدار میں دہلی کے ہر شعبہ میں ترقی ہوئی ہے، ساتھ ہی کا نگریس نے غریب طبقہ کیلئے متعدد اسکیمیں چلائی ہیں جس کا بھر پور فائدہ غریبوں کو مل رہا ہے ۔ہارون یوسف نے مزید کہاکہ آج فرقہ پرست پارٹیاں کا نگریس پارٹی کوبدنام کرنے میں جٹی ہیں جبکہ وہ خود بد عنوانی میں ملوث ہیں۔بھاجپا اور ’آپ‘ پر حملہ کرتے ہوئے ہارون یوسف نے کہاکہ کانگریس کو بدنام کرنے والوں کو کیا دہلی کے ترقیاتی کا م نظر نہیں آتے ؟ غریبوں کیلئے چلائی گئی متعدد اسکیمیں اور اسکولی بچیوں کیلئے لاڈلی اسکیم وغیرہ ان لوگوں کو دکھائی نہیں دیتیں،حقیقت یہ ہے کہ ہم سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ ہم دوسری پارٹیوں کی طرح پوسٹر بازی نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ آج فرقہ پرست پارٹیوں کی سوچ یہ ہے کہ ہندوستان کی اقلیتوں کی آواز اٹھا نے والا کوئی نہ ہو،جبکہ ہندوستان کے آئین میں ہندو،مسلم، سکھ، عیسائی ودیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میںآواز اٹھا نے کاحق دیا گیا ہے۔ یوم جمہوریہ کے دن مودی کے کپڑوں پر تنقیدیر کرتے ہوئے مسٹر ہارون نے کہاکہ وزیراعظم نے غریب آدمی کے 4 مکانوں کی قیمت کا سوٹ پہنا ہوا تھا جو کہ قا بل افسوس ہے ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت بنتے ہی غیر ملکی بینکوں میں جمع سارا کا لا دھن واپس لایا جائے گا ۔اس پیسے میں سے ہر ایک غریب کے اکاؤنٹ میں 15/15لاکھ روپیہ جمع کرایا جائے گا ۔ملک کی غریب عوام انتظار ہی کرتی رہی سات مہینے گذر گئے لیکن کسی کے اکاؤنٹ میں ایک پیسہ بھی نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس130 سال پرانی پارٹی ہے اس نے ملک کو انگریزوں سے آزاد کرا نے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے حلقہ بلی ماران کی عوام سے پر زور اپیل کی کہ (ہاتھ )کے سامنے والا بٹن دباکر کانگریس کو کا میاب کریں، کیو نکہ کا نگریس ہی ملک کی ترقی کی ضامن ہے ۔ اس موقع پر سابو میو نسپل کو نسلر سید حامد حسین خضر ، ضمیر احمد کے علاوہ عرفان میر، محمد عاصم ودیگر نے بھی اظہار خیال کیا اورعوام سے کا نگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ جلسہ میں محمد ضمیر، سراج الدین، محمد صغیر نہاری والے ، حاجی معراج الدین، سید ابرارعلی، صدف بیگم ایڈووکیٹ، محمد شعیب عابدہ بیگم، آنند دکشت، سعیدہ بیگم راجیش کشیپ، لکشمن باگڑی سمیت بڑی تعداد میں کانگریسی کار کنان اور اہل علاقہ نے شر کت کی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment