Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 09:36 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

گنا کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ

 

بقایا جات کی ادائیگی نہ دینے پر9فروری کو ودھان سودھا کے روبرو احتجاج کرنے کا اعلان
حیدرآباد29؍جنوری(یو این آئی) بنگلور میں گناکسانوں کی ریاستی تنظیم نے گنا کسانوں کے بقایاجات کی ادائیگی کے مطالبہ پر 9فروری سے بنگلور میں ودھان سودھا کے روبرو احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔گنا کسانوں کی ریاستی تنظیم کے صدر کربورو شانت کمار نے میڈیا سے کہا کہ مطالبہ کی تکمیل تک احتجاج جاری رہیگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گنا کسانوں کی ریاستی تنظیم کی میٹنگ میں گنا کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے مطالبہ پر ودھان سودھا کے روبرو غیر معینہ مدت کا احتجاج کرنے کے علاوہ کئی اہم فیصلے لئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ودھان سودھا کے روبرو احتجاج کے بعد بھی ریاستی حکومت گنا کسانوں کے مطالبہ کی تکمیل کے لئے آگے نہیں آتی ہے تو حکومت کو منوانے کے لئے مرحلہ وار احتجاج کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں شانت کمار نے بتایا کہ ریاست کے شکر کارخانوں پر 1800کروڑ روپئے واجب الادا ہیں یہ رقم گنا کسانوں کو ایک سال سے وصول طلب ہے ۔ ریاستی حکومت نے شکر کارخانوں کو بقایا جات کی ادائیگی کے لئے صرف نوٹس جاری کرنے پر اکتفا کیا ہے ۔ ریاستی حکومت نے 30دسمبر تک گنا کسانوں کو بقایا جات کی ادائیگی کے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن تا حال اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ گنا کسانوں کی ریاستی تنظیم نے طے کیا ہے کہ2فروری کو ریاست کے تمام ڈپٹی کمشنر دفاتر کے روبرو احتجاجی دھرنا کیا جائے گا تاکہ ریاستی حکومت گنا کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے مطالبہ پر متوجہہ ہوسکے ۔ کمار نے مزید کہا کہ ریاست کے تمام شکر کارخانوں کو حکومت نے گنا کسانوں کو مناسب اور نفع بخش قیمت ایف آر سی دینے کی ہدایت دی ہے لیکن ریاست کے 63شکر کارخانوں میں سے ایک نے بھی اس ہدایت پر عمل نہیں کیا ہے ۔گنے کی سپلائی کے اندرون14یوم گنا کسانوں کو رقم ادا کرنے کا لزوم ہے لیکن 17,16کارخانوں کے ماسواء دیگر کارخانوں نے اس لزوم پر عمل نہیں کیا ہے ۔ گنا کسانوں کی ریاستی تنظیم نے اس بات پر سخت اظہار تاسف کیا کہ مرکزی حکومت نے سال2015-16کے لئے ایف آر سی قیمت میں صرف100روپئے اضافہ کیا ہے ۔کمار نے تحویل اراضی قانون سے متعلق جاری کئے گئے آرڈینینس کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کسان مخالف پالیسیاں اختیار کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال3.85کروڑ روپئے مالیت کی گنے کی کاشت کی گئی تھی اس سال4.40کروڑ مالیت کی گنے کی کاشت کا نشانہ مقرر ہے ۔کمار نے گنا کسانوں کے مسائل پر بے حسی کا مظاہرہ کرنے کا حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت شکر سازی ایچ ایس مہادیو ساد اور وزیر آبکاری جارکی ہولی نے گنا کسانوں کو گنے کے بجائے متبادل فصلیں اُگانے کا مشورہ دیا ہے ۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ حکومت کے ذمہ دارا وزراء گنا کسانوں کو انصاف دلانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ۔ حکومت کے اس رویہ کی وجہ سے ریاست کے گنا کسانوں سخت مشکلات اور مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ۔ شکر کارخانوں کے مالکان قوانین کے اعلانیہ خلاف ورزی کر رہے ہیں لیکن حکومت ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے تیار نہیں ہے ۔ گنے کو تولنے کے دوران10فیصد وزن میں کٹوتی کی جاتی ہے ۔ اس طرح10ٹن پر کسانوں کو ایک ٹن گنے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment