Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:29 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مسلمانوں میں بہتر سیاسی متبادل فراہم کرنے کی بھرپور قوت ہے

 

آزادی کے بعد سے مسلمانوں کا سیاسی استحصال ہوا ہے استحصال سے بچیں مسلمان اور اپنی قوت کو پہنچانیں: ناگمنی کشواہا

نئی دہلی، 30 ستمبر (یوا ین آئی) سمرس سماج پارٹی کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ناگمنی کشواہا نے کہا کہ مسلمانوں میں بہتر سیاسی متبادل پیدا کرنے کی بھرپور قوت اور صلاحیت ہے بشرطیکہ وہ متحد ہوکر اپنی سیاسی قوت کو پہچانیں۔آج یہاں یو این آئی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں کا سیاسی طور پر استحصال ہورہا ہے۔ ان کی حیثیت ایک فٹبال کی طرح ہوگئی جس کی مرضی میں آتا ہے کک ماردیتا ہے اور مسلمان کبھی کسی پارٹی کے ساتھ تو کبھی کسی بھی پارٹی کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو خود اس کا احساس کرنا ہوگا وہ کسی سیاسی پارٹی کے سیاسی استحصال کا شکار نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک آزاد ہوا تھا تو اس وقت سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کا تناسب 37 فیصد تھا لیکن اب کم ہوتے ہوتے دو تین فیصد تک سمٹ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی پندرہ فیصد کی ایسی طاقت ہے جس کے ذریعہ وہ کسی بھی حکومت میں اہم مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، تعلیمی اور نظریاتی استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے چھ سال اور دیگر پارٹیوں میں تین چار کے علاوہ کسی نے ملک پر حکومت نہیں کی ہے ۔ کانگریس نے طویل مدت تک ملک پر حکومت کی ہے لیکن کانگریس نے مسلمانوں کو دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد میں مورتی کانگریس کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال کے دور میں رکھی گئی، تالا کانگریسی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے دور میں کھلا اور اس میں پوجا کی اجازت دی گئی، بابری مسجد کی شہادت کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے دور میں ہوئی ۔مسٹر ناگمنی نے کہا کہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، اگر حکومت چاہے تو کہیں فساد نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ مجھے حیرانی ہوتی ہے جان بوجھ کر بھی مسلمان کانگریس کا دامن تھامتے ہیں کیوں کہ وہ بی جے پی کی فرقہ پرستانہ سوچ سے خوفزدہ ہیں۔بی جے پی کی فرقہ پرستانہ سوچ نے انہیں مجبور و بے بس کردیا ہے کہ وہ کانگریس کا ساتھ دیں اور اسی کا فائدہ کانگریسی اٹھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اس سوچ سے باہر آنا ہوگا انہیں ایسی پارٹی کو منتخب کرنے کی کوشش کرنی ہوگی جو اس کے جذبات واحساسات کا خیال کرتے ہوئے ان کے مفاد کے لئے کام کرے اور ان کے وقار کا خیال رکھے۔ مسلمانوں کو متبادل کے طور پر غور و غوض کرنا ہی ہوگا۔مسلمان جس دن متبادل بنانے کی طاقت کو سمجھ جائیں گے وہ دن ان کے لئے سنہری دن ہوگا۔سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ کالا قانون یو اے پی اے کانگریسی دور حکومت کی ہی پیداوار ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ اس میں صرف مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے والے مسلم نوجوان اس کا خاص نشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ دس سال کے ٹرائل کے نام پر انہیں جیل میں بند رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں بے قصور ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اس کالا قانون کو ختم کرانے کے لئے جدوجہد کرے گی۔مسٹر کشواہا نے الزام عائد کیا کہ اس ایکٹ کا نفاذ صرف مسلمانوں پر ہی کیوں ہوتا ہے جب کہ دہشت گردانہ واقعات مثلاً سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ، اجمیر بم دھماکہ، مکہ مسجد بم دھماکہ، مالیگاؤں بم دھماکہ، گجرات بم دھماکہ وغیرہ میں ہندوؤں کے نام آئے ہیں ان پر بھی اس کا نفاذ ہونا چاہئے۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فرقہ پرست قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ان کی پوری تاریخ فرقہ پرستی سے عبارت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہاتما گاندھی کا قتل کسی مسلمان نے نہیں بلکہ ناتھو رام گوڈسے نے کیا تھا جس کا تعلق آر ایس ایس تھا۔ مسلمانوں کو ان سے حب الوطنی کا سبق سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسٹر ناگمنی جنہیں لالو یادو کے ساتھ یہ فخر حاصل ہے کہ وہ مرکز اور ریاست وزیر رہنے کے ساتھ اسمبلی اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے رکن رہ چکے ہیں اور ان کے والد بھی اندرا گاندھی کے زمانے میں مرکزی وزیر رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ان کی پارٹی ایسے مسلم نوجوانوں کے خاندان کی مدد کے لئے کام کرے گی اور ان مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لئے تحریک چلانے سے گریز نہیں کرے گی۔

...


Advertisment

Advertisment