Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 02:09 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سفارتی میدان میں بھارت کی کامیابی بے مثال:پاسوان

 

مودی کوبتایانہروسے بھی بہتروزیراعظم،جنتاپریوارپرسیکولرزم کے نام پرسیاست کاالزام*ملائم سنگھ سے سوال ،وعدے کے مطابق مسلمانوں کوکیوں نہیں دیاریزرویشن*تمام شہریوں کو یکساں مواقع اور ترقی دینے پریقین رکھتی ہے این ڈی حکومت
پٹنہ28جنوری(آئی این ایس انڈیا) صارفین اور عوامی خوراک کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے آج دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی بین الاقوامی سفارتکاری آج جتنی کامیاب رہی ہے اتنی سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔پٹنہ میں آج صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکز کی کانگریس زیر قیادت یوپی اے ایک حکومت میں مرکزی وزیر رہے اور یو پی اے دو حکومت کو باہر سے حمایت دینے والے اور اب این ڈی اے کی اتحادی جماعت لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ رام ولاس نے دعوٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی سفارت کاری آج جتنی کامیاب رہی ہے اتنی سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب سے مرکز میں نریندر مودی حکومت حکمراں ہوئی ہے بین الاقوامی دنیا میں ہندوستان کا نام اونچا ہوا ہے اور مودی جی کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے ہی آج دنیا کے سب سے اوپر ملک امریکہ، چین، آسٹریلیا، روس اور جاپان وغیرہ ہندوستان کو نظر انداز نہیں کر پا رہے ہیں۔رام ولاس نے کہا کہ اس کی جھلک امریکی صدر باراک ابوما کے تین روزہ دورے کے دوران دیکھنے کو ملی اور ان کی آمد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس سے اوباما اور مودی جی کا دل تو ملا ہی ہے ساتھ ساتھ دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اوردونوں ممالک کے عوام کی ایک دوسرے کے بارے میں سوچ میں بھی زبردست تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر بھی آج یہ مانتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر سکتے ہیں۔رام ولاس پاسوان نے کہا کہ ایسے میں جب دنیا میں ہندوستان کا نام روشن ہو رہا ہے، ذات پات اور مذہب-مذہب کے نام پر سیاست کی جائے یہ مناسب نہیں ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس سے اوپر اٹھ کر اس بارے میں غور کریں کہ بہار کی ترقی کیسے ہو۔امریکی صدر کے کل یہ کہے جانے کہ ہر شخص کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے کا حق ہے اورہندوستان اس وقت تک کامیاب رہے گا جب تک وہ مذہب کی بنیاد پر نہیں تقسیم ہوگا اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد کے اس بیان پر کہ اوباما نے ایسا کہہ کر بی جے پی کے ارادہ پرطمانچہ لگایا ہے، کے بارے میں رام ولاس نے کہا کہ لالو پرساد، سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو اور جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار ووٹ بینک کے لئے معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو تشہیرکرتے پھرتے ہیں کہ ان کا مقصد معاشرے کو تقسیم نہیں اسے مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین بھی سیکولرازم اور سماجی انصاف کی بات کرتا ہے اور مرکز کی موجودہ این ڈی اے حکومت اوروزیر اعظم نریندر مودی جی نے کیا کوئی ایسا قدم اٹھایا یا بیان دیا کہ جس سے کہ ملک مذہب کے نام پر بٹے۔رام ولاس نے کہا کہ چاہے وہ بابری مسجد، گھر واپسی، 370کا معاملہ ہو کبھی وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی جانب سے ان معاملات کا ذکر نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ موجودہ مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی جی کا ایک ہی مقصدملک کی ترقی ہے اور ہر وزارت کی حداورمنصوبہ بندی طے کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پینے والے کو پینے کابہانہ چاہیے۔جو لوگ سب سے زیادہ ذات پات کی سیاست کرتے ہیں۔
وہ ہی دوسرے پر الزام لگارہے ہیں۔رام ولاس نے کانگریس، ملائم، لالو اور نتیش پر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پوچھا کہ ان جماعتوں اور لیڈروں نے اس کمیونٹی کو کیا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دیئے جانے کی وکالت کرنے والے ملائم سنگھ یادو نے اترپردیش میں اس کمیونٹی کو کتنا فیصد ریزرویشن دیا یا پھر نتیش کمار نے بہار میں کتنا دیا۔رام ولاس نے کہا کہ تمام مذہب کے غریب لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے تو وہ خود آگے نکل جائیں گے۔دہلی انتخابات کے وقت اوباما کے ہندوستان دورہ کا فائدہ بی جے پی کو وہاں ہو رہے انتخابات میں ملنے کے بارے میں پوچھے جانے پر رام ولاس نے کہا کہ ان کے دورے کو مقامی سیاست سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہئے لیکن ان کی آمد کو پورے ملک نے سراہا ہے اور ملک دارالحکومت دہلی کی عوام بھی اس بات کو بخوبی سمجھ رہی ہے اور اس کا یقینی طور پر اچھا اثر پڑے گا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment