Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 12:57 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

میک ڈونالڈ ہوٹل بم دھماکہ کیس میں عینی شاہد کی گواہی

 

جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ نے جرح کی

ممبئی 30 ستمبر (یو این آئی) 03۔2002 کے درمیان ممبئی کے تین الگ الگ مقامات پر ہوئے بم دھماکوں کے معاملے میں جاری مقدمہ کی سماعت کے دوران آج ممبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن میں واقع میکڈونلڈ ہوٹل میں ہوئے بم دھماکہ کے عینی شاہد کی گواہی عمل میں آئی جس نے خصوصی پوٹا عدالت کو بتا یا کہ وہ ممبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن کے باہر حمالی کا کام کرتا ہے اور8دسمبر2002کو وہ میکڈونلڈ ہوٹل میں چائے پینے کے لئے گیا تھا اور اسی وقت ہوٹل میں بم دھماکہ ہوا تھا ۔سرکاری گواہ نامدیو نے وکیل استغاثہ روہنی سالیان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واقع کی مکمل تفصیل خصوصی پوٹا جج دیشمکھ کو بتائی جس کے بعد اس سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ نے جرح کی جس کے دوران انہوں نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے نامدیو کو حادثہ کے ایک سال بعد اس معاملے میں سرکاری گواہ بنایا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملزم حادثہ کے وقت ہوٹل میکڈونلڈ میں موجود ہی نہیں تھا بلکہ وہ تحقیقاتی دستوں کے اشاروں پر آج ملزمین کے خلاف جھوٹی گواہی دے رہا ہے۔ دفاعی وکلاء کی جرح کے دوران سرکاری گواہ نامدیو نے اعتراف کیا کہ بم دھماکوں کی تفتیش کے تعلق سے پولس تفتیشی عملہ نے اس کا کوئی بیان درج نہیں کیا تھا ۔دفاعی وکلاء نے سرکاری گواہ پر الزام عائد کیا کہ آج وہ تحقیقاتی دستوں کے دباؤ میں عدالت میں جھوٹی گواہی دے رہا ہے کہ وہ حادثہ کے وقت ہوٹل میکڈونلڈ میں موجود تھا نیز شناختی پریڈ میں اس نے پولس کے اشاروں پر ملزمین کی شناخت کی تھی کیونکہ اس کو شناختی پریڈ میں جانے سے پہلے پولس عملہ نے ملزمین کی تصویریں دیکھائی تھی ۔گواہ استغاثہ نے آج دفاعی وکلاء کے بیشتر سوالات کے جوابات یہ کہتے ہوئے دیئے کہ حادثہ کو گذرے ہوئے ایک طویل عرصہ گذرچکا ہے لہذا اسے اس بم دھماکوں کے تعلق سے زیادہ کچھ یاد نہیں ہے ۔چشم دید گواہ سے پہلے بم دھماکوں میں زخمی ہوئے تین افراد کی گواہی بھی عمل میں آئی تھی جس سے دفاعی وکلاء اور وکیل استغاثہ نے متعدد سوالات پوچھے تھے ۔اسی درمیان سرکاری گواہ نامدیو سے فریقین کی جرح مکمل ہوئی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی ملتوی کردی۔دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ متین شیخ ،ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری ،ایڈوکیٹ چراغ شاہ، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر موجود تھے ۔واضح رہے کہ 30۔2002 کے درمیان ممبئی کے تین الگ الگ مقامات پر ہوئے بم دھماکوں کے الزام میں تحقیقاتی دستوں نے16 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور تینوں معاملے کی مشترکہ تفتیش کے بعد ملزمین کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی تھی۔تحقیقاتی دستوں کے مطابق پہلا بم دھماکہ6دسمبر2002کو ممبئی سینٹرل کے قریب ہوا تھا جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ دوسرا بم دھماکہ27جنوری 2003 کو ولے پارلے میں ہوا تھا جس میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی تھی نیز تیسرا بم دھماکہ دوسرے دھماکہ کے 42 دنوں کے بعد ملنڈ میں ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک اور دیگر افراد زخمی ہوئے تھے ۔

...


Advertisment

Advertisment