Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:37 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جنگ آزادی کی طرح ہندو مسلم اتحاد وقت کی اہم ضرورت

 

جمعیۃ علماء ہند دیوبند کے زیر اہتمام اجلاس جمہوریہ کے موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی کا اظہار خیال
یاسرعثمانی

دیوبند،27 ؍جنوری (ایس ٹی بیورو) گذشتہ روز جشن یوم جمہوریہ پر جمعیۃ علماء شہر کے زیر اہتمام محلہ بڑضیاء الحق دیوبند کے میدان میں ایک عظیم الشان ’’اجلاس یوم جمہوریہ‘‘ منعقد ہوا ۔جس میں مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن نے بھی شرکت کی ۔اس موقع پر پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے جم غفیر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی ہند میں علماء دیوبند نے ناقابل فراموش قربانیاں انجام دیں ہیں جو تاریخ کے اوراق میں سنہرے لفظوں میں درج کرنے کے قابل ہیں لیکن کچھ فرقہ پرست طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت اس مثالی گنگاجمنی تہذیب کے ملک میں ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے سازش رچ رہے ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ جس طرح براداران وطن کے ساتھ ملکر اکابرین نے ملک کو آزاد کرایا تھا آج اسی قومی اتحاد کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو زیر کیا جاسکے ، مولانا نے ہندومسلم کے درمیان پید ہورہی دوریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہندو مسلمان بھائی ملک کی آزادی کی تاریخ کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم ہندو ،مسلم سکھ، عیسائی بھائیوں کی مشترکہ قربانی سے یہ ملک آزاد ہوا اور جمہوری قوانین اس ملک کے اندرنافذکئے گئے۔ لیکن جب جب ہندو مسلمان بھائیوں نے جمہوری نظام کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے تو فرقہ پرست طاقتیں ابھر کر سامنیں آئیں۔مولانا نے آگے کہا کہ کوئی بھی دھرم خواہ ہندو ہو یا مسلمان ہو ، سکھ ہو یا عیسائی ہو یہ نہیں بتاتا کہ کسی کی دل آزاری کی جائے یا بتدیلی مذہب کی بات کی جائے مولانا نے فرمایاکہ جو فرقہ پرست طاقتیں اس وقت اقتدار میں ہیں وہ ہندو مسلم بھائیوں کے درمیان نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اور گنگا جمنی تہذیب کو برباد کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں میں تمام ہندو مسلم بھائیوں کو ، علماء و طلباء کو ، معززین شہر دیوبند کو یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ خدارا نفرت کی دیواروں کوگرائیں ، پیار و محبت کو عام کریں اور ایک دوسرے کے دکھ درد کے اندر بھائی بھائی ہوکر شریک ہوں تاکہ فرقہ پرستی کا زہر ملک ہندوستان کی پاکیزہ سرزمین سے ختم ہوجائے اور فرقہ پرست طاقتیں زیر ہوسکیں۔حاضرین کی اس جانب توجہ دلائی کہ جو لوگ پارلیمنٹ یا اسمبلی کی سیٹ حاصل کرنے کے لئے فرقہ وارانہ فساد برپا کرناچاہتے ہی اُن کی ناپاک سازشوں سے ہوشیار رہنے کی کوشش کریں۔ وہ اپنی کرسی کوحاصل کرنے کے لئے آپ لوگوں کے درمیان کبھی مذہبی بے چینی ، اہانت رسول ؐ کی شکل میں پیش کریں گے اور کبھی فرقہ واریت کے انداز میں لہٰذا آپ لوگ کبھی بھی سڑکوں پر نہ اتریں ، صبر سے کام لیں اور اپنے ملک کے قانون کو مضبوطی سے پکڑیں اگر کوئی شر پھیلاتاہے تو قانون کے مطابق اپنے احتجاج کو درج کرائیں۔ قبل ازاں اجلاس کا آغاز قاری قرار بجنوری کی تلاوت اور یوسف دیناجپوری کی تلاوت سے ہوا۔مولوی وصی اللہ سدھارتھنگری ، مولوی اسجد ہریدواری نے بھی آزادی ہند میں علماء کا کردار کے عنوان پر پر مغز تقاریر پیش کیں ۔ اجلاس میں ڈاکٹر ڈی ، کے جین، قاری سید فخر الدین عابد، محمد شمشاد، راحت خلیل، حاجی نواب، حاجی محمد خالد، حاجی ریاض محمود، عامر عثمانی، سیدندیم اطہر ، فخرالدین انصاری، محمدعیسیٰ ا نصاری، حاجی یٰسین انصاری، عبدالرحمن قریشی، مفتی محمد یوسف، مولانا محمدایوب، قاری محمد فوزان، قاری محمد اقرار، مولوی محمد یوسف، شب بخیر، مولانا محمد سمیع اللہ ، مستری محمد منور، قاری محمد مظاہر، محمداسلم و اراکین جمعیۃعلماء شہر دیوبند موجود رہے۔ جس کی صدارت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے کی۔ جب کہ نظامت کے فرائض خادم الاسلام قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء شہر دیوبند نے انجام دئے ۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں اراکین جمعیۃ علماء اور انتظامیہ نے اہم رول ادا کیا ۔آ خیر میں پروگرام کے کنوینر خادم الاسلام قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء دیوبند نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

...


Advertisment

Advertisment