Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 04:00 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ میں استغاثہ پر 25؍ ہزار کا جرمانہ


دستاویزات کو ساڑھے آٹھ سالوں بعد منظر عام لانا مہنگا پڑا
ممبئی ۲۷؍ جنوری (یو این آئی) مہاراشٹر میں ہوئے ایک دہشت گردانہ معاملے میں 22؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف اہم ثبوت تسلیم کیئے جانے والے دستاویزات کو ساڑھے آٹھ سالوں بعد منظر عام پر لانا آج ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ وک اس وقت مہنگا پڑا جب ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت کے روبرو ملزمین کا دفاع کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء نے اعتراض کیا جس کے سبب عدالت نے اے ٹی ایس پر دستاویزات کو تاخیر سے عدالت میں پیش کرنے پر 25؍ ہزارروپیوں کو جرمانہ عائد کیا ۔خصوصی جج جی ٹی قادری کے روبرو سرکاری وکیل وبھئے بگاڑے نے آج یہاں ملزمین کے خلاف ساڑھے آٹھ سالوں قبل ان کی گرفتاریوں کے وقت تیار کی گئی پولس کی اسٹیشن ڈائری ،کیس ڈائری اور دیگر دستاویزی ثبوت کی اصل نقول پیش کی جس پر جمعیۃ کے وکلاء نے اعتراض کیا اور کہا کہ چونکہ یہ دستاویزی ثبوت ملزمین کی گرفتاری کے وقت عدالت میں پیش کیا جانا ضروری ہے عین ممکن ہیکہ استغاثہ کی تحویل میں آٹھ برسوں تک رہنے پر ان دستاویزات میں خرد برد کی گئی ہو لہذا ایک ایسے موقع پر جب مقدمہ کی سماعت اپنے آخری مراحل پر پہنچ گئی ہو اور محض چند گواہان کے بیانات درج کرنا باقی ہو ،متذکرہ دستاویزات کو قبول نہ کیا جائے او ر اسے عدالت کی کارروائی کا حصہ نہ بنایا جائے ۔دفاعی وکلاء کے اعتراض کے بعد جج قادری نے بھی استغاثہ کی سرزنش کی اور ان سے دستاویزات کو تاخیر سے عدالت میں پیش کیئے جانے پر وضاحت طلب کی جس پر سرکاری وکیل بگاڑے گل مول انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسٹیشن ڈائری اور دیگر دستاویزات کے تعلق سے جن گواہان سے سوالات دریافت کیئے جانے والے ہیں ان گواہان کے بیانات کو قلمبند کرنے کے سلسلہ کا آغاز حال ہی میں عمل میںآیا ہے لہذا ان دستاویزات کو تاخیر سے عدالت میں پیش کیا گیا ۔خصوصی جج قادری نے اس معاملے پر استغاثہ کے مختلف دلائل پیش کیئے جانے کے بعد اے ٹی ایس کو دستاویزات کو عدالت میں پیش کیئے جانے کی تو اجازت دی لیکن تفتیشی ایجنسی پر جرمانہ بھی عائد کیا ۔جمعیۃ کی جانب سے عدالت میں موجود وکلاء دفاع نے متذکرہ دستاویزات کوقبول کرنے کی سخت لفظوں میں مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق متذکرہ دستاویزات کو ملزمین کے خلاف دائر کی گئی فرد جرم کے وقت ہی عدالت میں پیش کیا جانا ضروری ہے لیکن استغاثہ نے جان بوجھ کر اسے اس لیئے تاخیر سے پیش کیا کیوں کہ اگر اسے بر وقت پیش کیا جاتا تو اس کا فائدہ دفاع کو ہوتا اور ملزمین کو راحت حاصل ہوتی جس میں ان کی ضمانتوں پر رہائی یا مقدمہ سے باعزت بری ہونا بھی شامل ہے ۔دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی ، ایڈوکیٹ آصف نقوی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری ، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ توصیف شیخ ،ایڈوکیٹ ارشد و دیگر موجود تھے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment