Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:42 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی کے اتحاد پر مبنی حکومت یقینی


دہلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی حتمی اعلان متوقع
سری نگر،27 جنوری (یو این آئی) ریاست جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد پر مبنی مخلوط حکومت معرض وجود آنے کے واضح امکانات نظر آنے لگے ہیں اور اس حوالے سے دہلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی حتمی اعلان متوقع ہے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید نے بذات خود بی جے پی کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں اگلی حکومت پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد پر مبنی ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی ریاست جموں وکشمیر میں حکومت بنانے کے لئے غیر رسمی مذاکرات میں سرگرم ہیں جبکہ پی ڈی پی بی جے پی کو اپنی ساجھی دار جماعت بنانے میں زبردست دلچسپی دکھا رہی ہے اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی تعریفیں کرتی نظر آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد سے پی ڈی پی کہتی آئی ہے کہ وہ ریاست میں ایک مستحکم حکومت چاہتی ہے جو لوگوں کی توقعات پر کھرا اترسکے ۔ بالواسطہ طور پر پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو چھوڑ کر کسی دوسری جماعت کی حمایت حاصل کرکے جو حکومت بنے گی وہ غیر مستحکم ہوگی۔ 24 جنوری کو پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید نے طویل خاموشی توڑتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ ٹریک ٹو سطح پر مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب دونوں جماعتوں کے درمیان رسمی مذاکرات شروع ہوں گے جس میں کم از کم مشترکہ پروگرام مرتب کیا جائے گا۔ رپورٹوں کے مطابق بی جے پی نے پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کو پورے چھ سال کی مدت کیلئے وزارت اعلیٰ کا عہدہ دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ یاد رہے کہ مفتی سعید نے 24 جنوری کو ہی کہا تھا کہ اُن کی جماعت وزارت اعلیٰ کے عہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ افسپا کی کی منسوخی، پاکستان کے ساتھ مذکرات اور کم از کم مشترکہ پروگرام میں شامل کئے جانے والے دوسرے امور پر پی ڈی پی اپنے موقف سے کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹے گی۔ تاہم رپورٹوں کے مطابق دونوں جماعتوں نے متنازعہ مسائل کو سردخانے میں ڈالنے کی حامی بھر لی ہے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق ان متنازعہ مسائل میں دفعہ 370 اور افسپا شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے بی جے پی کو اپنا اتحادی بنانے کے لئے رپورٹوں کے مطابق نہ صرف اس سے وزارت اعلیٰ کی پوری مدت بلکہ حساس معاملات جیسے افسپا کی منسوخی، بجلی پروجیکٹوں کی ریاست کو واپسی اور دفعہ 370 کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ایک تحریری ضمانت مانگی تھی۔تاہم اب وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ہی اکتفا کرلیا ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کے لئے بجلی پرجیکٹوں کی ریاست کو واپسی آسان فعل ہے جبکہ یہ جماعت دفعہ 370کی منسوخی کو بھی سرد خانے میں ڈال سکتی ہے لیکن افسپا کی منسوخی پر تحریری ضمانت دینے سے قبل ہزار بار سونچے گی۔ اُن کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ریاست میں انتخابات سے قبل نہ صرف افسپا کی منسوخی کی زبردست مخالفت کی بلکہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا پرزور مطالبہ کرتی آئی ہے اور اب اگر یہی جماعت ان معاملات پر تحریری ضمانت دے گی تو کانگریس پارٹی تھوڑی ہی خاموش بیٹھے گی۔قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں رخصت ہونے والے سال کے نومبر اور دسمبر میں اسمبلی انتخابات منعقد کئے گئے جس میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی اور ریاست میں معلق اسمبلی وجود میں آگئی۔ریاست جموں وکشمیر میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی جماعت کو 87 میں سے 44 سیٹیں درکار تھیں ۔ انتخابی نتائج کے اعتبار سے پی ڈی پی 28 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، بی جے پی 25 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سابقہ مخلوط حکومت میں شامل نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو بالترتیب 15 اور 13 سیٹیں ملیں۔ اگرچہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد نیشنل کانفرنس ، کانگریس، سی پی آئی (ایم)، پی ڈی ایف اور ایک آزاد ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید نے پی ڈی پی کو ریاست میں حکومت تشکیل دینے کیلئے غیر مشروط حمایت دینے کی پیشکش کردی تھی۔تاہم پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کی پیشکش کو ٹھکرادیا جبکہ دیگر پارٹیوں کی حمایت سے متعلق پیشکشوں پر رائے زنی کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ اگرچہ ریاست میں حکومت کا حصہ بننے کی خاطر بی جے پی پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس کو بھی آپشن کے طور پر بات چیت میں مصروف رکھنا چاہتی تھی۔تاہم نیشنل کانفرنس پارٹی کے متعدد لیڈران بشمول عمر عبداللہ نے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی بی جے پی کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کو مسترد کردیا۔ 25 دسمبر کو نیشنل کانفرنس کے ایک سینئر لیڈر و ممبر اسمبلی بڈگام آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ اگر پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا تو وہ اُس اتحاد سے دور رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اُن کا ضمیر انہیں بی جے پی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ مسٹر آغا روح اللہ نے بتایا تھا کہ لوگوں نے وادی کشمیر میں بی جے پی کو دور رکھنے کیلئے ہی بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ صرف اُسی جماعت کا لیڈر ریاست جموں وکشمیر کا وزیر اعلیٰ ہوسکتا ہے جس کو ریاست کے تینوں خطوں میں نمائندگی ہو جبکہ بی جے پی وادی کشمیر اور خطہ لداخ میں بری طرح ہار گئی اور یہاں تک وادی میں کھڑے کئے گئے 34 امیدواروں میں سے 33 کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ نیشنل کانفرنس کے ایک اور سینئر لیڈر و ممبر اسمبلی اوڑی محمد شفیع نے کہا تھا کہ بی جے پی اور این سی کے متضاد سیاسی نظریات ہیں اور دونوں کا ملن غیر ممکن ہے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بی جے پی اس وقت مرکز میں برسراقتدار ہے تو اس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پی ڈی پی اس جماعت کو اپنا اتحادی بنانے پر ہی اڑی ہوئی ہے تاکہ مرکزی سرکارکے خزانوں کے دروازے ریاست کیلئے کھلے رہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے سیاسی اہداف ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ جہاں پی ڈی پی جموں وکشمیر میں سیلف رول (خود حکمرانی جس میں مرکزی سرکار کی کم سے کم مداخلت ہو)، ڈبل کرنسی اور سرحدوں کو غیر متعلقہ بنانے کے سیاسی اہداف رکھتی ہیں وہیں بی جے پی ریاست کو حاصل دفعہ 370 کی منسوخی، مغربی پاکستان کے رفوجیوں کو شہری حقوق دلوانا اور ملک بھر میں ایک قانون نافذ کرنا چاہتی ہے ۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں دو متضاد سیاسی نظریات کی حامل جماعتیں ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں جماعتیں اپنے نظریات کو پس پشت ڈال کر ریاست میں ایک مخلوط حکومت بنالیتی ہیں تو اُس میں پی ڈی پی کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کا ووٹ بینک وادی کشمیر ہے جہاں لوگوں نے بی جے پی کو دور رکھنے کیلئے بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل کر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور اگر اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھی پی ڈی پی بی جے پی کو اپنا اتحادی بنا لیتی ہے ، جیسا ظاہر ہورہا ہے تو پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے الیکشن کے دوران بی جے پی کو ریاست سے دور رکھنے کیلئے لوگوں سے ووٹ مانگے جبکہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی انتخابی ریلیوں کے دوران یہ کہا کہ ریاست میں اب باپ بیٹی (مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی) کا راج ختم ہونا چاہیے ۔ دوسری جانب ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت معرض وجود میں آنے پر پی ڈی پی علیحدگی پسند لیڈران کے نشانے پر آسکتی ہے ۔بزرگ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی پہلے ہی مفتی محمد سعید کو اقتدار کا بھوکا قرار دے چکے ہیں جبکہ بی جے پی پر ریاست کی مسلم شناخت پر زور دار یلغار کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کرچکے ہیں۔ مسٹر گیلانی نے جنوری کے پہلے ہفتے میں ہی وادی کی سیاسی جماعتوں پر نشانہ سادتے ہوئے کہا تھا کہ اصل میں تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ بن رہی ہیں جن کا پہلا اور آخری ہدف سیاسی مفادات ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں نے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے نام پر دھوکہ سے لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کیا۔ مسٹر گیلانی نے بی جے پی پر زبردست وار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جماعت مقامی مین اسٹریم جماعتوں اور پیسوں کی بنیاد پر جموں وکشمیر میں آر ایس ایس کا ایجنڈا نافذ کرنا چاہتی ہے ۔جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی کے اتحاد پر مبنی حکومت یقینی، دہلی انتخابات کے بعد حتمی اعلان متوقع۔6انہوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی کے وزارت اعلیٰ کے دور میں ہی گجرات میں تین ہزار مسلمانوں کا قتل عام انجام دیا گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب نریندر مودی سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے نام نہاد اور ناکام ایجنڈے ‘انسانیت کے دائرے میں’ کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ مسٹر گیلانی نے کہا تھا کہ ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال خطرے کی گھنٹی بجارہی ہے ۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر ریاست کو فسطائی نظریات کے حامل افراد کے حوالے کردیا گیا تو وہ (فسطائی نظریات رکھنے والے افراد) کشمیریوں کے لئے کرو یا مرو کی صورتحال پیدا کردیں گے ۔حریت کانفرنس چیرمین نے کہا تھا کہ کشمیریوں کو فرقہ پرست قوتوں کو للکارنے اور ریاست کی مسلم شناخت کی حفاظت کیلئے ذہنی طور تیار رہنا چاہیے ۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان جاری غیر رسمی مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگ فرقہ پرست قوتوں کے مشن میں مدد دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment