Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 10:54 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

’عآپ‘ کی رگوں میں دوڑنے لگا آرایس ایس کا خون!

 

بی جے پی کے باغی دھیر سنگھ بدھوڑی نے ’عآپ‘ جوائن کرکے آرایس ایس نہ چھوڑنے کے عزم کا اظہار
نثاراحمدخان

نئی دہلی، 23جنوری (ایس ٹی بیورو) دہلی اسمبلی الیکشن دھیرے دھیرے اپنے شباب پر پہنچ رہا ہے وہیں اپنی پارٹی سے ناراض ہوکر دوسری پارٹیوں کا دامن تھامنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ بی جے پی کی فہرست آنے کے بعد زبردست ہنگامہ ہوا تھا کیونکہ دوسری پارٹیوں سے آنے والے لیڈران کو توجہ دیتے ہوئے انہیں امیدوار بنایا گیا ہے ۔ اسی طرح کامعاملہ اوکھلا اسمبلی حلقہ سے گذشتہ الیکشن میں قسمت آزمانے والے دھیر سنگھ بدھوڑی کے ساتھ بھی دیکھنے کو ملا۔ ان کا ٹکٹ کاٹ کر پارٹی نے برہم سنگھ کو امیدوار بنایا توانہوں نے پارٹی چھوڑ کرعام آدمی پارٹی جوائن کرلی، مگر انہوں نے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ(آرایس ایس) سے رشتہ منقطع نہ کر نے کا عزم ظاہر کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے بی جے پی چھوڑی ہے، آرایس ایس نہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال اور اوکھلا کے امیدوار امانت اللہ خان کی موجودگی میں پارٹی جوائن کرنے کے بعد الیکٹرانک میڈیاسے گفتگو کے دوران بھی اس عزم کا اظہار کیاتھا،اس وقت پارٹی سربراہ مسٹرکجریوال بھیخاموش رہے تھے اور انہوں نے کوئی رد عمل نہیں ظاہر کیاہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرایس ایس جسے ایک شدت پسند ہندوتوا تنظیم تسلیم کیاجاتا ہے، اگر اس کے ممبران عام آدمی پارٹی میں شامل ہوں گے تو اس سے پارٹی دو خیموں میں تقسیم ہوسکتی ہے اور پارٹی سے جڑے مسلمانوں کا بھروسہ بھی اٹھ سکتاہے۔
کانگریس عام آدمی پارٹی کو بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ قرار دے رہی ہے، اب اس کے اس دعوے کو تقویت ملتی نظرآرہی ہے۔ اگر اس طرح کا رویہ سامنے آتا رہا تو پھر اس سے عام آدمی پارٹی سے مسلم طبقہ ناراض ہوکر کنارہ کشی بھی اختیار کرسکتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے تعلق سے مسلمانوں کے ذہن میں ابھی بھی خدشات ہیں کیونکہ ان کے ایجنڈے میں مسلمان کہیں نظرنہیں آرہاہے۔ اس سے قبل بھی خبریں آچکی ہیں کہ اروند کجریوال خود اقلیتی ونگ کے قیام پر ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں اور اقلیتی ونگ کے ذریعہ ٹکٹ کے مطالبے کو مسترد کردیاہے۔ عام آدمی پارٹی کے اس رویے سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں زبردست ناراضگی کااظہار کیاجانے لگاہے۔ جب اس پورے معاملے کے پیش نظر دھیرسنگھ بدھوڑی سے فون پر رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہاکہ عام آدمی پارٹی کو میں نے پہلے ہی باخبر کردیا ہے کہ وہ آرایس ایس کے ممبرہیں اور بدعنوانی کیخلاف لڑائی لڑنے کیلئے وہ عام آدمی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آرایس ایس کے بارے میں جو تشہیر کی جاتی ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے، وہ لوگوں کو جوڑنے والی تنظیم ہے اس لئے مجھے اس میں رہنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ دھیر سنگھ سے جب پوچھا گیا کہ اگر آرایس ایس کے ممبرہونے پر پارٹی اعتراض کرے تو پھر وہ کیا کریں گے؟ انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہوگا۔ میں آرایس ایس سے 2013میں منسلک ہوں اور آگے بھی جڑا رہوں گا۔ اس سلسلے میں جب دہلی یونٹ کے کنوینر آشوتوش سے رابطہ کیاگیا تو وہ کسی ٹی وی ڈبیٹ میں مصروف تھے۔

...


Advertisment

Advertisment