Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:20 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

گاؤ کدل ہلاکتیں:سری نگر میں علیحدگی پسند لیڈروں کی اپیل پر ہڑتال

 

سری نگر،21 جنوری (یو این آئی) سری نگر کے سیول لائنز علاقوں میں بدھ کو علیحدگی پسند لیڈروں کی اپیل پر ہڑتال کی گئی۔ سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر21جنوری 1990 کو سیول لائنز کے گاؤ کدل میں 50 مظاہرین کو ہلاک کردیا تھا جن کی یاد میں سیول لائنز علاقوں میں ہر سال اسی دن علیحدگی پسند لیڈران کی اپیل پر ہڑتال کی جاتی ہے ۔آج کی ہڑتال حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی اپیل پر کی گئی۔ مختلف دیگر علیحدگی پسند جماعتوں بشمول تنظیم آزادی نے بھی اس ہڑتال کی اپیل کی تائید کی تھی۔ ہڑتال کی وجہ سے سیول لائنز کے گاؤ کدل، مائسمہ، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ، بڈشاہ چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، ککر بازار اور تاریخی لال چوک میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سرکاری و نجی دفاتر میں کام کاج متاثر رہا۔ تاہم ٹریفک کی نقل وحمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ اس کے علاوہ شہر کے دیگر حصوں میں معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری رہے ۔ سبھی علیحدگی پسند جماعتوں نے سانحہ گاؤ کدل کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عام شہریوں کی ہلاکت میں ملوث سیکورٹی فورسز کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا نیشنل کانفرنس نے سانحہ گاؤ کدل اور دیگر سانحات کیلئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سرپرست مفتی محمد سعید کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ جماعت کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفے ٰ کمال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کے لوگ کے دلوں میں گاؤکدل ، بجبہاڑہ، ہندوارہ، کپوارہ، صفاکدل ، ٹنگہ پورہ ، حول اور ایسے ہی درجنوں قتل عاموں کے زخم ہمیشہ تازہ رہیں گے اور یہاں کے عوام مفتی محمد سعید اور جگموہن کی ساجھیداری میں ہوئے بے گناہوں کے قتل عام، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور نوجوانوں کی نسل کشی کو کبھی بھی نہیں بھول سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والے کتنے ہی جمہوریت ، تبدیلی اور عوام دوستی کے جھوٹے نعرے بلند کریں لیکن ان کا ماضی جمہوریت کی بیخ کنی، کشمیر دشمنی اور بے گناہوں کے خون سے پُر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے سربراہ نے ریاستی کانگریس کا صدر رہ کر ریاست جموں وکشمیر میں بار بار جمہوریت کی بیخ کنی کرکے سیاسی بحران لائے ،یہاں 5مرتبہ گورنر راج کیلئے راہ ہموار کی اور جب یہی شخص مرکزی ہوم منسٹری پر براجمان ہوا تو اس نے جگموہن کو یہاں کا گورنر نامزد کرکے ایسا انتظام چلایا جس سے چنگیزیت بھی شرمسار ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ 25برس قبل 19جنوری 1990کو مفتی سعید نے جان بوجھ قاتل جگموہن کو جموں وکشمیر کا گورنر بنا ڈالا، جبکہ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید سے بار بار تاکید کی کہ جگموہن کو جموں وکشمیر کا گورنر نامزد نہ کریں کیونکہ ڈاکٹر صاحب جگموہن کی مسلم دشمن چہرے سے بخوبی واقف تھے ۔ لیکن مفتی محمد سعید نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جگموہن کو ہی یہاں کا گورنر بنایا ، جس پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے احتجاجاً وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کو لات مار دی اور مستعفی ہوگئے ۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی جگموہن نے عہدہ سنبھالتے ہی دور درشن پر کشمیری قوم کیخلاف کھلے عام صاف الفاظ میں اعلان جنگ کیا اور اگلے ہی روز یعنی 21جنوری 1990کو گاؤکدل میں معصوم اور بے گناہ لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرا کے اس بات کا صاف اشارہ دے دیا کہ مفتی نے اسے کس کام کیلئے یہاں تعینات کیا تھا۔ اور پھر 25جنوری کو ہندوارہ اور 27جنوری کو کپوارہ میں ایسے ہی بے گناہوں کا قتل عام کیا اور کشمیریوں کا خون بہانا مفتی اور جگموہن کیلئے معمول بن گیا۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ 25برس گزر جانے کے باوجود بھی گاؤکدل جیسے قتل عاموں کے زخم یہاں کے لوگوں کے دلوں میں ہرے ہیں اور وہ اس بات سے بھی باخبر ہیں کہ یہ سب کچھ مفتی سعید کے ایما پر ہورہا تھا۔ مفتی سعید دلی میں کرسی کو سینے سے لگائے کشمیریوں کے دشموں سے ڈکٹیشن لے کر جگموہن کو اس پر عمل کرنے کا فرمان جاری کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ شمال سے لیکر جنوب اور مشرق سے لیکر مغرب تک جموں وکشمیر میں خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی، جس سے انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے ۔ وقت دبے پاؤں گزر گیا، 25برس بیت گئے ، لیکن کشمیریوں کے یہ زخم آج بھی تر و تازہ ہیں۔ افسوس کہ کشمیریوں کی سسکیاں ،چیخ و پکار اور آہ و زاری مفتی کے کانوں تک نہ پہنچی اورنہ ہی پی ڈی پی میں شامل اُس کے کسی اور ساتھی تک۔ ظالم نہایت اطمینان اور طنطنے سے کھلے عام دندناتے پھر رہے تھے ،عوام کو تاریکیوں میں دھکیلا جارہا تھا۔
، انسانی حقوق کی پامالیوں کے تمام ریکارڈ مات ہورہے تھے اور آج کشمیریوں سے ہمدردی جتلانے والوں کے سرپرست دلی میں بیٹھ کر ان انسانیت سوز کارناموں کے عیوض اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے ۔یہی لوگ آج خود کو دودھ کے دھلے جتلاتے پھر رہے ہیں اورلوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کیلئے نت نئے نغمے سناتے پھر رہے ہیں، لیکن ان کے ہاتھوں پر لگے کشمیریوں کے خون کو ہر گز مٹایا نہیں جاسکتا۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جگموہن اور مفتی کی جوڑی نے ہی ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری سے پنڈتوں کو نکالا جن میں سے بیشتر آج بھی بیرونِ وادی در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment