Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:37 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

BUSINESS NEWS   

آسام کو سیلاب کی وجہ سے ہر سال 200کروڑ کا نقصان

آسام کو سیلاب کی وجہ سے ہر سال 200کروڑ کا نقصان

 

گوہاٹی ،20اگست (آئی این ایس انڈیا )ہر سال تباہی مچانے والے سیلاب کی وجہ سے آسام کو اوسطا 200کروڑ روپے کا نقصان ہر سال اٹھانا پڑ رہا ہے۔حکومت نے ریاست کے 40فیصد علاقے کو سیلاب کے لحاظ سے حساس قرار دیا ہے۔اسمبلی میں چل رہے بجٹ اجلاس میں 2013-14 کیلئے آسام کا اقتصادی سروے پیش کیا گیا،اس اقتصادی سروے کے مطابق، آسام میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والا سالانہ نقصان تقریبا 200کروڑ روپے ہے اور سال 1998میں ہوا نقصان تقریبا 500کروڑ روپے تھا۔اس دستاویز میں کہا گیا کہ سال 2004 کے دوران یہ نقصان تقریبا 771کروڑ روپے تھا۔اس سروے میں بتا یا گیا ہے کہ ریاست میں سیلاب کے لحاظ سے حساس علاقہ ریاست کی کل زمین کا ایک چوتھائی ہے،اس سر وے میں کہا گیاکہ قومی سیلاب کمیشن کے تخمینہ کے مطابق، ریاست میں سیلاب کے لحاظ سے حساس علاقہ 31،500 مربع کلومیٹر ہے۔یہ علاقہ آسام میں کل زمین کا تقریبا 39.58 فیصد ہے ،یہ پورے ملک میں سیلاب کے لحاظ سے حساس کل علاقے کا تقریبا 9.4 فیصد ہے۔سروے میں کہا گیا کہ ہندوستا ن میں سیلاب کے لحاظ سے حساس علاقہ ملک کے کل رقبہ کا تقریبا 10.2 فیصد ہے۔ اس سروے میں کہا گیاکہ آسام میں اوسطا 9.31 لاکھ ہیکٹر علاقے سالانہ سیلاب سے متاثر ہوتا ہے۔ریاست میں سیلاب سے محفوظ علاقے ابھی تک 16،500 مربع کلومیٹر یعنی 16.5 لاکھ ہیکٹر ہے۔اس کے علاوہ زمین کے کھسکنے کے مسئلہ بھی اضافہ ہوا ہے۔اوسطا ہر سال کھسکنے والی زمین کی اوسط شرح 8 ہزار ہیکٹر ہے۔سال 1950 کے بعد سے اب تک کل 4.27 لاکھ ہیکٹر زمین پانی کے ساتھ بہہ چکی ہے۔سروے میں کہا گیا کہ آزادی کے بعد آسام میں سال 1954، 1962، 1972، 1977، 1984، 1988، 1998، 2002 اور 2004 میں بھاری سیلاب آیا ۔ریاست کے سامنے بار بار آنے والے اس مسئلہ کی بنیادی وجہ دو بڑی ندیاں برہمپتر اور براک ہیں ، ان کے علا وہ 48 چھو ٹی چھو ٹی اور ذیلی ندیاں بھی ہیں۔

...


Advertisment

Advertisment