Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 11:36 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

BUSINESS NEWS   

جاپان اقتصادی کساد بازاری کا شکار

جاپان اقتصادی کساد بازاری کا شکار

 

ٹوکیو،17نومبر(آئی این ایس انڈیا)دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت جاپان سال رواں کی تیسری سہ ماہی کے دوران اپنی اقتصادی کارکردگی میں غیر متوقع کمی کے نتیجے میں کساد بازاری کا شکار ہو گیا ہے۔ یوں عالمی معیشت میں ممکنہ بہتری بھی شبہات کا شکار ہو گئی ہے۔ٹوکیو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جاپانی حکومت نے آج پیر کے روز ملکی معیشت میں کساد بازاری کی تصدیق کر دی۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ جاپانی معیشت کی کارکردگی میں اس اچانک تنزلی کا سبب سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے نتیجے میں ہاؤسنگ اور بزنس کے شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں کمی بنی۔سرکاری اعدا د و شمار کے مطابق اس سال جولائی سے لے کر ستمبر تک کی سہ ماہی میں جاپانی معیشت کی کارکردگی میں 1.6 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ اس غیر متوقع کمی کے برعکس حکومت نے پیش گوئی یہ کی تھی کہ اپریل سے لے کر جون تک دوسری سہ ماہی کے دوران قومی معیشت کا حجم اچھا خاصا سکڑ جانے کے بعد تیسری سہ ماہی میں دوبارہ اقتصادی ترقی دیکھنے میں آئے گی۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے ٹوکیو حکومت کے آج کے بیانات کے بعد اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین میں بھی اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے جبکہ یورپی یونین کے 18 ملکی یورو زون میں بھی سال رواں کی تیسری سہ ماہی کے دوران صرف 0.2 فیصد کی شرح سے ترقی ریکاڑد کی گئی جو بہت کم تھی۔ایسے میں امریکا اور چین کے بعد تیسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت جاپان کے کساد بازاری کا شکار ہو جانے نے عالمی معیشت میں بہتری کے بچے کھچے امکانات کو بھی شکوک و شبہات کا شکار بنا دیا ہے۔جاپانی وزارت اقتصادیات کا کہنا ہے کہ 2014ء کی تیسری سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار سے متعلق تازہ ترین ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ اس عرصے کے دوران صارفین، صنعتی مصنوعات تیار کرنے والے اداروں اور تعمیراتی شعبے کی طلب میں کمی ہوئی۔ اس کا یقینی طور پر بڑا سبب یہ ہے کہ ملک میں سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے سے قبل عام صارفین اور کاروباری اور پیداواری اداروں نے کافی زیادہ رقوم خرچ کی تھیں۔جاپانی حکومت نے اس سال اپریل میں سیلز ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے بڑھا کر آٹھ فیصد کر دی تھی اور اس کے بعد سے ملک میں عام شہریوں اور قومی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے والے اداروں کی طرف سے اشیاء اور سروسز کی خریداری سے پرہیز اور مالی وسائل کے کم تر استعمال کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔RSBجاپان سکیوریٹیز کے ماہر اقتصادیات جُنکو نیشی اوکا کے بقول سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے اثرات حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ شدید رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی شرح میں تین فیصد اضافے نے ملکی معیشت پر کساد بازاری مسلط کر دی ہے۔

 

...


Advertisment

Advertisment