Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 08:53 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

BUSINESS NEWS   

یوکرائن کو روسی گیس کی سپلائی، سہ فریقی معاہدہ طے

 

کییف 31اکتوبر(آئی این این ایس انڈیا)یوکرائن کو روسی قدرتی گیس کی سپلائی بحال کرنے سے متعلق یوکرائن، روس اور یورپی یونین کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس پر گزشتہ روز برسلز میں دستخط کیے گئے۔یوکرائن کو موسم سرما کے دوران روس کی طرف سے قدرتی گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے یورپی یونین کی ثالثی میں کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد جمعرات کو رات گئے، ایک معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں پچھلے دو روز سے جاری مذاکرات کے تازہ دور کے بعد اس سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔بعد ازاں سبکدوش ہونے والے یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانوئیل باروسو نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ اس پیش رفت میں سیاسی ذمہ داری، تعاون اور اقتصادیات پر مبنی فیصلہ کیا گیا۔ باروسو ہی کی نگرانی میں یوکرائنی و روسی اہکاروں نے ڈیل پر دستخط کیے۔یہ امر اہم ہے کہ روس نے کئی بلین ڈالر واجبات کی ادائیگی سے منسلک ایک تنازعے کے سبب رواں برس جون سے یوکرائن کو گیس فروخت نہیں کی ہے۔ یورپی یونین اس حوالے سے تشویش کا شکار تھی کہ تنازعے کے سبب بر اعظم یورپ کو موسم سرما میں گیس کے سپلائی متاثر نہ ہو۔ یورپ کے اکثریتی حصے کا روسی گیس پر کافی دار و مدار ہے۔مارچ 2015ء کے اواخر تک کے لیے طے شدہ اس ڈیل کے تحت کییف حکومت ماسکو حکومت کو آئندہ چند ایام میں 1.45 بلین ڈالر ادا کرے گی جبکہ مزید 1.65 بلین ڈالر کے واجبات سال رواں کے اختتام تک ادا کیے جانے ہیں۔ بعد ازاں ماسکو حکومت ایک حکم نامے کے ذریعے گیس کی قیمتوں میں ایک سو ڈالر کی کٹوتی کرے گی۔ یہ بات یورپی یونین کے کمشنر برائے توانائی گوئنتھر اوئیٹینگر نے بتائی۔یوکرائنی وزیر اعظم آرسینی یاٹسینی یُک نے بتایا کہ معاہدے کے تحت یوکرائن رواں برس کے اختتام تک فی ایک ہزار کیوبک میٹر گیس کے لیے 378 ڈالر ادا کرے گا جبکہ 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں 365 ڈالر ادا کیے جائیں گے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ کییف کو آئندہ کی ترسیلات کے لیے فوری طور پر رقم ادا کرنا ہو گی اور اطلاع ہے کہ یوکرائن اگلے دو ماہ میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے بدلے چار بلین کیوبک میٹر گیس خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس موقع پر گوئنتھر اوئیٹینگر نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین اس حوالے سے کوئی گارنٹی فراہم نہیں کر رہی کہ یوکرائن ادائیگیاں کرے گا تاہم بلاک 2015ء میں کییف کی مالی امداد کے لیے ایک منصوبے پر غور کر رہا ہے، جس کی بدولت آئندہ برس فروری اور مارچ میں ادائیگیاں ممکن ہو سکیں گی۔دریں اثناء فرانسیسی اور جرمن اعلی قیادت نے جمعرات و جمعے کی درمیانی رات جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین ڈیل پر عمل در آمد کے سلسلے میں اپنا کردار بخوبی ادا کرے گی۔ فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو سے بات چیت کی اور چاروں رہنماؤں نے مذاکرات کے نتیجے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ثالثی کے لیے یورپی یونین کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

...


Advertisment

Advertisment