Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 11:08 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

BUSINESS NEWS   

داعش کےخلاف جنگ : امریکی معیشت کو یومیہ 3.8 ملین ڈالر کاخسارہ

داعش کےخلاف جنگ : امریکی معیشت کو یومیہ 3.8 ملین ڈالر کاخسارہ

 

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کے ساتھ داعش کی کوبانی میں بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں سے نگرانی،داعش کے آن لائن مقابلہ کیلئے اتحاد بنایا جائے گا،داعش مخالف اتحاد کے رابطہ کار جان ایلن کی کویت میں ملاقاتیں

واشنگٹن،28اکتوبر،ایجنسیاں:امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے کہا ہے کہ شام اور عراق میں سرگرم عسکریت پسند گروپ دولت اسلامی’داعش‘ کے خلاف فضائی حملوں میں یومیہ آٹھ اعشاریہ تین ملین ڈالر کے اخراجات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔وزارت دفاع کے ترجمان کمانڈر بیل اوربان نے بتایا کہ آٹھ اگست سے دولت اسلامی کے خلاف جاری فضائی حملوں میں اب تک 580 ملین ڈالرز کی رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ خیال رہے کہ پینٹاگان نے قبل ازیں داعش کے خلاف یومیہ جنگ کے اخراجات سات ملین ڈالر بتائے تھے۔ وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ داعش مخالف لڑائی میں پچھلے چند ہفتوں کے دوران یومیہ سات ملین ڈالر کی رقم خرچ ہوتی رہی ہے۔آزاد مبصرین کے خیال میں امریکی وزارت دفاع کے اعلانیہ تخمینے کو اصل اخراجات سے بہت کم قرار دیا ہے۔ امریکی دفاعی و بجٹ تجزیہ نگار ٹوڈ ھیڈرسن کا کہنا ہے کہ امریکا کو داعش کے خلاف سالانہ 2 اعشاریہ 4 سے 3 اعشاریہ 8 ارب ڈالر کی رقم خرچ کرنا پڑے گی۔اپنی ایک رپورٹ میں ہیڈرسن کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے داعش کے خلاف جنگ میں توسیع کی تو پینٹاگان کو سالانہ 4 اعشاریہ 2 سے 6 اعشاریہ 8 ارب ڈالر کے اخراجات اٹھانا پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں ڈرون طیاروں کی پروازوں پر بھی اندازے سے زیادہ اخراجات اٹھانا پڑیں گے۔ مثال کے طور پر بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے ’بریڈائیٹور‘ اور ’ریپر‘ کی ایک پرواز فی گھنٹہ 1000 ڈالر میں پڑے گی جبکہ’گلوبل ہاک‘ طیاروں کی پرواز فی گھنٹہ 7000 ڈالر سے بھی زیادہ رہے گی۔دوسری جانب شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’داعش‘ نے ترکی کی سرحد سے متصل شام کے کرد اکثریتی علاقے کوبانی میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کے ساتھ بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی مدد سے شہر کی نگرانی بھی شروع کر دی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دولت اسلامی نے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے بھی حاصل کر لیے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق’داعش‘ کی جانب سے ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی ہے جس میں ویڈیو کیمرے کی مدد سے ڈرون طیارے کی دوران پرواز فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے۔ فوٹیج میں کوبانی میں جاری لڑائی کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ’داعش‘کے جنگجووں نے کوبانی کا عرب نام ’عین العرب‘ تبدیل کر کے’عین الاسلام‘رکھا ہے اور ساڑھے پانچ منٹ کی فوٹیج کو ’عین الاسلام کا اندرونی‘ منظر عنوان دیا گیا ہے۔ویڈیو فوٹیج میں زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ شہر میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں میں ہونے والی تباہی کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ویڈیو فوٹیج میں جون کانٹلی نامی ایک یرغمالی کو بھی دکھایا گیا ہے۔

دریں اثناءامریکا نے انٹرنیٹ پر جہادیوں کی بڑھتی ہوئی موثر سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لیے بھی مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔ امریکا نے اس شعبے میں بھی اتحاد کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے کہا ہے۔داعش مخالف مہم کے لیے اتحادیوں کے درمیان رابطہ کاری کے ذمہ دار سابق امریکی جرنیل جان ایلن نے اس امر کا اظہار کویت سٹی میں داعش مخالف حکمت عملی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔جان ایلن نے کہاکہ داعش اپنی خوفناک طرز کی جنگ کو آن لائن فروغ دے رہا ہے، اس راستے سے اسے اپنی بھرتیاں کرنے کے علاوہ معصوم ذہنوں پر اثر انداز ہونے کا موقع میسر ہے۔''داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر بھی اس کے جائز ہونے کی تردید کی جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ نوجوانوں کے لیے یہ خطرناک ہے، یہ تبھی ممکن ہے جب اس کو حقیقی معنوں میں شکست دی جائے۔جان ایلن اپنے موجودہ دورے کے دوران بحرین، برطانیہ، مصر، فرانس، عراق، اردن، لبنان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ امارات کے متعلقہ ذمہ داروں اور دوسری اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ان ملاقاتو ں میں انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ داعش کو عسکریت پسندوں کی بھرتیاں روکنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔اس موقع پر امریکا کے انڈر سیکرٹری برائے سفارتی امور رچرڈ سٹینگل نے اخبار نویسوں کو بتایا جنرل جان ایلن کی کویت میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد ایک ایسے اتحاد کی بھی تشکیل کرنا ہے جو عسکری اتحاد کے علاوہ اطلاعات کے حصول اور تبادلے کے حوالے سے بھی ہو۔ رچرڈ سٹینگل نے مزید کہاکہ ہمارے خیال میں داعش کی کشش میں کمی آ رہی ہے۔ واضح رہے عراق اور شام کے متعدد علاقوں پر قبضہ کر کے خلافت کا اعلان کرنے والی داعش کی مقبولیت کی مغربی ممالک میں روک تھام کی جا رہی ہے۔ان ممالک میں داعش کے لیے فنڈ ریزنگ کے علاوہ اس میں شمولیت کے لیے جانے والوں کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ مغربی ملکوں کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کی داعش کی طرف جانے کے لیے ہمہ جہتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔تاہم اتحادی ملکوں کی بمباری کے باوجود داعش کو کسی اہم علاقے سے پسپا کرنا ممکن نہیں ہوا ہے، البتہ بعض کم اہم علاقے اس کے قبضے سے واپس لے لیے گئے ہیں۔

...


Advertisment

Advertisment