Today: Wednesday, September, 20, 2017 Last Update: 11:36 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

کانگریس پر مسلمانوں کا حق ہے ،پارٹی نے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا

کانگریس پر مسلمانوں کا حق ہے ،پارٹی نے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا

 

دارالحکومت دہلی میں نئی توانائی کیساتھ کانگریس کریگی واپسی ، ہمارے 15سالہ دوراقتدار کو یاد کررہے ہیں لوگ ، بی جے پی اور اس کی بی ٹیم ’آپ‘کے وعدوں اور نعروں کو نہیں سمجھ سکے تھے عوام، مگر اب سبق سکھانے کو تیار ،  سینئر لیڈر، سابق وزیر اور بلیماران کے امیدوار ہارون یوسف سے سیاسی تقدیر کے چیف رپورٹرنثاراحمدخان کا خصوصی انٹرویو
 

دہلی اسمبلی کے پہلے انتخابی مرحلے نے دہلی والوں کو نہ صرف اپنے کام کروانے کیلئے نمائندوں کے انتخاب کرنے کا حق دیا تھا بلکہ دہلی کی ترقی کی ضمانت بھی دے ڈالی تھی۔ پہلے اسمبلی انتخابات کے بعد بہت ہی عمدہ اور مضبوط وبیباک لیڈر شپ دہلی والوں کو ملی جس میں پرانی دہلی کے بلیماران اسمبلی حلقہ سے ہارون یوسف جیسی شخصیت نکل کر سامنے آئی۔ ہارون یوسف نے نہ صرف اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل کو حل کیا بلکہ کبھی وزیر ٹرانسپورٹ رہے توکبھی محکمہ توانائی جیسے اہم محکمہ کو سنبھالا۔ یہی نہیں وزیربرائے خوراک و رسدرہتے ہوئے غریبوں کو کھانے کا حق فراہم کرنے کیلئے ’ان شری اسکیم‘ کو بھی منظوری دلائی۔ چہرے مہرے سے شائستہ مزاجی کا مظہر ثابت ہونے والے نوجوان کانگریسی لیڈرہارون یوسف کو سماجی خدمات کا شو ق یوں توطالب علمی کے زمانے سے ہی رہا ہے، مگر1993کے پہلے اسمبلی انتخابات میں بلیماران اسمبلی حلقہ کے لوگوں نے جب ایک بار انہیں اپنا لیڈر منتخب کر لیا تو اس کے بعد نہ توانہوں نے پیچھے مڑکر دیکھا اورنہ ہی کبھی ان کے حلقے کے لوگوں کو کسی اور کو ان پر ترجیح دی۔ اس طرح سے ہارون یوسف نے مسلسل پانچویں بار بلیماران کی نمائندگی کی ہے اور چھٹی اننگ کھیلنے کانگریس نے ایک بار پھرامیدوار بنایا ہے۔ ہارون یوسف اپنے حلقہ کے لوگوں پر فخر بھی کرتے ہیں، بلیماران کے عوام کے تعلق سے مسٹریوسف کا کہنا ہے کہ ہر الیکشن میں بی جے پی اور فرقہ پرست طاقتوں کے اشاروں میں میرے خلاف سیکولر اور بالخصوص مسلم ووٹوں کی تقسیم کیلئے درجنوں امیدوار کھڑے کئے جاتے ہیں، مگر میرے حلقہ کے لوگ کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور انتھائی دانشمندی کی مثال پیش کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو شکست دیتے رہے ہیں۔ ہارون یوسف نے بھی دہلی والوں کیلئے سماجی کام
کرنے میں را ت دن ایک کر دیئے۔ گذشتہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس کیخلاف چلنے والی ’سنامی‘ میں بھی وہ جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور کانگریس جب اقتدار سے بے دخل ہوئی تب پارٹی ہائی کمان نے ان کی صلاحیتوں کااعتراف کیا اور اسمبلی میں انہیں اپنا لیڈر منتخب کیا۔ شیلادکشت سرکار کے ’نو رتنوں‘ میں شمار کئے جانے والے ہارون یوسف سے روزنامہ ’’سیاسی تقدیر‘‘ کے چیف رپورٹر نثار احمد خاں نے تفصیلی گفتگو
کی۔قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش ہیں چند مگر اہم سوال وجواب۔
 

بلیماران کے غریبوں کے ہمدرد اور مسیحاہیں ہارون یوسف

اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد ’سیاسی تقدیر‘ سے گفتگو کے دوران مقامی لوگوں نے ظاہر کیااطمینان، ہارون یوسف کو ایک بار پھر عوامی نمائندہ منتخب کرکے کانگریس کا سرکار بنانے کا عزم
 

سوال -ہارون یوسف صاحب!موجودہ اسمبلی الیکشن کیلئے کانگریس کی کیا تیاریاں ہیں؟
جواب: کانگریس کوئی نئی پارٹی نہیں ہے اورپارٹی نے کبھی سوچ، اصول اور نظریہ سے سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مذہبی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازکیابلکہ ہرخطے، ہرطبقے اور ہر مذہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلی اور سب کی ترقی کو یقینی بنایاہے، اس نے ملک کیلئے قربانیاں بھی دی ہیں۔ کانگریس نے سائنس اینڈٹکنالوجی اور موڈرنائزیشن کیلئے جب کام کرنا شروع کیا توآرایس ایس کے لوگوں نے زبردست مخالفت کی، مگر آج ٹکنالوجی کے زمانے میں ہندوستان نے زبردست ترقی کی ہے اور یہ خواب کانگریس رہنما وسابق وزیراعظم جناب راجیوگاندھی نے دیکھاتھا۔ چنانچہ ملک کی بقاء اورترقی کانگریس کی اولین ترجیح رہی ہے اور کانگریس آگے بھی اسے بڑھاتی رہے گی۔
سوال -گذشتہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو کن وجوہات کی بناء پر شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑاتھا؟
جواب-کانگریس نے گذشتہ 15برسوں میں دہلی کی زبردست ترقی کی تھی، لیکن بی جے پی وعام آدمی پارٹی نے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے پروپیگنڈہ کیا، جس سے ہمارے خلاف ایک ماحول پیداہوگیا۔ ’آپ‘ نے 50فیصد اوربی جے پی نے 30فیصد بجلی کی قیمتوں میں کٹوتی کرنے کااعلان کیا، مگر جب اروند کجریوال کو سرکار بنانے کاموقع ملا تو انہوں نے صرف تین مہینے کیلئے سبسڈی دینے کااعلان کیا جبکہ کانگریس بھی پہلے سبسڈی دے رہی تھی، یہی نہیں وہ صرف 49دن میں سرکار چھوڑ کر بھاگ گئے اور دہلی کے لوگوں کو دھوکہ دیا۔ جس کی وجہ سے گذشتہ ایک سال میں ترقیاتی کام، انفراسٹرکچر اور غریبوں وکمزوروں کیلئے بنائی گئی فلاحی اسکیمیں ٹھپ پڑی ہیں۔ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں پر دھوکہ دیاجارہا ہے۔ دودھ، سبزی، آلو،پیاز اور دیگرضروری اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دال کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں، مگر عوام سے مہنگائی کم کرنے کے نام پر اقتدار میں آنے والی پارٹی مذہبی بنیاد پرسماج کو تقسیم کرنے میں مصروف ہے۔
سوال: گذشتہ اسمبلی الیکشن میں شکست سے کانگریس نے کیا نصیحت حاصل کی؟
جواب: سب سے پہلے تو ہم نے عوام کے فیصلوں کو سرجھکا کر تسلیم کیا اور آگے بھی ہمیں عوام سے امیدیں ہیں کہ وہ کانگریس کے ذریعہ کئے گئے ترقیاتی وفلاحی کاموں کی بنیاد پر اسے اقتدار میں واپس لائیں گے اور جن لوگوں نے گمراہ کیاہے انہیں سبق سکھائیں گے۔
سوال: آئندہ الیکشن کیلئے کانگریس نے موجودہ حالات سے نمٹنے کیلئے کیا حکمت عملی تیار کی ہے؟
جواب- دیکھئے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سب کچھ عوام کے سامنے ہے۔گذشتہ ایک برسوں میں جس طرح سے دہلی کی ترقی ٹھپ ہو گئی اور بیواؤں، بزرگوں اور معذوروں کو پنشن تک نہیں مل پارہے ہیں، راشن کارڈ کیلئے کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اس سے لوگوں میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے تئیں سخت ناراضگی ہے۔ کانگریس نے عوام کے ہرمسائل کو مضبوطی کیساتھ اٹھایا بھی ہے اور آگے بھی کانگریس عوامی ایشوز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ گذشتہ ایک سال میں کانگریس نے بجلی اور پانی کی کٹوتی کیخلاف سڑک پراترتے رہے ہیں، جھگی جھونپڑی کو منہدم کئے جانے کیلئے پارٹی لیڈران اور نائب صدرمسٹر راہل گاندھی نے بھی احتجاج کیاہے ۔ اس کے علاوہ دیگر ایشوز پر ہم لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر، چیف سکریٹری، پولس کمشنر وغیرہ سے ملاقات کرکے مسائل کو حل کرانے کیلئے احتجاج کرتے ہوئے چکّاجام بھی کیاہے۔مطلب یہ کہ کانگریس نے عوامی مسائل پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا اورگمراہ کرنے والوں کو بے نقاب کیا ہے اور ہم عوام کے درمیان ایک بار پھر جارہے ہیں۔ ہمیں امیدہے کہ عوام ان لوگوں کوضرور سبق سکھائیں گے، جنہوں نے دہلی کو فرقہ پرست بی جے پی کی گود میں ڈال دیا اور راجدھانی میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ چنانچہ کانگریس کو اقتدار میں واپس لائیں گے۔
کانگریس کی کارکردگی کے مدنظرکانگریس کو اقتدارمیں واپس لائیں گے۔
سوال-کیا آپ کولگتا ہے کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے سبب گذشتہ الیکشن میں کانگریس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: ہاں! یہ بات بالکل درست ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم بڑی وجہ بنی۔ وہیں بی جے پی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے جوہتھکنڈے اور پروپیگنڈے اپنائے گئے اس کے بہکاوے میں بھی لوگ آگئے۔ مگر یہ چیزیں دیرتک باقی نہیں رہتی ہیں بلکہ وہ تھوڑے دنوں میں بے نقاب ہوجاتی ہیں اور اب بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں بے نقاب ہوگئی ہیں۔ چنانچہ ملک کی سالمیت کو برقراررکھنے کیلئے سیکولرعوام کو کانگریس کو مضبوط کرناچاہئے تاکہ فرقہ پرست اپنے مقصد میں ناکام ہوجائیں۔
سوال: عام آدمی پارٹی مسلسل مقابلہ بی جے پی کیساتھ بتا رہی ہے، اس پر آپ کاکیاخیال ہے؟
جواب:گذشتہ اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی نے جھوٹے وعدے کئے تھے، مگر جب عوام نے ان پر بھروسہ کیا تو مدعوں کی بنیاد پر کانگریس نے بلاشرط حمایت دی، مگر وہ عوام کو چھوڑ کربھاگ گئے۔ اس سے بھی عوام کو عام آدمی پارٹی کی سنجیدگی کااندازہ ہوگیاہے اور اب لوگ ان کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ دہلی میں کانگریس کاسیدھا مقابلہ بی جے پی سے ہوگا۔ اروند کجریوال احساس کمتری کا شکار ہوگئے ہیں، اس لئے ایسی باتیں کررہے ہیں۔
سوال: کانگریس کے ذریعہ عام آدمی پارٹی کو بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ بتایا جارہا ہے، آخرکیوں؟
جواب: دیکھئے! اروند کجریوال اور ان کی پارٹی اقلیتوں کے ایشوز پر کبھی کھل کر نہیں بولتی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ، ساکشی مہاراج، پروین توگڑیا، اشوک سنگھل جیسے فرقہ پرستوں کے بیانات پر وہ خاموش رہتے ہیں۔ترلوک پوری اور بوانہ کے واقعہ میں ان کا کیا رول رہا ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ ترلوک پوری کے ممبراسمبلی کو ایک بار پھر امیدوار بنادیا گیاہے، اقلیتی سیل بنائے جانے پر افسوس اور ناراضگی کااظہار کیاجارہا ہے۔ آخر بی جے پی سے ان کی کیاساز باز ہے، کہ وہ کھل کر سامنے نہیں آتے۔ اس کے علاوہ بھی یہ بات ہمیں سمجھنی چاہئے کہ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کو پیدا کیاہے تاکہ سیکولرووٹوں کی تقسیم ہو اور بی جے پی کوکامیابی سے ہمکنار کیاجائے۔ دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی سے نکلنے والا ہر لیڈر بی جے پی کی پناہ حاصل کرتا ہے، اس سے لگتا ہے کہ میچ فکسنگ ہورہی ہے اور اروند کجریوال خود نریندر مودی کے سہارے اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
سوال: گذشتہ دنوں دہلی میں بھی فرقہ وارانہ ماحول پیداہوا، جس کیلئے آپ کسے قصور وار مانتے ہیں؟
جواب: راجدھانی دہلی میں 15برسوں تک کانگریس برسراقتدار رہی ہے اور یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی کی کوئی مثال تک نہیں ملتی ہے۔۔۔(باقی صفحہ7پر)
مگر ترلوک پوری، بوانہ، مدن پور کھادر اور نورالٰہی وغیرہ میں مظفر نگر جیسے حالات پیدا کرنے کیلئے بی جے پی نے پوری کوشش کی، مگر یہاں کے ہندو-مسلم اتحاد نے اسے ناکام بنادیا۔ فرقہ وارانہ فسادات بی جے پی کوبہت راس آتے ہیں، اس لئے وہ فساد کرانے کیلئے تیار رہتی ہے، مگر اب عام آدمی پارٹی بھی اس میں شامل ہوگئی ہے کیونکہ اس کا رول بھی غیرواضح ہے اور ترلوک پوری میں اپنے ممبراسمبلی کو ایک بار پھر امیدوار بنادیا ہے،مگر جب مسلمانوں کو نقصان پہنچایاجارہا تھا تب اس نے اپنا فرض ادا نہیں کیا۔کجریوال اور ان کے لیڈران کارول جو رہا ہے، اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔
سوال : مسلمانوں کے ذہن میں کانگریس کے تئیں ناراضگی پائی جارہی ہے، پارٹی اس کا سامناکیسے کرے گی؟
جواب:کانگریس نے کبھی مسلمانوں کو نظرانداز نہیں کیاہے۔ کانگریس سبھی طبقات اور سبھی مذاہب کے لوگوں کو ایک ساتھ لے کر چلتی ہے اور آگے بھی کانگریس سیکولرازم کو بچانے، فرقہ پرستوں کواقتدار سے بے دخل کرنے اور ملک کی گنگاجمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی۔ کانگریس نے مسلمانوں کے مسائل کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے اور وہ آگے بھی اپنی ذمہ داری اٹھاتی رہے گی۔ ایک مسلم لیڈر ہونے کے ناطے مجھے کبھی اپنی بات پارٹی پلیٹ فارم پر رکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے، یہاں ہربات غور سے سنی جاتی ہے۔
سوال: گذشتہ اسمبلی الیکشن کے دوران برے حالات میں بھی مسلمانوں نے کانگریس کا ساتھ نہیں چھوڑا، کیااس بار انتخابی منشورمیں مسلمانوں کے تعلق سے کوئی مثبت اعلان کیاجائے گا؟
جواب: کانگریس اپنے منشور میں ایسے وعدے کرتی ہے جوپورا کیاجاسکے۔ دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح جھوٹ اور فریب پر مبنی وعدے نہیں کرتی ہے۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی نے نصیحت کی ہے کہ جھوٹے وعدے منشور میں ہرگز نہ شامل کئے جائیں کیونکہ پارٹی اپنے انتخابی منشور کو مذہبی کتاب کی طرح مانتی ہے۔ ہمارے لئے انتخابی منشور اسی طرح ہیں جیسے ہمارے لئے قرآن، گیتا،بائبل اور دوسری مذہبی کتابیں ہیں۔ میں آپ کے توسط سے یہ کہنا چاہوں گا کہ کانگریس پر مسلمانوں کا حق ہے کیونکہ ہردور میں انہوں نے کانگریس کا ساتھ دیاہے۔
میڈیا رپورٹ اور سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ایک ایسی رپورٹ سامنے آرہی ہے جسے منفی رپورٹنگ کانام دیاجانے لگاہے کیونکہ ان رپورٹ میں کانگریس کو انتہائی کمزور بتایاجارہا ہے جبکہ عوام کا کہناہے کہ کانگریس دہلی میں واپسی کرے گی اور ایک بار پھر سرکار بنائے گی۔پرانی دہلی کے بلیماران اسمبلی حلقہ جہاں سے 1993سے ہی اب تک کانگریس کے ہارون یوسف نمائندگی کرتے رہے ہیں اور چھٹی بار بھی وہ قسمت آزمانے کیلئے میدان میں ہیں۔ بلیماران کے سماجی وسیاسی شعور رکھنے والے لوگوں سے روزنامہ ’’سیاسی تقدیر‘‘ نے ایک خصوصی بات چیت کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بلیماران کے لوگ آئندہ الیکشن میں کیاچاہتے ہیں اور کس کواپنا منتخب نمائندہ دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ڈائریکٹر اور بلیماران کے سماجی کارکن شاہ فیصل کا کہناہے کہ کانگریس کے دوراقتدار میں دہلی نے زبردست ترقی کی تھی، مگر گذشتہ ایک سال میں یہاں کی ترقی رک گئی ہے، جسے کانگریس ہی پٹری پر لاسکتی ہے۔ بلیمارن اسمبلی حلقہ سے متعلق انہوں نے کہاکہ بلیماران کے لوگ ایک ایسے لیڈر کو ممبر اسمبلی منتخب کرتے رہے ہیں، جس کی پارٹی کے ساتھ ہر جگہ اپنی شناخت ہے اور وہ ہمارے ہرسکھ دکھ میں کھڑے نظرآتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہارون یوسف کو ہم لوگ اپنانمائندہ منتخب کرتے رہے ہیں جس کے بدلے میں انہوں نے عوام کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ہارون یوسف نے علاقے میں بنیادی سہولیات فراہم کرکے عوامی مسائل کو حل کیاہے۔ خاص طور پر اکثروبیشتر گلیوں میں سیورلائن ڈلوانا، ہندوستانی دواخانہ کی ری ڈیولیمنٹ اور اس میں مفت میں ایکسرے،خون کی جانچ اورمفت میں دوائیں فراہم کرانا انتہائی اہم ہے۔
بلیماران کے سابق کونسلر سید حامد خضر نے کہاکہ موجودہ حالات میں عوام بالخصوص اقلیتوں کیلئے ایک سیکولر طاقت کو مضبوط کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ کہیں لو جہاد، کبھی تبدیلی مذہب، پورے ملک کو ہندو بنانے اور کبھی ہندو بھائیوں کو 4اور 5بچے پیدا کرنے کی نصیحت جیسے بیانات سے خوف وہراس کا ماحول پیدا کیاجارہا ہے۔ اس لئے ہمیں نہ صرف بلیماران بلکہ پوری دہلی میں کانگریس کا ساتھ دینا چاہئے۔ ہارون یوسف شریف النفس اور تجربہ کار لیڈر ہیں اور ان کے سامنے جو امیدوار اب تک سامنے آئے ہیں ان سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ اگر ہم عام آدمی پارٹی کی بات کریں تو اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور اپنے اصولوں سے بھٹک گئی ہے کیونکہ اب پیسے والوں کو ٹکٹ دیئے جارہے ہیں اور ایمانداری وصاف ستھری شبیہ والوں کو درکنار کردیاگیاہے۔
بلیماران کے سابق کونسلرضمیراحمدنے کہاکہ اگر ہم بلیماران کی بات کرتے ہیں تو ہمارے لئے ہارون یوسف ایک مسیحا کی طرح نظرآتے ہیں ۔ ہارون یوسف نے صرف بلیماران کیلئے کام نہیں کیاہے بلکہ انہوں نے مختلف وزارتوں پر فائز رہتے ہوئے پوری دہلی کیلئے وہ کارنامے انجام دیئے ہیں جسے ہمیشہ یاد رکھاجائے گا، چنانچہ ہمیں اپنے اس طرح کے لیڈران کی حوصلہ افزائی کیلئے اور انہیںپاور فل‘ بنانے کیلئے مزید موقع فراہم کرنا ہوگا تاکہ وہ ہماری آواز بنتے رہیں۔ ضمیراحمدنے کہاکہ علاقے کے مسائل کو حل کرکے انہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیاہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ آگے بھی ہمارے مسائل کو حل کرتے رہیں گے۔ ضمیراحمدنے ہارون یوسف کے ذریعہ کرائے گئے بے شمارترقیاتی کاموں کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے کبھی خود کے ذریعہ کرائے گئے ترقیاتی، فلاحی وسماجی کاموں کی کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ بلیماران کے معروف سماجی وسیاسی کارکن شیخ علیم الدین اسعدینے کہاکہ ہم لوگوں نے جسے ممبراسمبلی منتخب کیا اس نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ ترقیاتی کاموں کی اگربات کریں تو گلیوں کی تعمیر، سیور لائن ڈلوانا، پانی کی پریشانی حل کرنا وغیرہ شامل ہے وہیں چشمہ بلڈنگ اور زینت محل اسکول میں فنڈلگایاگیا۔ جن غریب لوگوں کے گھروں میں بجلی کے میٹر نہیں، کیمپ لگاکرمیٹر لگوائے گئے اور اس سے بڑھ کر ہمارا لیڈر غریبوں کیلئے ہروقت موجود رہتاہے۔علیم الدین اسعدی نے کہاکہ مقامی لیڈر وسماجی کارکن اطہر لدھیانوی نے کہاکہ گذشتہ21برسوں میں بلیماران کے عوام نے ہارون یوسف کو اپنا لیڈر منتخب کیاہے کیونکہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری کیساتھ نبھایا ہے۔ اس لئے بلیماران کے لوگ ایک بار پھر ان کی ایمانداری پر بھروسہ کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو شکست سکھائیں گے۔
بلیماران کے معروف تاجر محمدطیب نے کہاکہ ہارون یوسف نے بلیماران اسمبلی حلقہ میں اتحاد قائم کرنے کیلئے جو جدوجہد کی ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سے انہوں نے کانگریس کو آگے لے جانے میں بھی اہم کردار ادا کیاہے اور کانگریس نے پوری دہلی کو ترقی یافتہ بنایا اور فرقہ پرستی ختم کرتے ہوئے راجدھانی کو سیکولر بنایا۔نبی کریم کے سماجی کارکن اور نوجوان لیڈر سلیم علی زیدی نے کہاکہ ہارون یوسف نے نبی کریم کے لوگوں کے بھروسے کو برقرار رکھتے ہوئے جو ترقیاتی کام کرائے ہیں، اسے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ نوسہارا ویلفیئرایسوسی ایشن بارہ دری کے صدرمحمدشعیب نے ہارون یوسف کے تئیں اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہ انہیں ایک بار پھر ہم لوگ اپنالیڈر منتخب کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بلیماران کے مقامی باشندہ صغیراحمدنے کہاکہ کانگریس ہی ایسی پارٹی ہے جو فرقہ پرستوں کو شکست دے سکتی ہے اور ہارون یوسف نے بلیماران کے وقار کو برقرار رکھاہے۔ بلیماران کے محمدنواب الدین، محمدمرسلین، ندیم قاضی، محمدتوحید، منہاج الدین، عبید خان، آصف خان وغیرہ ہارون یوسف کو ایک بار پھر اپنا ایم ایل اے منتخب کرتے کیلئے پرجوش نظرآئے۔

...


Advertisment

Advertisment