Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 10:44 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

موجودہ مرکزی سرکار اقلیتوں کی حامی نہیں

موجودہ مرکزی سرکار اقلیتوں کی حامی نہیں

 

ہریانہ میں بھوپیندر سنگھ ہڈا کی قیاد ت میں پھر جیتے گی کانگریس ، ممبران اسمبلی طے کریں گے اگلا وزیراعلیٰ: شکیل احمد

ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کانگریس پارٹی کے سینئرلیڈر اور دہلی ، ہریانہ سمیت متعدد ریاستوں کے انتخابی معاملوں کے انچارج اور ملک کے سابق مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ امور شکیل احمد سے روزنامہ سیاسی تقدیر کے بیورو چیف محمداحمد نے ’ہریانہ اسمبلی انتخابات اور موجودہ مرکزی حکومت امیدیں و اندیشے‘ کے تناظر میں گفتگو کی ۔ بات چیت کے کچھ اہم اقتباسات قارئین کے استفادہ کیلئے پیش خدمت ہیں ۔

س:شکیل صاحب !خبر یہ ہے کہ ہریانہ میں پارٹی کے ریاستی صدر اشوک تنور کافی ناراض ہیں ۔ کیا انکی ناراضگی کے اثرات نتائج پر مرتب نہیں ہوں گے ؟

ج: یہ بالکل بے بنیاد بات ہے ۔ اشوک تنور کسی بھی طرح سے ناراض نہیں ہیں ۔ 6لوگوں کی ایک کمیٹی ہے جو ٹکٹوں کے تقسیم کے عمل کو انجام دیتی ہے۔ وہ تین مضبوط امیدواروں کا نام سنٹرل الیکشن کمیٹی کو بھیجتی ہے جسکی سربراہ سونیا گاندھی ہیں ۔ یہ کمیٹی ٹکٹ فائنل کرتی ہے ۔A فارم پر بہ حیثیت جنرل سکریٹری میں نے دستخط کئے اورB فارم پر ریاستی صدر اشوک تنور نے ۔ انہوں نے اپنے گھر سے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے۔ پھر ناراضگی کا کیا مطلب ہے ؟ میڈیا کو غیرجانبدار اور بیحد حساس ہو کر اپنا کام کرناچاہئے ۔ ہاں ! ایک ٹکٹ سیٹ نمبر 72سے ضرور بدلا گیا ہے ،چونکہ لوگوں کی رائے تھی کہ وہ کمزرور امیدوار ہیں اور انکی جگہ ایک مضبوط امیدوار جو سابق وزیر ہیں ان کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔

س:بی جے پی کا نعرہ ہے کہ ہم’ کانگریس مکت ‘بھارت بنانا چاہتے ہیں؟

ج: امت شاہ کا یہ نعر ہ تھا ۔ کانگریس 44سیٹوں پر ضرور سمٹ گئی ، لیکن جن 11کروڑ لوگوں نے کانگریس کو ووٹ دیا ہے کیا ان کو سمند ر میں ڈبو کر امت شاہ کانگریس مکت بھارت بنانا چاہتے ہیں ۔خیال رہے کہ بھارت کے تینوں طرف سمندر ہی سمند ر ہے۔ اگر امت شاہ کانگریس مکت بھارت چاہتے ہیں تو انہیں پہلے ان 11کروڑ لوگوں کو سمندر میں ڈبونا ہوگاجنہوں نے کانگریس میں یقین ظاہر کیا ہے ۔

س: آپ ہریا نہ میں انتخابی معاملوں کے انچارج ہیں ۔ کن بنیادوں پر آپ عوام سے ووٹ مانگنے جائیں گے ؟

ج:جو کیا ہے وہ عوام کو بتائیں گے اور جو کرنا ہے عوام سے اس پر مہر لگوائیں گے۔ 2009میں جب ہم ہریانہ میں اقتدار میں آئے تھے اس وقت وہاں فی شخص آمدنی 37ہزار تھی اور آج ایک لاکھ 35ہزار ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہریانہ کہاں جارہاہے ۔

س:اگر کانگریس انتخاب جیتے گی تو اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟

ج: کانگریس میں یہ روایت ہے کہ وزیراعلیٰ ممبران اسمبلی کی جماعت طے کرتی ہے ، لیکن ہم بھوپیندر سنگھ ہڈا کی قیادت میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اور پارٹی تیسری بار جیت رہی ہے تو اسکا فائد ہ ہر حال میں انہیں ضرور ملے گا، کیونکہ 1966میں ہریانہ بنا اسکے بعد سے لیکر اب تک اگر مسلسل دوسری بار کسی نے سرکار بنائی تو ہڈا جی کی قیادت میں کانگریس نے بنائی اور تیسری بار بھی کانگریس جیتنے جارہی ہے ۔ترقی ایک ایشو ہے اور یہ رہے گا ، کیونکہ امریکہ جو ترقی یافتہ ملک ہے وہاں بھی ترقی کی بات ہورہی ہے۔

س:کانگریس پر الزام ہے کہ اس نے ریاست میں اقلیتوں کیلئے کچھ نہیں کیا؟

ج: یہ الزام بے بنیاد ہے ۔ میوات سے صرف ہمارا ایک نمائندہ کامیاب ہوا ۔ اور ہم نے اس کو وزیربنایا ۔ میوات میں میڈیکل کالج ، سڑکیں اور دیگر ترقیاتی کاموں کا خاکہ تیار ہو چکاہے ۔ ہم میوات کی ترقی کیلئے عہد بند ہیں اور ہمارا مشن ترقی جاری ہے ۔

س: ہریانہ میں کانگریس کا مقابلہ کس سے ہے ؟

ج: ہمارا مقابلہ بی جے پی سے ہے۔

س: کانگریس ہمیشہ سے کہتی آئی ہے کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم نہ ہو۔ یہ اسکی ترجیحات میں شامل ہے ؟

ج : جی ہاں ! جو لوگ بی جے پی ، شیوسینا اور فرقہ پرستوں کیخلاف کھڑے ہوتے ہیں وہ سیکولر ہیں ۔

س: کانگریس پر الزام ہے کہ اس نے 66سالوں میں مسلمانوں کو استعمال اور انکا استحصال کیا؟

ج: یہ الزامات بھی فرقہ پرست طاقتیں لگاتی رہی ہیں ۔ ہم نے ملک کے ہر شہری کیلئے کام کیا ہے ۔ اس ملک کو اگر آئی بی کا سربراہ کسی نے مسلمان دیا تو وہ یوپی اے نے دیا، جسکی سربراہی کانگریس کررہی تھی ۔زمین پر جولوگ کام کرتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنے ملک دوست ہیں ، کیونکہ جب رکھونشی اے ٹی ایس کے سربراہ تھے تب بھی سسٹم وہی تھا اور ہیمنت کرکرے سربراہ ہوئے تب بھی سسٹم وہی تھا ، لیکن رکھونشی کی نظر میں مسلمان دھماکوں کے ملزم تھے اور ہیمنت کرکرے نے کیا کیا یہ بھی دنیا کو پتہ ہے ۔ کانگریس نے مسلمانوں کو اقتصادی اعتبار سے مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے سچر کمیٹی کی روشنی میں ۔ اور کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے تعلیم اور اقتصادی مضبوطی بے حد ضروری ہے ۔

س: کیا سسٹم میں فرقہ پرست موجود ہیں؟

ج: جی ہاں!1977میں جب جنتا پارٹی کی سرکاراقلیتوں کی حمایت سے بنی تو اس وقت بدقسمتی سے جن سنگھ کے لوگ سرکار میں آگئے اور اسی حکومت میں اٹل اور اڈوانی کو ذمہ داری بھی ملی ، لیکن اڈوانی جی نے سسٹم میں آرایس ایس کے لوگوں کو ڈالا جس کااثر آج بھی برقرارہے ۔

س : موجودہ سرکار کی قیادت میں ملک کا کیا مستقبل ہے؟

ج: 100دن سے زائد کی سرکار میں ملک کو صرف ناامیدی ہی میسر ہوئی ہے اور مودی کے سبز باغ اور اچھے دنوں کا ملک کو بے صبری سے انتظار ہے ، لیکن وہ اچھے دن کہاں ہیں کسی کو نہیں پتہ ہے ۔

س:ان حالات میں مسلمان کیا کریں ؟

ج: اقلیتوں کے وہی حقوق ہیں جو اس ملک کے کسی دوسرے شہری کے ہیں ۔ موجودہ سرکار انکی حمایتی نہیں ہے ۔ انہیں مزید بیدار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

...


Advertisment

Advertisment