Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:09 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

ہمارے بڑے لوگ چاہیں تو مشاعروں میں آسکتے ہیں اچھے لوگ

ہمارے بڑے لوگ چاہیں تو مشاعروں میں آسکتے ہیں اچھے لوگ

 

مشاعرہ کی تہذیب اب ختم ہوتی جارہی ہے اور یہ مشاعرہ کم نوٹنکی زیادہ ہوگیا ہے ۔مشاعروں کے مشہور شاعر عزم شاکری سے جاوید قمر کی گفتگو

آج مشاعروں پر جو زوال آیا ہوا اور جس طرح الّم غلّم کلام پڑھا جارہاہے اس سے شعر وادب کے وہ شائقین یقیناًمایوسی کا شکار ہیں جو مشاعرے میں ا چھا شعر سننے کے لئے جاتے ہیں لیکن آج کے شاعروں میں دادرا ‘ ٹھمری تو انہیں سننے کو مل جاتی ہے‘ اچھا شعر کبھی کبھی سننے کو ملتا ہے ۔مشاعروں کے اس پر آشوب دورمیں ‘ جو شعراء معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اور ہمیشہ اچھا کلام پیش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور جنہیں سن کر اچھی اور صاف ستھری شاعری سننے والوں کے ادبی ذوق کو تسکین حاصل ہوجاتی ہے ان میں ایک نمایاں نام عز م شاکری کا ہے ۔عز م شاکری ‘ ان معدودے چند شعراء میں ہیں کہ جنہوں نے غز ل کے پرچم کو مشاعروں میں بڑے حوصلے اور کامیابی کے ساتھ بلند کررکھا ہے ، حال ہی میں وہ دہلی آئے تو ازراہ خلوص ’ سیاسی تقدیر‘ کے دفتر بھی ‘ نئی غزل کے اہم شاعر منیر ہمدم کے ساتھ تشریف لائے۔میں نے اس موقع کوغنیمت جانا اور ان سے اردو مشاعروں کے حوالہ سے ایک مختصر گفتگو کی ۔

میرا پہلا سوال یہ تھا کہ انہوں نے شاعری کی ابتداء کہاں سے کی اور مشاعروں کی دنیا میں کب داخل ہوئے ۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے دادا حافظ وحید الدین خاں موج مرحوم بھی شاعر تھے اس لئے گھر میں شاعری کا چرچہ تھا اور شعراء کا بھی آنا جانا تھا لیکن میری کم عمری میں ہی ان کا انتقال ہوگیا سومیں ان سے اکتساب فیض کرنے سے محروم رہا لیکن شعر وشاعری سے تھوڑی بہت شد بدپید اہوگئی تھی ۔اس حوالہ سے تفصیل بتاتے ہوئے عزم نے کہا کہ اس کے بعد میں نے خطّا طی سیکھنے کا فیصلہ کیا اور دہلی آگیا ۔ یہاں تقریباً ڈیڑھ سال خطّاطی سیکھتا رہا پھر واپس گھر لو ٹ گیا۔انہوں نے اپنے ابتدائی حالات بتانے شروع کئے تو بس بولتے ہی چلے گئے ۔عزم نے آگے بتایا کہ چونکہ وہ پانچ سال کی عمر میں باپ کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے تھے اس لئے ان کی زندگی بے راہ روی کا شکار رہی ، کوئی رہنمائی کرنے والا نہ تھا کہ کیا کروں اور کس طرف جاؤں؟ شاعری کی طرف کیسے مائل ہوئے ؟ پوچھنے پر عزم نے کہاکہ میرے یہاں ایک استاد شاعر مفید ندیم کوثری ایک دن ملے تو مجھ سے پوچھا کہ کیا تم موج صاحب کے پوتے ہو؟ ہاں کہنے پر انہوں نے کہا کہ وہ تومیرے استاد تھے۔عزم کے بقول کوثری کے کہنے پر ہی میں ان کے یہاں ان کی نشستوں میں جانے لگا جہاں عربی مصرعوں پر غزلیں کہی اور پڑھی جاتی تھیں۔ایک بار عزم نے ایک مصرعہ پر غزل کہی جو نشست میں پسند کی گئی اس سے حوصلہ ملا اور وہ شعر کہنے لگے۔اپنے مشاعروں کی آمد کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ایک بار نوثہ امجدی صاحب ملے اس وقت وہ علی گڑھ کے مشاعرے میں جارہے تھے ۔وہ مجھے اپنے ساتھ علی گڑھ لیتے گئے وہاں عزم نے جو غزل پڑھی ‘ وہ بے حد پسند کی گئی اور اس کے بعد مشاعروں کا سلسلہ چل پڑا ۔اس دوران ان کے تین شعری مجموعے برف ، سرخاب اور محراب عشق بھی منظر عام پر آکر مقبول ہوچکے ہیں۔

مشاعروں پر آئے حالیہ زوال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میرا تجربہ بڑا نہیں ہوسکتا لیکن اکثر میں نے دیکھاہے کہ جو مجمع خراب شاعری سنتا ہے کچھ دیر بعد وہ بہت اچھی شاعری بھی سن رہا ہے ۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سامعین وہی کچھ سننے پر مجبور ہوتے ہیں جو انہیں سنایا جاتا ہے ۔ پھر مشاعروں میں خرابی کیوں آئی ؟ لوگ سطحی اور جذباتی شاعری کو ہی ترجیح کیوں دینے لگے ؟ عز م کا جواب تھا کہ دراصل ہم شعراء کا سامعین پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے ۔دوسرے اب مشاعروں میں پیسہ بہت آگیا ہے اور شاعر پروفیشنل بن گئے ہیں ، آخر اس برائی کو دور کس طرح کیا جائے ؟ اس سوال پر ان کا کہنا تھاکہ ہمارے مشاعرے کے جو بڑے لوگ ہیں اگر چاہیں تو اچھے لو گ آسکتے ہیں ۔مشاعرہ ایک تہذیب کا بھی نام ہے ۔مشاعروں کے آدا ب کا حوالہ آج بھی لوگ دیتے ہیں پہلے بھی مشاعروں میں نا شاعر اور شاعرات ہوتی تھیں لیکن ان کا انداز پیش کش شاعرانہ ہوتا تھا مگر اب تو سب کچھ’ نوٹنکی ‘والا ہے ۔

میرے اس سوال پر ‘ بعض بڑے شعراء نے مجھ سے گفتگو کے دوران اس کی ذمہ داری کنوینر مشاعرہ کی گردن پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے پیچھا چھڑا لیا ۔اس پر عزم نے کہا کہ نہیں کنوینر نہیں یہ کام مشاعروں کے بڑے شعراء کرسکتے ہیں۔کنوینر تو بے چارہ کسی نہ کسی بڑے شاعر کے رحم وکرم پر ہوتا ہے اور اس کے کہنے سے فہرست تیار کرتا ہے ۔کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی اچھے شاعر کو زیادہ داد نہیں ملتی اس کے مقابلہ ایک سطحی شاعر کو زیادہ تالیاں ملتی ہیں لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مشاعرہ باز شاعروں کے درمیان اچھے شاعر کو دوسروں سے زیادہ داد ملی، عزم نے امراوتی کے ایک مشاعرے کا ذکر کیا جس میں مشاعرے کا کوئی شاعر نہ تھا لیکن مشاعرہ ابتداء سے آخر تک بہت کامیاب رہا ۔اس میں کوئی شاعر کمزور نہیں رہا ۔لیکن یہ بدعت مشاعروں میں آخر کس طرح آئی ؟ عزم نے کہا کہ اردو کی نئی نسل میں جو طلباء انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتے ہیں ، انہیں شاعری میں نسبتاً دلچسپی کم ہوتی ہے البتہ مشاعروں میں خاص طور پر اترپردیش اور دہلی میں مدارس کے طلباء کی حصّہ داری زیادہ ہوتی ہے اس لئے جب کوئی شاعر اسلامی رنگ کی شاعری پیش کرتا ہے تو اسے زیادہ داد ملتی ہے اور پھر اس کامیابی کو ہی وہ اپنی معراج سمجھنے لگتا ہے ،بقول عزم شاکر ی اب لوگوں میں بیداری آرہی ہے ، کئی جگہوں اور خاص طورپر دہلی میں خالص ادبی مشاعر ے ہونے لگے ہیں۔لوگ اپنی ذمہ داری دوسرے کے سر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ‘ آخر کس طرح مشاعروں کے گرتے ہوئے معیار کو بچایا جائے ؟ عزم شاکری نے کہا کہ یہ بڑے شاعروں کی ذمہ داری ہے ، ایسا نہیں ہے کہ اچھے شاعروں کا کوئی قحط ہے ۔ہماری نئی نسل میں بہت اچھے شاعر ہیں لیکن بدقسمتی سے مشاعروں پرجن لوگوں کا قبضہ ہے ان میں کہیں نہ کہیں یہ خوف موجود ہے کہ اگر اچھا اورجینون شاعر اسٹیج پر آگیا تو کہیں ان کااپنا مقام خطرے میں نہ پڑجائے ۔یہی وجہ ہے کہ جینون اور حقیقی شاعر کومشاعروں میںآگے نہیں بڑھا یا جاتا بلکہ ان کی جگہ ان لوگوں کوپرموٹ کیا جاتا ہے جن کا اردو کا املا تک درست نہیں ہوتا ،یقیناًیہ ہماری شاعری کے لئے المیہ تو ہے ہی ، مشاعروں کے معیار کے لئے بھی یہ سم قاتل ہے ۔اس سلسلے کو اب بہرحال ختم ہونا چاہئے ۔!

...


Advertisment

Advertisment