Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 04:56 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

عوام سے دوری اور جھوٹی یقین دہانی میری فطرت نہیں

عوام سے دوری اور جھوٹی یقین دہانی میری فطرت نہیں

 

پروانچل کے سینئر لیڈر اور پانچویں بار ممبرپارلیمنٹ منتخب ہونے والے برج بھوشن شرن سنگھ سے نثاراحمدخان کی خصوصی بات چیت

نئی دہلی،18اگست،ایس ٹی بیورو:عوام کو جھوٹی یقین دہانی نہیں کرانی چاہئے، اسی لئے میں وہی کام کرنے کا وعدہ کرتا ہوں جسے میں کرنے کی طاقت اور استطاعت رکھتاہوں اور اسے ایمانداری کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ عوام اور نیتا کے درمیان دوری کبھی نہیں ہونی چاہئے۔ ان خیالات کااظہارپروانچل کے قدآور لیڈر اور مسلسل پانچویں بار لوک سبھا میں پہنچنے والے بھوشن شرن سنگھ نے روزنامہ ’’سیاسی تقدیر‘‘ کے نمائندہ نثاراحمدخان سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ قابل ذکر ہے کہ تعلیم کے شعبہ میں انہوں نے ایک انقلاب برپاکردیا ہے، گونڈہ، بلرام پور اور قیصرگنج میں انہوں نے تعلیمی اداروں کا ایک جال سا بجھا دیا ہے۔برج بھوشن سرن سنگھ بظاہر ایک بیباک اور نڈر لیڈر ہیں لیکن عام لوگوں کے نزدیک وہ انتہائی مہذب، باشعور اور ملنسار سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کسی بھی پارٹی میں رہے ہوں ان کا رویہ اور سلوک نہیں بدلتا یہی وجہ ہے کہ وہ گونڈہ، بلرام پور اور قیصرگنج کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ان کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ جو بھی ان سے ملنے جاتا ہے وہ اسے مایوس نہیں کرتے بلکہ ان کے دروازے ہر آنے والے کے لئے کھلے رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عوام کے درمیان وہ انتہائی محبوب ہیں۔ ان پر لوگوں کے اعتماد کا عالم یہ ہے کہ وہ اب تک پانچ بار ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوچکے ہیں۔ مسلسل پانچویں بار جیت حاصل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کبھی میں عوام سے دوری نہیں بناتا ۔ کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ گاؤں کے لوگ جب اپنے لیڈر سے ملاقات کیلئے آتے ہیں اور ان کا لیڈر ڈرائننگ روم میں بیٹھا رہتا ہے تو غریب آدمی سوچتا ہے کہ میرا پیر گندا ہے یا میرے کپڑے اتنے صاف ستھرے نہیں ہے، اگر میں جاؤں گا تو نیتاجی کا ڈرائننگ روم بھی گندہ ہوجائے گا، اس طرح نیتا اور جنتا کے درمیان دوری بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنے حلقے کے لوگوں کیلئے ہروقت حاضر رہتا ہوں اور ان سے گھر کے باہر بیٹھ کرسادہ انداز میں ملاقات کرتاہوں اور وہ جو مسائل لے کر آتے ہیں اسے ہر ممکن طریقہ سے حل کرنے کی مکمل کوشش کرتاہوں،میں جھوٹی تسلّی سے کام نہیں لیتا۔ برج بھوشن سنگھ نے پروانچل اور خاص طورپردیوی پاٹن منڈل میں تعلیم کو فروغ دینے کیلئے تقریباً 40سے زائد کالج قائم کئے ہیں، جن میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے ذریعہ قائم کئے گئے تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلباء کے ساتھ تال میل سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ کبھی بھی اساتذہ اور طلباء سے میری دوری نہیں ہوتی ہے۔ اساتذہ اور طلباء کے مسائل کو میں اسی طرح سے سنتا ہوں جس طرح اپنے حلقہ کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں تعلیم کے ذریعہ کمائی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ پورا دیوی پاٹن منڈل تعلیم کے میدان میں انتہائی پسماندہ تھا، اس لئے میرے دل میں خیال آیا کہ علاقے کی ترقی اسی وقت ہوسکتی ہے جب ہمارے بچے تعلیم یافتہ ہوں گے، چنانچہ اسی وقت ہم نے اسکول اور کالج کھولنے کافیصلہ کیا۔ مسٹرسنگھ نے مزید کہاکہ اگر کمائی کیلئے کالج کھولناہوتا تو اس کیلئے اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ یا پھر گریٹرنوئیڈا اور نوئیڈا انتہائی موزوں شہرتھا، مگر علاقے کی خستہ حالی اور تعلیمی میدان میں پچھڑے پن کو ختم کرنے کیلئے ہی ہم نے اپنے آبائی وطن کو ترجیح دی۔میں اپنے علاقہ میں تعلیمی پسماندگی کو دور کردینا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میرے یہاں کا ہر نوجوان تعلیم یافتہ ہو۔ سیاست سے الگ ان کی کیا دلچسپیاں ہیں اس سوال کے جواب میں برج بھوشن سنگھ نے کہاکہ میں صحت، شجرکاری اور کھیل کے میدان میں بھی کام کررہا ہوں اور ہمارے وزیراعظم نے بھی ان تینوں میدان میں توجہ دینے سے متعلق بیان دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے حلقے میں 5لاکھ پودے خود لگائے ہیں جبکہ لوگوں کو اس جانب راغب کرکے مزید 50لاکھ پودے لگوائے ہیں۔بالترتیب گونڈہ، بلرامپور اور قیصر گنج پارلیمانی حلقہ سے جیت حاصل کرنے والے برج بھوشن سنگھ نے کہاکہ دیوی پاٹن منڈل کے لوگ میرے ساتھ ہیں اور ان کا مجھ پر مکمل اعتماد ہے جس کی بناء پر ہی الگ الگ حلقے سے مجھے کامیابیاں ملتی رہی ہیں۔ مسٹرسنگھ نے بتایا کہ 2014کے پارلیمانی الیکشن میں اپوزیشن پارٹی کے امیدواروں کے ذریعہ غلط پروپیگنڈوں اور افواہوں کاسہارا لیاگیا، مگر میں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور بالکل نارمل انداز میں اس الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہاکہ میں پہلی بار1991میں ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوا، مگر کوئی بھی شخص مجھ پر ایک بھی پیسے کی بدعنوانی کاالزام نہیں لگا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ میں جو کام کرتا ہوں مکمل یقین کے ساتھ کرتا ہوں اور عوام کو سامنے رکھ کرکرتا ہوں تاکہ میرے حلقے کے لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف یاپریشانی نہ ہو۔ لوک سبھا الیکشن میں مسلمانوں کے تعلق سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں برج بھوشن شرن سنگھ نے تسلیم کیاکہ ہاں! مجھے 5فیصد مسلمانوں کا ووٹ بھی ملا، مگر سچائی یہ ہے کہ جو پڑھے لکھے لوگ ہیں، ان کا ووٹ مجھے گرچہ نہ ملا ہو، مگر ان کی دعائیں میری ساتھ تھیں اوریہی وجہ ہے کہ میں کامیاب ہوا۔ قیصر گنج پارلیمانی حلقہ سے متعلق سوال پر مسٹر سنگھ نے برجستہ کہاکہ میں پورے 5سال آنے والے الیکشن کی تیاری میں مصروف رہتاہوں، کیونکہ جب میں عوام کے بیچ میں رہتا ہوں تو مجھے صرف الیکشن میں عوام کے درمیان جاکر ووٹ مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ میں ان کے درمیان ہمیشہ رہتاہوں اور جب الیکشن آتا ہے تب بھی اسی طرح ان کے درمیان جاتاہوں۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کے دوران 5ڈگری کالج کا مطالبہ کیاگیا جس کیلئے میں نے وعدہ کیا ہے اور الیکشن کے فوراً بعد ہی میں نے اس پر کام بھی شروع کردیا ہے اور اپنے ایجنڈے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مصروف ہوں۔

 

...


Advertisment

Advertisment