Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:04 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

قومیں وطن سے بنتی ہیں مذہب سے نہیں

قومیں وطن سے بنتی ہیں مذہب سے نہیں

 

ملک میں اگر امن اور اتحاد قائم نہ رہا تو اس کا نقصان اقلیتوں سے ملک کی اکثریت کو اٹھانا پڑے گا:جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے عظیم الشان قومی یکجہتی اجلاس سے مولانا سید اسجد مدنی کا خطاب

جاوید قمر

نئی دہلی،5دسمبر،ایس ٹی بیورو: جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی جانب سے غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ ایک عظیم الشان قومی یکجہتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولاناسید اسجد مدنی نے جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ دوہراتے ہوئے متحدہ قومیت کا نعرہ دیا اور پورے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو عام کرنے کی مخلصانہ اپیل کے ساتھ کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی تو بنیاد ہی آپسی اتحاد اور بھائی چارہ پر رکھی گئی ہے۔ اور ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو مظبوط کرنے کا کام یہ پچھلے 90برس سے کرتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ1936 میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے کہاتھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں مذہب سے نہیں۔ مولانا نے کہا کہ شیخ الاسلام نے جب یہ کہا تھا تو پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہوگیا تھا۔ ان پر کفر کا فتویٰ بھی لگا لیکن گزرتے وقت نے یہ ثابت کردیا کہ شیخ الاسلام نے جو بات کہی تھی اس کا پس منظر اور مقصد کیاتھا۔ درحقیقت ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لئے وہ چاہتے تھے کہ ملک کی تمام قومیں متحد ہوکر ایک پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد کا آغاز کریں اور انگریزوں کی بانٹو اور راج کروکی پالیسی کو ناکام بنیا جاسکے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسجد مدنی نے کہا کہ دیوبند سے اٹھنے والی آواز دہلی پہنچ گئی ہے اور اس کے لئے جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کہ انہوں نے صدر محترم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قومی یکجہتی کانفرنس منعقد کرنے کی پہل کی تاکہ ملک کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جاسکے اور فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔ انہو ں نے ایک حدیث پاک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ اس شخص سے زیادہ محبت کرتا ہے جو اس کی مخلوق پر زیادہ احسان اور محبت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی مسلمان باہر کے نہیں ہیں بلکہ یہیں پیدا ہوئے اور یہیں ان کی پرورش ہوئی۔ فرق صرف مذہب کا ہے جس کی وجہ سے کوئی ہندو ہے کوئی مسلم، کوئی سکھ ہے تو کوئی عیسائی، پھر یہ اختلاف کیوں۔ یہ انتشار کیوں؟ مولانا نے کہا کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ آج ان طاقتوں کو عروج حاصل ہورہا ہے جو آپسی اتحاد اور خیر سگالی کے جذبہ کو ختم کرکے ہمیں آپس میں لڑانا اور ایک دوسرے سے دور کردینا چاہتی ہیں۔ انہو ں نے انتباہ کیا کہ اگر ملک میں امن وامان اور استحکام قائم نہ رہا تو اس کا نقصان اقلیتوں سے زیادہ ملک کی اکثریت کو اٹھانا پڑے گا۔ صدرجمعیۃ مولانا سید ارشد مدنی کا ذکر کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ آج ملک کی جو صورت حال ہے کچھ ایسی ہی صورت حال 1857 میں پیدا ہوئی تھی جب ہر چہار جانب اندھیرا ہی اندھیرا تھا ایسے میں دوتحریکوں نے جنم لیاتھا۔ ان میں پہلی تحریک تھی’ دیوبند کی تحریک‘ اور دوسری تھی علی گڑھ تحریک۔ دیوبند کی تحریک کا محور تھا کہ مدارس قائم کئے جائیں اور ان کے ذریعہ مسلمانوں کی کردار سازی کا فریضہ انجام دیا جائے اور انہیں احساس کمتری سے باہر نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آج پھر کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا ہے کہ جب باہمی اتحاد اور بھائی چارے کو ختم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ محبت اور اخوت کے چراغ کو انتشار کی آندھیوں سے بچھانے اور منافرت کا اندھیرا پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ہمارے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گزشتہ27ستمبر کو ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میںیہ فیصلہ کیا کہ اب منافرت کی ان آندھیوں میں ہی ہمیں محبتوں کے چراغ روشن کرنے ہیں اور بلا لحاظ مسلک ومذہب پورے ملک کو ایک ساتھ کھڑا کرنا ہے اور دہلی کا یہ اجلاس اس سلسلے کی اولین کڑی ہے۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمن قاسمی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لئے سب نے قربانیاں دی ہیں لیکن کئی معنی میں مسلمانوں کی قربانیاں زیادہ ہیں لیکن اس کے لئے انہو ں نے کوئی معاوضہ نہیں طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اتحاد اور قومی یکجہتی کو قائم رکھنے کے جمعیۃ علماء نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ دہلی گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے نائب صدر سردار تلویندرسنگھ نے کہا کہ یہ بہت عظیم اجلاس ہے کیونکہ یہ عظیم مقصد کے لئے منعقد ہوا ہے۔ انہو ں نے اقبال کا مشہور زمانہ شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا۔ یہ ملک سب کا ہے اور اس کے لئے سب نے قربانیاں دی ہیں۔ قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ یکجہتی کے تناظر میں انہو ں نے کہا کہ ہم اپنے اس عظیم مقصد میں اس وقت تک کامیاب ہوسکتے ہیں کہ جب تک دوسروں سے توقع کرنے کی جگہ ہم خود محبت اور اخوت کا پیغام دینے کی پہل نہیں کریں گے ۔

اس اہم اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد مسلم قاسمی نے کی۔ انہوں نے اپنی صداری تقریر میں فرقہ وارانہ یکجہتی کو پورے ملک میں عام کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی جمعیۃ علماء کے بقائے باہم کے نظریات اور اقدار پرستی پرروشنی ڈالی اور کہا کہ ہم مختلف مذاہب کے ماننے اور مختلف زبانیں بولنے والے ہوسکتے ہیں۔ ہمارے رسم ورواج الگ ہوسکتے ہیں لیکن ہم سب ہندوستانی ہیں۔ ہم ساتھ ملک کر آگے بڑھیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ اجلاس کا آغاز قاری ساجد صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ اجلاس سے جن دوسری اہم شخصیات نے خطاب کیا ان میں جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری مولانا محمد رفیق قاسمی، مولانا محمد احمد، مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ناظم اعلیٰ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، مولانا جلال حیدر تقوی، شانتی کمار، ناظم اعلیٰ جین مندر چھتر پور، عیسائی رہنما پی آئی جوس، فادر ڈومنک اور ڈی آئی جی سی آر پی ایف شامل ہیں۔ مقررین نے جمعیۃ علماء ہند کی اس اہم پہل اور کوشش کی نہ صرف تعریف کی بلکہ ہر ممکن تعاون دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ کانفرنس کی نظامت کا فریضہ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالرازق نے بہ حسن وخوبی انجام دیا۔

 

...


Advertisment

Advertisment