Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 10:44 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

اسرائیلی دہشت گردی پر دنیا خاموش

اسرائیلی دہشت گردی پر دنیا خاموش

 

فلسطین کے نہتے عوام پر اسرائیل کی دہشت گردانہ کارروائی کا سلسلہ پھر جاری ہے۔ خبروں کے مطابق کل کی گئی بمباری میں30فلسطینی مارے گئے جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس خطہ میں جنگ کے حالات اچانک پیدا ہوئے ہیں۔ یہاں فلسطین پر اسرائیل کے قبضہ کے بعد سے جنگ وجدال کا سلسلہ جاری ہے۔ اپنی سرزمین کی حفاظت اور واپسی کے لئے غریب اور مظلوم فلسطین اسرائیل کی میزائل اور توپوں کا جواب اینٹ اور پتھروں سے دے رہے ہیں۔مگر بین الاقوامی میڈیا انہیں شدت پسند قرار دے رہا ہے اور امریکہ اور برطانیہ کے اشارے پر تمام ترپابندیاں فلسطینیوں پر ہی عائد ہوتی ہیں، انہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے اور اسرائیل کو معصوم ثابت کرنے کی پوری کوشش ہوتی ہے۔ عرب ممالک کی بے حسی کی وجہ سے اسرائیل اس پورے خطہ میں ڈکٹیٹر بن چکا ہے۔ کل تک شام میں بشار الاسد کا تختہ پلٹنے کے لئے جب امریکہ نے باغیوں سے اس پر حملہ کرایاتو اس نے پوری دنیا میں یہ مشتربھی کروادیا کہ شام بچوں اور خواتین پر کیمیائی ہتھیار کا استعمال کررہا ہے۔ یہودی نواز میڈیا چیخ پڑا اس کے اگلے ہوئے نوالے باقی دنیا کا میڈیا بھی چبانے لگا۔ ہندوستانی میڈیا بھی امریکہ کے سرمیں سر ملاکر شام کے خلاف پروپیگنڈہ میں مصروف ہوگیا۔ بلا شبہ آج دنیا کو ہتھیاروں کی نہیں امن کی ضرورت ہے۔ مہلک ہتھیاروں کا خاتمہ ایک پرامن دنیا کے لئے بے حد ضروری ہے لیکن اس معاملہ پر جو جانبداری برتی جارہی ہے اس پر اسلامی ممالک کے ساتھ خود کوغیر جانبدار کہنے والے ملک بھی اب تک خاموش ہیں۔ دنیا کے نقشہ پر ایک سیاہ داغ کی صورت اسرائیل بہت پہلے نیوکلیائی طاقت بن چکا ہے۔ نہتے فلسطینیوں پر وہ بے دردی سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کررہا ہے مگر اقوام متحدہ کو توچھوڑیئے دوسری دنیا کے کسی ملک نے آج تک یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اسرائیل کے ہتھیار تلف کئے جائیں۔ یہی نہیں فلسطینیوں کے خلاف وسیع پیمانہ پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بھی استعمال کئے جارہے ہیں اب اسرائیل ڈھٹائی سے کہہ رہا ہے کہ اس نے حماس کے راکٹوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس سے اپنے شہریوں کو بچانے کی کوشش کی ہے لیکن عام شہریوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ بمباری کے وقت عام شہریوں کے تحفظ کا ہرگز ہرگز خیال نہیں رکھاگیا۔ ہمیں شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے مسلمان دوسری بڑی طاقت ہیں۔ ہمیں یہ لکھتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے کہ دنیا کی ترقی عرب ممالک میں پیدا ہونے والے تیل پر منحصر ہے ہمیں یہ لکھتے ہوئے بھی شرمندگی کا احساس ہورہا ہے کہ کبھی ہم اپنے مسلمان بھائی کے تحفظ کے لئے اور اس کی پکار پر سمندروں کا سینہ چیر کر بھی وہاں پہنچ جاتے تھے ہم نے سلطان صلاح الدین کی اس تاریخ کو بھی فراموش کردیاہے کہ جب فلسطین کی ایک بیٹی کی پکار پر وہ نتائج کی پروا کئے بغیر نکل پڑے تھے اور غاصبوں سے فلسطین اور بیت المقدس کو آزاد کراکر ہی دم لیاتھا۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ بیشتر عرب ممالک امریکہ اور برطانیہ کے پٹھو بنے ہوئے ہیں۔ اپنی سیاست کی شطرنج پر وہ انہیں مہروں کی طرح استعمال کررہے ہیں۔ عرب کے ان سربراہوں کو اسلام مسلمان یا خود اپنی ریاست کے عوام کی پروا نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی اقتدار عزیز ہے۔ دکھاوے کے لئے اسلامی ملکوں نے اپنی ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے لیکن افسوس یہ تنظیم بھی مغربی طاقتوں کے فیصلہ پر اپنا سرخم آتی ہے۔ آج عراق میں جو کچھ ہورہا ہے ہمیں اس کی فکر ہی نہیں ہے کہ اس میں دونوں طرف سے جانوں کا زیاں ہورہا ہے جس خون کوفلسطین کی واگذاری اور بیت المقدس کی آزادی کے لئے بہنا چاہئے تھا وہ عراق کی جلتی ریت میں جذب ہورہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی مسلمانوں کی متحدہ طاقت کو مسلسل کمزور کرنے میں کامیاب ہوتے جارہے ہیں لیکن ہماری آنکھ نہیں کھل رہی ہے۔ فلسطین کے بے گناہوں کا لہو دنیا کے تمام انصاف پسندوں سے انصاف کا طالب تو ہے ہی اپنے بھائیوں کو بھی مدد کے لئے پکار رہا ہے لیکن ان کے یہ بھائی یوسف کے برادر ثابت ہورہے ہیں۔ اب یہ لکھتے ہوئے بھی ہمارا قلم لرزاں اور شرمندہ ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں اگر ہم واقعی زندہ قوم ہیں تو فلسطین کی غمزدہ ماؤں ،روتی ہوئی بہنوں اور دم توڑتے بچوں کی آوازیں ہم کیوں نہیں سن رہے ہیں؟

...


Advertisment

Advertisment