Today: Wednesday, September, 20, 2017 Last Update: 11:41 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

لوگ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا

لوگ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا

 

 

چند ماہ قبل جب ممتاز شاعر منور رانا کو اترپردیش اردو اکادمی کی صدارت سونپی گئی تھی تو ہمیں اس وقت سے ہی اس بات کا دھڑکا لگ گیاتھا کہ کسی بھی وقت یہ خبر بھی آسکتی ہے کہ منور رانا اپنے عہدہ سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ عہدۂ صدارت کو سنبھالنے کے بعد ان کے ذریعہ کچھ امید افزاء اعلانات سامنے آئے تھے۔ اس وقت یہ محسوس ہوا تھا کہ اگر اکادمی کے ناخداؤں نے انہیں کام کرنے کی مکمل آزادی دی تو منور رانا اپنی فطرت اور عادت کے مطابق اکادمی کو نہ صرف فعال اور بامقصد بنادیں گے بلکہ اپنے انقلابی اقدامات کے ذریعہ اردو برادری کو یہ باور کرانے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے کہ اگر انسان اپنے کام اور فرض کے تعلق سے مخلص ہوتو ناموافق حالات میں بھی بہترین خدمات انجام دے سکتا ہے لیکن افسوس ہماری ہی نہیں تمام اردووالوں کی تمام تر امیدیں اور آرزوئیں دھری کی دھری رہ گئیں۔منوررانا مستعفی ہوگئے انہوں نے اردو اکادمی کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی طرح چلانے کا الزام لگاتے ہوئے امیروں اور وزیروں کی مداخلت پر سخت ناراضگی بھی ظاہر کی۔ فون پر اس حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہو ں نے ہم سے کہا کہ پروٹوکول کے اعتبار سے اکادمی کے چیئرمین کو صدر سے مشورہ کرنا چاہئے لیکن اکادمی میں جو بھی کام ہورہا تھا وہ بغیر میرے مشورے کے ہورہاتھا۔ انہو ں نے یہ بھی کہا کہ میں نے جو بھی تجاویز پیش کیں وہ سب مسترد کردی گئیں جو اعلانات کئے تھے ان میں سے کچھ بھی کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اترپردیش اردو اکادمی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ انا اور مفاد کا ٹکراؤ بھی کہیں نہ کہیں اس ادارے کے لئے سم قاتل ثابت ہورہا ہے۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تقریباً دوبرس تک(سماجوادی سرکار کے آنے کے بعد)اردوکادمی صدر اور چیئرمین کے بغیر رہی۔یہ خبریں بھی گشت کرتی رہیں کہ اقلیتی اداروں میں تقرریوں کا معاملہ ریاستی سرکار نے اعظم خاں کو سونپ دیا ہے اور فیصلہ انہیں ہی کرنا ہے۔ چنانچہ دوسرے اقلیتی اداروں کی طرح اردواکادمی بھی اس مدت کے دوران غیر سرگرم رہی اس کو لے کر تمام اردو والوں میں زبردست تشویش تھی۔ صبر جب اپنی حدیں توڑ گیا اور ریاستی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں لیا تو اس سلسلے میں ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی گئی۔ آخر ش عدالت کے حکم پر ہی گزشتہ فروری کے پہلے ہفتہ میں اکادمی کی تشکیل نو ہوئی۔ منور رانا کو صدر اور نواز دیوبندی کو چیئرمین نامزد کردیاگیا۔ تمام اردو حلقوں میں اس کی زبردست پذیر ائی ہوئی تھی اور یہ بھی کہاگیا تھا کہ دیرآید درست آید کے مصداق اس نامزدگی سے اردو والوں کے تمام گلے شکوے دور ہوجائیں گے۔اس طرح کی نیک خواہشات کا اظہار اس لئے کیاگیا تھا کیونکہ سب کو یقین تھا کہ منور رانا جیسے شخص کو اگر ذمہ داری دی گئی ہے تو وہ اردو اور اردو والوں کا نہ صرف خیال رکھیں گے بلکہ اکادمی میں برسوں سے جاری جانبداری،امتیاز، اقربا پروری اور مفاد پرستی کا خاتمہ بھی ہوجائے گا لیکن افسوس کچھ بہتری کے آثار نظرآتے کہ یہ خبر بد آگئی۔ منور رانا نے شکوہ کیا ہے کہ چار سال سے اکادمی میں نہ تو انعام تقسیم کیاگیا ہے اور نہ ہی بچوں کے وظیفے جاری ہوئے ہیں۔ ضابطہ کی پیچیدگیوں اور دانستہ طور پر پیش کی جانے والی رکاوٹوں سے ناراض منور رانا نے کہا کہ اکادمی کے کسی کام میں ان سے مشور ہ نہیں طلب کیا جاتا تھا جو کمیٹیاں بنائی گئیں اس میں بھی کوئی مشورہ نہیں لیاگیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صدر کا عہدہ محض ایک اعزازی عہدہ ہے اور اسے کسی طرح کا کوئی اختیار نہیں حاصل ہے؟ یا پھر اس طرح کے اداروں میں بنے رہنے اور مفاد حاصل کرنے کے لئے وزراء اور سرکاری افسران کی جی حضوری نازبرداری اور کفش برداری ضروری ہے؟ کمال جائسی ایک دور میں مشاعروں کے کامیاب اور محترم شاعر رہے ہیں۔ انہوں نے شاعری کرنے اور مشاعرہ پڑھنے کے سوا کوئی دوسرا کام زندگی بھر نہیں کیا وہ آج کل سخت بیمار ہیں اور ڈائیلاسیس پر ہیں۔ منور رانا چاہتے تھے کہ اگر زیادہ نہیں تو کم ازکم 25ہزار روپے ہی مدد کے طور پر اکادمی کی جانب سے انہیں بھجوا دیئے جائیں مگر ضابطہ کا بہانہ بناکر ان کے اس فیصلہ کو بھی رد کردیاگیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اردو اکادمی کا کام یہی ہے کہ کتابوں کی اشاعت میں بھیک دی جائے۔ مشاعرے اور سمینار کرائے جائیں ، وہ ادباء وشعراء جو اپنے خون جگر سے اردو کی آبیاری کررہے ہیں ان کا اکادمی پر کوئی حق نہیں ہے؟اگر اکادمی کے منشور اور ضابطہ میں مجبور اور نادر ادباء وشعراء کی امداد کا خانہ نہیں ہے تو منور رانا نے تو صدارت پر ہی لعنت بھیجی ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ اردو اکادمی کو بند ہی کردیا جائے کیونکہ اس سے نہ تو اردو کو کوئی فائدہ ہورہا ہے اور نہ ہی اردو والوں کو اس سے کوئی فیض پہنچ رہاہے ہاں آتی جاتی سرکاروں کے لئے اس طرح کے ادارے اپنوں کو خوش کرنے کا ذریعہ ضرور بن گئے ہیں۔ میں اپنے اس کالم کا خاتمہ منور رانا کے ہی اس شعرپر کررہا ہوں۔

بادشاہو ں کو سکھایا ہے قلندر ہونا

لوگ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا

    

...


Advertisment

Advertisment