Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:08 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

اردو کا ایک اور قلندر مزاج صحافی:جاوید قمر

اردو کا ایک اور قلندر مزاج صحافی:جاوید قمر

 

 

ظفر انور شکر پوری اردو کے سینئر صحافی ہیں۔آج کل وہ دہلی کے ممتاز اردو صحافیوں پر ایک سیریز لکھ رہے ہیں ، اسی سلسلے میں انہوں نے ’’ سیاسی تقدیر ‘‘ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر جاوید قمر پر ایک بہترین تجزیاتی مضمون بھی لکھا ہے۔ ظفر انورشکر پوری کے شکریہ کے ساتھ ہم یہ مضمون خاص طور پر اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں: ایڈیٹر

 

ظفر انور شکرپوری

اردو صحافت کی تاریخ ایسے مزدور پیشہ صحافیوں سے بھری پڑی ہے کہ جنہوں نے ایک بار اس میدان خارزار میں قدم رکھا تو پھر واپس نہیں لوٹے بلکہ اردو صحافت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ان میں ایک مشہور نام جاوید قمر کا ہے جو صحافی ہونے کے ساتھ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔جاوید قمر سے میر ی پہلی ملاقات کب ہوئی ‘ وہ تاریخ اور سال تو اب یادنہیں ہے ہاں اتنا ضرورذہن میں ہے کہ یہ 80کی دہائی تھی اور ہم دونوں صحافت میں بالکل نئے تھے بلکہ اس وقت ہمارا تعلیمی سلسلہ بھی جاری تھا۔

جاوید قمر شاید اس وقت بی اے فائنل میں تھے ۔ان سے میر ی ملاقات ممتاز شاعر وصحافی جناب سلیم شیرازی کے اس تاریخی کمرے میں ہوئی تھی جس میں ہر طرف کتابوں اور اخبارات ورسائل کے ڈھیر لگے رہتے تھے یہاں تک کہ خود سلیم شیرازی صاحب انہیں اخبارات کے ڈھیر پر سوجایا کرتے تھے۔جاوید قمر صحافت میں کس طرح داخل ہوئے ‘رحمن نیّر مرحوم پر لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے خود اس کی رودادکچھ یوں بیان کی ہے ۔
’’ 1980کی دہائی میں ‘ اپنے پھوپھی زاد بھائی پروفیسر عبیدالرحمن ہاشمی کی تحریک پر مزید تعلیم کے لئے دہلی آگیا۔اتفاق یہ کہ مجھے آنے میں تاخیرہوئی ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ کی تاریخ نکل چکی تھی ایسے میں طے پایا کہ کیوں نہ اس درمیان میں کوئی نوکری کرلوں۔یوں بھی مجھے اس وقت پیسوں کی سخت ضرورت تھی ہوا یہ تھا کہ میری ایک حرکت پر گھر والوں نے ناراض ہوکر مجھے خرچ بھیجنا بند کردیا تھا ۔عبید بھا ئی جان مجھے بیسویں صدی (اس وقت یہ اردوکا انتہائی مشہور ادبی رسالہ تھا)کے دفتر لے گئے ۔رحمن نیّر صاحب سے ملاقات ہوئی تو آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔''
وہ حادثاتی طورپر صحافت میں داخل ہوئے اس سلسلے میں اپنے اسی مضمون میں وہ لکھتے ہیں۔
''میری تحریر چونکہ اچھی تھی اس لئے مجھے ابتداء میں خط وکتابت کی ذمہ داری دی گئی لیکن چند ماہ بعد ہی مجھے ادارتی شعبہ میں لے لیا گیا۔مزید حیر ت اس وقت ہوئی کہ جب چند روز بعدہی مجھے شملہ جانے کا حکم ہوا۔ان دنوں وہاں مشہور اداکار،فلمساز وہدایت کار منوج کمار کی فلم ''پینٹر بابو''کی شوٹنگ ہورہی تھی۔منوج کمار ‘ رحمن نیّر کے بہترین دوستوں میں تھے۔مجھے تردّد ہوا میں اس کشمکش کا شکاربھی تھا کہ جاؤں یا نہ جاؤں کیونکہ اس وقت تک میں نے کوئی باقاعدہ مضمون نہیں لکھا تھا۔میری کیفیت کو بھانپ کر رحمن صاحب نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔مجھے تم پر اعتماد ہے اللہ کا نام لے کر جاؤ اور واپس آکر ایک رپورٹ تیار کرو۔واپس آکر میں نے فلم کی شوٹنگ کی ڈرتے ڈرتے ایک رپورٹ تیار کی ظاہر ہے اس میں زبان وبیان کی غلطیاں تھیں۔رحمن صاحب نے کچھ پیراگراف حذف کئے اور کئی جگہ اضافے بھی کئے لیکن انہوں نے میری اس کوشش کو سراہااور کچھ عرصہ بعد ہی مجھے '' روبی '' کا انچارج بنادیا گیا۔''روبی '' ایک نیم ادبی نیم فلمی رسالہ تھا۔’’شمع ‘‘ کے بعد جس نے پوری اردو دنیا میں اپنی طباعت اور معیار کی وجہ سے دھوم مچائی وہ ’’ روبی ‘‘ ہی تھا۔ہندوستان کے باہر بھی خوب پڑھا جاتا تھا ۔اس کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ بشیر بدر،احمد فراز اور قتیل شنائی اور دوسرے کئی بڑے و مشہور شعراء اپنی تخلیقات کو روبی میں ہی چھپوانے پر اصرار کرتے تھے۔‘‘

بلاشبہ’ بیسوی صدی ’ اور '' روبی '' دونوں اس وقت اردو کے انتہائی مقبول رسالے تھے۔انہوں نے تقریباًچھ برس رحمن نیّر کے ساتھ کام کیا۔غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ رحمن نیّر کو صحافت میں اپنا اوّلین استاد مانتے ہیں۔انہوں نے ایک دوسرے مضمون میں ایک جگہ لکھا ہے کہ رحمن نیّر نے مجھے قلم پکڑنا سکھایا لیکن اخباری صحافت کے رموز ونکات اور باریکیاں میں نے م۔افضل سے سیکھی ہیں۔اس سفر میں انہیں سلیم شیرازی اور سراج امانی جیسے لوگوں کی رفاقت بھی میسرآئی۔جاوید قمر ذاتی ملاقاتوں میں اکثر کہتے ہیں کہ میں نے ترجمہ کا فن سلیم شیرازی اور سراج امانی سے سیکھا ہے۔
ادارہ ’ بیسوی صدی ‘ سے نکلنے کے بعد انہوں نے سراج امانی کی ادارت میں نکلنے والے رسالہ ’ فلمی کہکشاں ‘کو جوائن کیا۔اسی ادارے سے ’’ سچے واقعات ‘‘ نامی ایک اور رسالہ نکلتا تھا ۔اس دوران انہوں نے روزنامہ ’’ فیصل ‘‘کو بھی جوائن کرلیا تھا جہاں وہ شام کی شفٹ میں کام کیا کرتے تھے۔'' فیصل '' اس وقت '' ہاٹ کیک '' بنا ہوا تھا اس کے انچارج جناب سلیم شیرازی تھے۔یہ وہ عرصہ ہے کہ جب اردو ہفت روزوں میں '' نئی دنیا '' کے ساتھ ’’ اخبار نو‘‘ عوام میں بے حد مقبول تھا۔ اس کے ایڈیٹر م۔ افضل تھے۔ یہ 1991-92کا عرصہ ہےمودود صدیقی صاحب اس وقت تک اخبار نو سے جڑ چکے تھے اور م ۔افضل صاحب راجیہ سبھا کے ممبر بن چکے تھے کہ مودود صدیقی کی ایماء پر جاوید قمر '' اخبار نو'' سے وابستہ ہوئے ۔تب سے وہ اب تک م ۔افضل صاحب کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جاوید قمر کثیر جہت صحافی ہیں وہ سیاست ،ادب ،فکشن اور فلم پر ایک ساتھ لکھ سکتے ہیں ۔1997کے آس پاس اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی تو گھر چلے گئے وہاں علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو تقریباً ماہ بعد دہلی واپس تو آئے مگر م۔افضل صاحب کے پاس لوٹ نہیں گئے محض اس شرم سے کہ کوئی اطلاع دیئے بغیر وہ اتنے دنوں تک غائب رہے تھے ۔یہاں ایمس میں ان کا چیک اپ ہوا تو ڈاکٹروں نے انہیں کچھ عرصے کے لئے لکھنے پڑھنے سے منع کردیا۔ ظاہر ہے انہیں دہلی جیسے مہنگے شہر میں رہ کر اپنا علاج کرانا تھا وہ اپنے ان برے دنوں کو آج بھی جب یاد کرتے ہیں توان کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔جاوید قمر ا س وقت بھی آل انڈیا ریڈیو سے ٹرانسلیٹر کم اسکرپٹ رائٹر کے طور پر جڑے ہوئے تھے ۔وہاں ڈاکٹر مسعود ہاشمی ان کے انچارج ہوا کرتے تھے ۔انہوں نے مشورہ دیا کہ تم وقت سے پہلے آجایا کرو اور آرام سے اسکرپٹ تیار کردیا کرو ۔اس طرح ریڈیو کی محدود آمدنی سے زندگی کچھ آسان ہوجائے گی ۔چنانچہ ڈاکٹروں کے انتباہ کے باوجود وہ ریڈیو پر کام کرتے رہے ۔ڈاکٹر مسعود ہاشمی کے اس احسان کا اعتراف وہ بارہا کرتے آئے ہیں ،اس کے علاوہ وہ سلیم شیرازی صاحب کے احسان او رمحبتوں کے بھی زبردست معترف ہیں۔

بزرگ صحافی مودود صدیقی پر لکھے گئے ایک تاثراتی مضمون میں ایک جگہ اس حوالہ سے انہوں نے لکھا ہے کہ والد صاحب کے سر پر دوسرے بھائیوں کی تعلیم کا بوجھ تھا اس لئے میں گھرسے بھی پیسہ نہیں منگواسکتا تھا ایسے میں سلیم بھائی سامنے آئے اور اپنے ساتھ ہی رہنے کی پر خلوص پیشکش کی حالانکہ ان دنوں سلیم صاحب بھی بیکار تھے او رکہیں سے ترجمے کا کوئی کام آگیاتو اس کی آمدنی سے ہی ان کے اخراجات چلتے تھے لیکن ان حالات میں بھی انہوں نے میر انہ صرف خیال رکھا بلکہ ضرورت پیش آنے پر مالی مد د بھی کی۔حالانکہ میں جانتا ہوں اگر جاوید قمر م۔افضل صاحب کے پاس جاتے تو وہ ان کی ہر طرح سے مد دکرتے لیکن ان کی خود دار طبیعت نے یہ گوارہ نہ کیایہاں تک کہ اس مدت کے دوران وہ مودود صدیقی صاحب سے بھی نہیں ملے اور نہ ہی اپنی حالت کے بارے میں انہیں کوئی خبر دی ۔ان کے پورے کیریئر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے دوسرے صحافیوں کی طرح وہ بھی اردو مدیران کے استحصالی رویہ کا شکار ہوتے رہے اگر وہ چاہتے تو اپنی زندگی کا ڈھرہ بدل سکتے تھے ۔صحافت کو چھوڑ کر کوئی دوسرا پیشہ بھی اختیار کرسکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔پوری ایمانداری ،انا اور خودداری کے ساتھ انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اب وہ اس مقام پر ہیں جہاں انہیں عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔

میں جاوید قمر کو اردو کا قلندر مزاج صحافی کہتا ہوں ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مالی مفاد کوکبھی اولیت نہیں دی۔اپنے پورے کیریئر میں ان کے پاس کئی اچھے آفرز آئے لیکن جس سے جڑے تھے اسی کے ساتھ رہے۔جاوید قمر نے ابتداء میں فلموں پر بہت لکھا۔متعدد ممتاز فلمی شخصیتوں کے جن میں دلیپ کمار، دھرمیندر ،منوج کمار،راجیش کھنّہ،پران ،کمال امروہوی جیسے لو گ شامل ہیں انٹرویوز بھی کئے جو ''روبی'' میں شائع ہوکر مقبول ہوئے۔لیکن ادب اور سیاست پر بھی بہت اچھا لکھتے ہیں اوراب تو سیاست ہی ان کا اصل میدان ہے۔ان کے مضامین ملک کے بیشتر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔اس وقت وہ ''سیاسی تقدیر'' کے ریزیذنٹ ایڈیٹر بھی ہیں اور '' اخبار نو'' سے بھی وابستہ ہیں۔'' سیاسی تقدیر'' کی اشاعت جب سے ہوئی ہے ‘ روزانہ صفحہ اوّل پر ان کا ایک کالم ''خبروں کی خبر'' کے عنوان سے شائع ہوتا ہے جو عوام میں بے حد مقبول ہے۔اس کالم میں وہ بیباکی سے اپنا قلم چلاتے ہیں۔یہ کالم اب ان کی شناخت بن چکا ہے ۔اس سچّائی سے دہلی کے تقریباً تمام اردو صحافی واقف ہیں کہ کچھ عرصہ قبل انہیں ایک بڑے اخبار کی طرف سے اس کے ایک ایڈیشن کی ایڈیٹر شپ کی پیش کش ہوئی تھی۔انہیں تقرری نامہ بھی مل چکا تھا لیکن وہ نہیں گئے۔بعد میں اپنے کالم ’’ خبروں کی خبر ‘‘ میں انہوں نے ’’ آج کچھ درد میرے دل میں سو ا اٹھا ہے‘‘ کے عنوان سے بہت دل پذیر انداز میں اس کی وضاحت بھی کردی کہ انہوں نے اس اچھی پیش کش کو قبو ل کیوں نہیں کیا ؟ اس بارے میں جب میں نے ان سے پوچھا تو بولے۔یار چند پیسوں اور عہدے کی لالچ میں میں اپنے دہلی کے دوستوں کو چھوڑ کر ایک نئے شہر میں جانے کا حوصلہ نہیں کرسکا۔جلد ہی ان کے کالم '' خبروں کی خبر'' کا انتخاب منظر عام پر آنے والا ہے ۔ انٹرویو پر مشتمل ایک کتاب کو مسودہ بھی تیارہے اور گیتوں کا ایک مجموعہ بھی زیر ترتیب ہے ۔

جاوید قمر پچھلے پندرہ بیس برس سے آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس سے بھی جز وقتی طورپر وابستہ ہیں۔اردو کا یہ قلندر صحافی اب بھی صبح سے لے کر رات گئے تک قلم کی مزدوری کرتا ہے اور ا پنی انا وخودداری کے ساتھ شاداں وفرحاں ہے ۔میں اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوں کہ میری طرح اس نے بھی کہیں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور قلم کی حرمت پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ممتاز شاعر منوّر رانا نے شاید ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا ہے کہ ۔

یہ جو خودداری کا میلا سا انگوچھا ہے میرا

میں اگر بیچ دوں اس کو کئی کاریں آجائیں

لیکن میں جانتا ہوں کہ اپنے کسی مفاد کی خاطر جاوید قمر جیسے لوگ اپنی انا یا خودداری کا سودا نہیں کرسکتے۔!!

...


Advertisment

Advertisment