Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:07 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

نازیبااور تلخ الفاظ استعمال کرنے والے لیڈروں پر پابندی لگنی چاہئے

نازیبااور تلخ الفاظ استعمال کرنے والے لیڈروں پر پابندی لگنی چاہئے

 

ملک کو تقسیم کرنے والے بیانات کیلئے سیاسی پارٹیاں 5سال کیلئے باہر ہوجائیں، پریس کلب میں ممتازشاعر اور اترپردیش اردو اکادمی کے چیئرمین منور رانا کااظہار خیال

نثاراحمدخان

نئی دہلی : (ایس ٹی بیورو) حالیہ لوک سبھاانتخابات دھیرے دھیرے اختتام کی جانب گامزن ہے وہیں سیاسی لیڈران کے ذریعہ متنازعہ بیان دینے کا سلسلہ بھی دراز ہوتاجارہا ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تہس نہس کرنے کا کھیل کھیلاجارہا ہے۔ ایسے حالات میں ملک وبیرون ملک میں اپنی شاعری کیلئے منفرد شناخت رکھنے والے اور اترپردیش اردو اکادمی کے چیئرمین منور رانا نے اس طرح کے الفاظ اور متنازعہ بیان کو ملک اور جمہوریت کیلئے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے ایسے لیڈران پر پابندی عائد کئے جانے کامطالبہ کیاہے۔ راجدھانی دہلی میں آج شام پریس کلب آف انڈیا میں ’ایک شام، منور رانا کے نام‘ کا انعقاد کیاگیا، جس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران منور رانا نے غیرذمہ دارانہ بیان دینے والے لیڈران کے تئیں کسی قسم کی نرمی نہ برتنے کے حق میں نظرآئے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کو ایک ایسی ٹیم تیار کرنی چاہئے جس میں ادیب اور شاعر شامل ہوں جو یہ بتائیں کہ یہ زبان صحیح ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے والے لیڈران کی نامزدگی ردکرے اور تمام سیاسی پارٹیاں کم سے کم 5سال کیلئے ایسے لیڈران کو پارٹی سے باہر کردیں۔ انہوں نے کہاکہ جب سیاسی پارٹیاں اس طرح کی کارروائی کریں گی تو پھر لیڈران اپنی زبان پرقابو رکھیں گے اور غیر معیاری وتلخ الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگرسیاسی پارٹیاں اپنے لیڈران پرکارروائی نہیں کرتی ہیں تو پھر یہی سمجھاجائے گا کہ ایسے لوگ جان بوجھ کر پارٹی میں رکھے گئے ہیں جو اس ملک میں فساد کرانا چاہتے ہیں اور ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔ مسٹررانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی جے پی کے وزیراعظم عہدہ کے امیدوار نریندر مودی سے میرا کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے، مگر جس وقت گجرات میں فسادات ہوئے اس وقت وہ میڈیا کے سامنے مسکراتے ہوئے نظرآتے تھے اور جب اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری نے ان سے کہا کہ تم کو ’راج دھرم‘ نبھانا ہوگا تو مودی نے مسکراتے ہوئے جواب دیاتھا کہ راج دھرم تو نبھارہا ہوں۔ جبکہ ایسے نازک اور خراب حالات میں بد سے بدتر آدمی بھی مسکرانے سے گریز کرتا ہے، لیکن مودی نے زبان درازی کامظاہرہ کیا اور وزیراعظم کے سامنے ایسا جواب دیا جس سے مظلوموں کو ٹھیس پہنچی اور سیکولر عوام نے بھی اسے نامناسب قرار دیا۔ منور رانا نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مخالفین ملک چھوڑ دیں اور پاکستان چلے جائیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس طرح کے بیانات جمہوریت کیلئے نقصاندہ ہیں اور اس طرح کے بیان سے ملک کے چار ٹکڑے ہوجائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں اتنی بڑی جگہ بھی نہیں کہ ایک نظریات کے 60-70کروڑ لوگ وہاں جاکر قیام کریں۔ انہوں نے کہاکہ بابا رام دیو کالے دھن پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیرون ملک میں جو پیسہ جمع ہے اسے لایاجائے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان میں آزادی کے بعد سے جتنے فساد ہوئے ہیں ان پر کتنے رقم خرچ کئے گئے،جو بھی توجہ کامرکز ہے۔ مسٹررانا نے مطالبہ کیا کہ 15فیصدصحافیوں،شعراء اور ادباء کیلئے پارلیمنٹ کی سیٹیں مختص کردی جائیں تاکہ جمہوریت کے مندر پارلیمنٹ کے وقار اور عظمت کو ٹھیس پہنچنے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح منڈل کمیشن اور ذات پات کی بنیاد پر ریزرویشن دیاجارہا ہے اسی طرح انہیں بھی ریزرویشن دیاجانا چاہئے۔

...


Advertisment

Advertisment