Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:07 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

فیصلہ کی گھڑی آگئی لیکن کیا آپ تیار ہیں؟

فیصلہ کی گھڑی آگئی لیکن کیا آپ تیار ہیں؟

 

جاوید قمر

سیاسی جنگ میں فیصلہ کی گھڑی آگئی ۔ پہلے اور دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کے بعد آج تیسرے مرحلہ کی ووٹنگ ہے۔آج ہی دہلی اور اترپردیش کے کچھ اہم حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے، اس بار الیکشن کچھ پارٹیوں خاص طو رپر بی جے پی کیلئے وقار کی جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے مگر خطرناک بات یہ ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اس جنگ کو فرقہ وارانہ صف بندی میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ بی جے پی کا انتخابی منشورآچکا ہے مگر اسی دوران اترپردیش میں مودی کے دست راست امت شاہ نے انتقام یا بدلہ کی بات کہہ کر یہ ظاہر کردیا ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کا خفیہ منصوبہ کیا ہے اور اترپردیش جیسی اہم ریاست میں وہ خفیہ طور پر وہ کیا کررہے ہیں؟ بی جے پی کے وزیراعظم عہدہ کے امیدوار ایک طرف لوگوں کو ترقی کا خواب دکھا رہے ہیں لیکن ان کی قابل اعتماد فوج ایک تباہی کا ایجنڈہ لیکر گھوم رہی ہے۔ ان سب کے درمیان ان طاقتوں کا بنیادی مقصد سیکولر ووٹوں میں انتشار پیدا کرنا بھی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات جو کچھ دکھا یا لکھ رہے ہیں اترپردیش کی زمینی حقیقت اس سے یکسر الگ ہے۔ بظاہر دہلی میں بھی مودی فیکٹر نہیں ہے۔ اس لئے فرقہ پرست طاقتوں کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ کسی طرح سیکولر ووٹ تقسیم ہو تاکہ ان کی کامیابی کی راہ آسان ہوجائے۔ دہلی میں اصل مقابلہ تین پارٹیوں میں ہے لیکن اترپردیش میں مقابلہ چہار رخی ہے۔ بی جے پی کو چھوڑ کر تمام پارٹیوں کا زور سیکولر ووٹ کے حصول پر ہے۔ دہلی میں بھی اگر بی جے پی کا ووٹ متحد اور محفوظ ہے توسیکولر ووٹ دوحصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ ایسے میں اگر خطرہ ہے تو یہ کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم اگر فی صد کے اعتبار سے زیادہ ہوگئی تو بی جے پی کی کامیابی یقینی ہے لیکن اگر یہاں کے سیکولر عوام نے عقل وشعور سے کام لیا تو پھر یہ طاقتیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ اترپردیش کے جن حلقوں میں آج ووٹنگ ہوگی وہ تمام تر حساس علاقے ہیں اور یہاں بی جے پی اور فرقہ پرست تنظیمیں فرقہ وارانہ صف بندی کا کارنامہ پہلے ہی انجام دے چکی ہیں۔ دہلی اور اترپردیش کے ان تمام پارلیمانی حلقوں میں مسلم ووٹ بھی فیصلہ کن طاقت میں ہے یہی وجہ ہے کہ امت شاہ نے وہاں انتہائی اشتعال انگیز تقریر کی۔ درحقیقت فرقہ پرست طاقتوں کو یہ یقین ہوچکا ہے کہ سیکولر ووٹ کئی حصوں میں تقسیم ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی کامیابی کے تعلق سے بھی پر اعتماد ہیں اس لئے اب تمام تر ذمہ داری سیکولرعوام کے کاندھوں پر آپڑی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ووٹ ڈالنے سے قبل اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرسکیں گے؟امت شاہ کے خلاف تاخیر ہی سے سہی الیکشن کمیشن نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے لیکن اپنے اشتعال انگیز بیان سے وہ جو پیغام دینا چاہ رہے تھے اس میں کامیاب رہے لیکن اس پورے واقعہ سے کیا سیکولر عوام بالخصوص مسلمانوں نے کوئی سبق حاصل کیا؟ اہم سوال یہی ہے۔ دہلی ہو یا اترپردیش ہر جگہ ان کا ووٹ ہی فیصلہ کن طاقت رکھتا ہے۔ یہ الیکشن ان کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کہ اس کے نتائج سے یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ کیا ہندوستان جیسا عظیم ملک سیکولرزم اور جمہوریت کی راہ پر ہی چلے گا یا پھر آرایس ایس کی تنگ قوم پرستی کی راہ پر۔ آرایس ایس کے اقتدار کی طرف بڑھتے قدم کو یہاں کے سیکولر عوام اور خاص طور پر مسلمان ہی روک سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں متحد ہوکر ووٹنگ کرنی ہوگی۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ ان کا ہر ووٹ قیمتی ہے اور فرقہ پرستی کے تابوت کا کیل ہے لیکن ان کا انتشار ان کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے-

...


Advertisment

Advertisment