Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:06 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

اگرمتشاعروں اورشاعرات کا اسٹیج پر اسی طرح استقبال ہوتا رہا تو سونے اور پیتل میں فرق نہیں رہ جائیگا

اگرمتشاعروں اورشاعرات کا اسٹیج پر اسی طرح استقبال ہوتا رہا تو سونے اور پیتل میں فرق نہیں رہ جائیگا

 

بین الاقوامی شہرت یافتہ ناظمِ مشاعرہ انورجلال پوری سے جاوید قمر کا خصوصی انٹرویو

نئی دہلی:انور جلال پوری اردو دنیا کا ایک محبوب اور محترم نام ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ڈاکٹر ملک زادہ منظور کے بعد جس ناظم مشاعرہ نے مشاعروں کی نظامت کے فن کو وقار اور اعتباربخشا،وہ انور جلالپوری کی ہی ذات ہے ۔آج اردو دنیا میں جہاں جہاں بولی پڑھی اور سمجھی جاتی ہے لوگ ان کے نام سے واقف ہیں مگر ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اردو والے انور جلالپوری کے دیگر کارناموں اور ادبی خدمات کے دوسرے اہم گوشوں سے بڑی حد تک ناواقف ہیں۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ ایک ممتاز ومنفرد ناظم کے ساتھ ساتھ وہ بہترین شاعر بھی ہیں لیکن اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود انہو ں نے تصنیف وتالیف کا جو کام کیا ہے اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ ان کی اب تک 14کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کتابوں کی فہرست پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تصنیف وتالیف کا سلسلہ کسی مخصوص دائرہ میں قید نہیں ہے۔ ایک طرف اگر وہ ’’بعد از خدا‘‘ کے عنوان سے پیغمبر اسلامﷺ کی سیرت کا منظوم ترجمہ کرتے ہیں تو دوسری طرف بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ بھی۔’’راہرو سے رہنما تک‘‘ کے عنوان سے جہاں وہ خلفائے راشدین کی سیرت کو منظوم کرنے کا کارنامہ انجام دیتے ہیں تو ٹیگور کی مشہور زمانہ تصنیف ’’گیتانجلی‘‘ کا منظوم ترجمہ بھی کرتے ہیں۔ ایک جانب قرآن کے تیسویں پارہ کو منظوم کرتے ہیں توعمر خیام کی رباعیات کے مفہوم کا منظوم ترجمہ بھی پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انور جلالپوری کثیر جہت شخصیت کے مالک ہیں اور تحریر وتقریر دونوں میدانوں میں اپنی انفرادیت اور ذہانت کا سکہ بٹھا رکھا ہے۔ حال ہی میں جب وہ دہلی آئے تو ہم نے اردو کی صورت حال اور مشاعروں پر خصوصی بات چیت کی جو ہم بطورخاص اپنے قارئین کی نذر کررہے ہیں-

 

(س) ڈاکٹر صاحب! مشاعروں کی نظامت اور تدریس سے الگ ہٹ کر جو کام آپ نے کئے ہیں براہ کرم کچھ اس پر روشنی ڈالئے؟

(ج)دیکھئے میری زندگی کے شب وروز سے آپ کما حقہ واقف ہیں۔ مشاعروں کے سلسلے میں اکثر گھر سے باہر ہی رہنا پڑتا ہے مگر اس کے باوجود تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ شعری مجموعوں سمیت اب تک میری14کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور8کتابوں کا مسودہ بھی تیار ہے۔

(س) شعری مجموعوں کے علاوہ جودوسری آپ کی کتابیں ہیں کیا ان کے پس منظر پر کچھ روشنی ڈالیں گے؟

(ج) میں نے کچھ کام ذرا ہٹ کے کیا ہے۔ ضرب لاالہ ،جمال محمد، اور حرف ابجد نعتیہ مجموعے ہیں جبکہ ’’بعد ازخدا‘‘ پیغمبر اسلام کی منظوم سیرت کا مجموعہ ہے۔ ’’راہرو سے رہنما تک‘‘ میں میں نے خلفائے راشدین کی سیرت کو منظوم کیا ہے۔ یہی نہیں30ویں پارہ کا منظوم ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے میرایہ کام عام شعراء کے رویہ سے ہٹ کر ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ’’گیتا نجلی‘‘ ٹیگور کی نظموں کا وہ مجموعہ ہے جس پر انہیں نوبل ملا تھا میں نے اس کا منظوم ترجمہ کیا ہے اور یہ اردو ودیوناگری میں شائع ہوچکا ہے۔خیام کی72 رباعیت کا انگریزی میں خوبصورت ترجمہ1859میں فٹنر جیرالڈنے کیا میں نے انہیں رباعیات کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔ میں نے ایک کام اور لیک سے ہٹ کر کیا ہے اور وہ ہے بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ-

(س)آپ کی ایک کتاب’’روشنائی کے سفیر‘‘ کامیں مطالعہ کرچکا ہوں اس میں شخصیات پر مضامین ہیں۔ آپ نے کچھ شخصیات پر لکھتے ہوئے خاکہ نگاری اور انشائیہ کا حسین امتزاج بھی پیدا کردیا ہے۔ آپ کی نثر نگاری بھی انفرادیت لئے ہوئے ہے۔ کیا اس کے بعد آپ نے شخصیات پر کچھ نہیں لکھا؟

(ج)نہیں میں نے دوسری کئی اہم شخصیات پر بھی لکھا ہے۔’’اپنی دھرتی اپنے لوگ‘‘ کے عنوان سے میرے مضامین کا ایک دوسرا مجموعہ بھی شائع ہوا ہے مگر وہ دیوناگری میں ہے۔ دوسرے کئی مسودے تیار ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ کتاب نہ صرف خود آپ کو چھپوانی پڑتی ہے بلکہ اسے فروخت بھی خود کرنا پڑتا ہے اور میرے لئے یہ کام بہت مشکل ہوجاتا ہے-

(س) آپ کا تعلق اترپردیش سے ہے اور مسلمان واردو کے حوالہ سے یہ ایک اہم ریاست ہے۔ ادھر اترپردیش اردواکادمی کافی عرصہ سے غیر سرگرم اور سربراہ سے محروم تھی مگر اب منوررانا کی شکل میں اسے ایک بہتر سربراہ مل گیا ہے۔ توکیا اب وہاں کچھ اردو کاکام ہوگا؟

(ج)میں نئے صدر اور وائس چیئرمین کے جذبہ کی صداقت اور صلاحیت کا معترف ہوں۔ البتہ کبھی کبھی ایسابھی ہوتا ہے کہ اہم شخصیتوں میں قداور انا کا ٹکراؤ ہوجاتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں پرامید ہوں کہ اردو اکادمی فعال ہوگی اور اچھا کام کرے گی-

(س) آپ اردو کی صورت حال کو کیسا محسوس کرتے ہیں، کیا زبان کی حیثیت اسے فروغ مل رہا ہے؟

(ج) ہم اردو کے تعلق سے ہمیشہ خوش فہمی میں رہتے ہیں لیکن اندر سے احساس ہوتا ہے کہ یہ خوش فہمی مصنوعی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرآپ کو خالص اردو میں گفتگو کرنی ہے تو کسی مسجد، مدرسہ، امام باڑے، مشاعرے یا اہل بیت کی مجلس میں جائیں۔ ہم وہیں پر خالص اردو بول سکتے ہیں مگر مشترکہ سماج میں خالص اردو کی گنجائش نہیں اس لئے کہ جو ہمارے برادران وطن ہیں وہ اردو سے نابلد ہیں۔ بدقسمتی سے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دے دیا گیا ہے۔ ہم اردو والے چونکہ ہندی بھی پڑھتے ہیں اس لئے ہمیں ہندی سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی گویا مشترکہ سماج میں ایک دوسرے کے سامنے اور قریب ہونے کے باوجود ایک لسانی فاصلہ پیدا ہوگیا ہے اور یہی فاصلہ جذباتی طورپر دوسروں کو اردو کے قریب نہیں آنے دے رہا ہے اس لئے کہ جذباتی طو رپرقربت کے لئے لسانی واقفیت بہت ضروری ہے-

(س)جس لسانی فاصلہ کی بات آپ نے کہی آخر یہ کیونکر پیدا ہوا اور اس کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں جبکہ ہندی اور اردو کو سگی بہنیں کہاگیا اور اردو کو مشترکہ تہذیب کی علامت قرار دیاجاتا ہے؟

(ج)آزادی کے بعد حکومتوں میں ہمیشہ کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو یہ محسوس کرتے تھے کہ ارد واور ہندی کی ترقی یکساں طورپر ممکن نہیں اس لئے کہ اگر ہرشخص ان دونوں کو پڑھے اور سمجھے گا تو اردو اپنی شیرینی اور سلاست کی وجہ سے زیادہ مقبول ہوجائے گی۔ لہذا سہ لسانی فارمولہ بھی مخالفت کا شکار ہوا اور اسے عمل میں نہیں لایا جاسکا۔ اردو کے خلاف لکھنؤ ہائی کورٹ میں طویل مدت سے ایک مقدمہ قائم ہے جس کے سلسلے میں اترپردیش حکومت کو جواب داخل کرنا ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں کسی حکومت نے اردو کی حمایت میں جواب داخل نہیں کیا اور عدالت نے کوئی فیصلہ بھی نہیں سنایا۔ یہ وہ قانونی باتیں ہیں جنہیں جذباتیت سے الگ ہوکر دستوری اور قانونی طور پر حل کرنے ہوں گے۔ جہاں تک حکومتوں کی بات ہے تو وہ ہمیں بہلانے کے ہنر سے اچھی طرح واقف ہیں۔کبھی ہم خود بک جاتے ہیں کبھی ہمیں حکومتیں خرید لیا کرتی ہیں۔ اردو ٹیچروں کی تقرری کے اعلان پر ہم خوش ہوجاتے ہیں آخر دوسرے مضامین پڑھانے کے لئے مسلمانوں کو نوکریاں کیوں نہیں دی جاتیں؟ اسی سال محترمہ ڈاکٹر عابدی کو پدم شری کا ایوارڈ سنسکرت زبان وادب میں ان کی خدمات کے صلہ میں دیاگیا۔ آپ ہمیں موقع تو دیجئے ایسا نہیں ہے کہ مسلمان ٹیچر سائنس، حساب، جغرافیہ یا دوسرے مضامین نہیں پڑھا سکتا ہے۔ ہمیں ٹیچر رکھیے اردو کا ٹیچر نہیں لیکن شایدیہ طے کرلیاگیا کہ مسلمان ٹیچر صرف اردو ہی پڑھا سکتا ہے کوئی دوسرا مضمون نہیں-

(س) مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے آپ کے کارہائے نمایاں کیا رہے؟

(ج) مجھے بورڈ کی خدمات کے لئے محض15ماہ ملے مگر اس قلیل عرصہ میں بھی اپنی ترقی پسند سوچ کے مطابق ہی کام کرتا رہا۔ ہم نے مدرسہ کے نصاب کو جدید نصاب بنایا یعنی دینیات، عربی، اردو، فارسی کے ساتھ ہندی، انگریزی، حساب اور جنرل سائنس کو مدارس میں لازمی کردیا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں کیاتھا۔ دوسرے مدرسہ کے ملازمین کو پوری ملازمت کے دوران حج کرنے کی چھٹی نہیں ملتی تھی لو گ بلا تنخواہ چھٹی لے کر اس فرض کی تکمیل کرتے تھے۔ ہم نے ہر ملازم کو ملازمت کے دوران ایک بار ڈیڑھ ماہ حج کی ادائیگی کے لئے یا تنخواہ چھٹی دینا بورڈ سے منظور کروایا۔ مدرسوں میں پہلے درجہ پانچ تک ہی مڈ ڈے میل اسکیم نافذ تھی ہم نے اسے درجہ 8تک کے بچوں کے لئے کروایا۔ کچھ اور بھی اقدامات کئے ہیں جن کا ذکر مناسب نہیں لگتا-

(س) مشاعرے اور انورجلال پوری کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ طویل عرصہ سے آپ مشاعروں کی نظامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ادھر شاعروں پر جو زوال آیا ہے اس حوالہ سے آپ کیا کہیں گے؟

(ج) میں تقریباً45برس سے مشاعرو ں کی دنیا میں ہوں۔ ان برسوں میں سماج اور زندگی کے ہرشعبہ میں زوال آیا ہے۔یہ زوال مشاعروں کے حصہ میں بھی آیا۔ مشاعروں میں اصلاح کی یقیناًضرورت ہے لیکن کوئی متشاعر یا شاعرہ نہ بلائی جائے ا س کی ذمہ داری مشاعرہ کمیٹی پر ہوتی ہے۔ مشاعرے ہماری تہذیب اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں اور اصلاح کے ذریعہ ہی انہیں ختم ہونے سے بچایا جاسکتا ہے لیکن اگر متشاعر اور شاعرات کا اسٹیج پر اس طرح استقبال ہوتا رہا تو سونے اور پیتل میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا اور یہ اردو زبان اور اردو تہذیب کے لئے بدقسمتی کا دن ہوگا-

(س) ایک بار گفتگو کے دوران راحت اندوری نے کہا تھا کہ اس برائی کے خاتمہ کے لئے کچھ آئیڈیل مشاعرے منعقد کئے جائیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

(ج) دیکھئے مہمان کے سامنے آپ جو کھانا رکھیں گے وہ وہی کھائے گا۔ مشاعرہ کمیٹی جن شعراء کو بلاتی ہے سامعین انہیں سنتے ہیں اور کبھی انہیں جھیلتے ہیں تو کبھی برداشت کرتے ہیں۔ یہ کہنا بڑا مشکل لگتا ہے کہ آخر اس خرابی کی آخری ذمہ داری کس پر عائد کی جائے۔ راحت اندوری کا مشورہ بہت درست ہے اس لئے کہ ایسے تجربات بھی ہوئے کہ صرف سچے اور معتبر شعراء کے مشاعرے ہوئے اور بے انتہا کامیاب رہے۔ سامعین کی جانب سے نہ تو کسی گلے باز شاعر کا مطالبہ ہوا اور نہ کسی شاعرہ کا ۔ آج کل مشاعروں میں جو کچھ ہورہا ہے اس پس منظر میں میں یہی کہوں گا کہ آپ جو منظر دکھائیں گے آنکھ والے مجبور ہیں اس کو دیکھنے کے لئے۔ ظاہر ہے بہت دیر تک ہم ناپسندیدہ چیزدیکھنے کے لئے اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے۔ مشاعروں کی اصلاح کے لئے کچھ سنجیدہ لوگوں کواب عملی طور پر آگے آنا ہوگا-

...


Advertisment

Advertisment