Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 10:43 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

دوسرے لیڈروں سے ہم ملاقات کرسکتے ہیں تو مودی سے کیوں نہیں؟

دوسرے لیڈروں سے ہم ملاقات کرسکتے ہیں تو مودی سے کیوں نہیں؟

 

میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ مودی کو ووٹ دو، گجرات کے ممتاز صنعت کار اور سماجی رہنما ظفر سریش والا کی وضاحت

نئی دہلی:پچھلے کچھ عرصہ سے مودی اور گجرات کے حوالہ سے مسلم حلقوں اردو اخبارات اور ملی کانفرنسوں میں جب بھی کوئی بحث یا مکالمہ ہوا مودی کے ساتھ ایک شخصیت کا حوالہ باربار دیاگیا۔ یہ شخصیت کسی اور کی نہیں ظفر سریش والا کی ہے جو بنیادی طور پر کاروباری ہیں۔ ان کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے لیکن وہ ملی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی پورے جوش وخروش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں ۔ گجرات فسادات کے بعد جس شخص نے مسلمانوں کو انصاف دلانے اور اس سانحہ کے خلاف پوری دنیا میں مودی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی وہ ظفر سریش والا ہی تھے لیکن اب عام طور پر لوگ انہیں مودی نواز تصور کرتے ہیں۔ ان کے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ وہ مودی کی حمایت کے لئے مسلمانوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔گزشتہ دنوں مکرسکرانتی کے موقع پر اداکار سلمان خان کے ساتھ جب مودی نے پتنگ اڑائی تھی تو اس وقت ظفر سریش والا بھی ان کے درمیان موجود تھے۔ آخر ظفر سریش والا کا منصوبہ کیا ہے؟ وہ اچانک مودی کی حمایت پر کیوں اتارو ہوگئے اور کیا انہو ں نے گجرات فسادات کو فراموش کردیا ہے؟ آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟یہ اور اس جیسے کتنے ہی سوالات کا جواب جاننے کے لئے جب ’’سیاسی تقدیر‘‘ نے ان سے رابطہ کیا اور گفتگو کی خواہش کا اظہار کیا تو وہ فوراً تیار ہوگئے۔ پہلا سوال تھا کہ آخر وہ مودی کے دوست کیسے بن گئے؟ انہو ں نے کہا کہ پچھلے 11سال کے دوران میں نے مودی کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان انہیں کسی نے نہیں پہنچایا ہوگا۔گجرات فسادات کے بعد جب گجرات کا مسلمان خوف ودہشت کے سائے میں تھامسلمانوں کو انصاف دلانے کی خاطر میں سراٹھاکر مودی کے سامنے کھڑا رہا۔ انہوں نے کہا کہ آج مودی کے ویزا کو لے کر شش وپنج کی جو فضاقائم ہے یہاں تک کہ امریکہ نے انہیں اب بھی ویزا جاری نہیں کیا ہے اس کے پیچھے میرا ہی ہاتھ ہے۔گجرات فسادات جب ہوئے تو میں انگلینڈ میں تھا اور میں نے ویزا کے سلسلے میں ایک پٹیشن اس وقت کے امریکی وزیرداخلہ کولین پاویل کو دی تھی۔ دوسرے لوگ دہلی اور لکھنؤ میں بیٹھ کر گجرات فسادات کے متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اس کے لئے میں نے احمد آباد میں بیٹھ کر لڑائی لڑی ہے۔ مودی آج بھی کہتے ہیں کہ اس (ظفر سریش والا) نے جو کچھ میرے خلاف کیا اس کی سزا آج تک بھگت رہا ہوں۔ میں مودی سے11سال قبل ملاتھا،ہم نے ان سے ہمیشہ ایک ہی بات کہی کہ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ پھر آپ کے رویہ میں اچانک تبدیلی کیسے آگئی؟ اس سوال پر انہو ں نے کہا کہ رفتہ رفتہ میں نے محسوس کیا کہ اگر بات چیت کے ذریعہ مسلمانو ں کو انصاف دلایا جاسکتا ہے یا ان کے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے تو مودی سے بات چیت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہو ں نے وضاحت کی کہ میں جمعیۃ علماء سے جڑا رہا ہوں۔ میرا گھرانہ ہمیشہ مذہبی رہا ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ2003میں سورت میں جمعیۃ علماء کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ ممتاز فلمساز وہدایت کار مہیش بھٹ بھی شریک اجلاس تھے۔اپنی تقریر کے دوران انہوں نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور انہیں ظالم تک قراردیاتھا بعد میں انہو ں نے ایک حدیث کا حوالہ بھی دیاتھا جس میں کہاگیا ہے کہ مظلوم کی بہر صورت حمایت کرو لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم سے روکو،مہیش بھٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں اپنی شکایات، مطالبات اور انصاف کے لئے وفد کی صورت میں مودی سے ملاقات کرنی چاہئے۔سریش والا نے کہا کہ حیرت انگیز طو رپر دوسرے ہی دن مہیش بھٹ کے پاس مودی کا فون آگیا۔ مودی نے کہا کہ بھٹ صاحب آپ ہزار پانچ ہزار یا پچیس ہزار کی تعداد میں آئیں مودی کا دروازہ 24گھنٹے کھلا پائیں گے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ فون آنے کے بعد مہیش بھٹ نے کہاتھا کہ حدیث نے اپنارنگ دکھادیا۔ ظالم کا فون آگیا۔ بقول سریش والا بات چیت کے لئے گیند تو مودی نے پھینکی تھی لیکن بدقسمتی سے اس وقت بات چیت کی پہل نہیں ہوسکی۔ ظفر سریش والا نے اعتراف کیا کہ وہ مسلمانوں کے مسائل کو لے کر مودی سے ملے تھے اور یہ ملاقات بند کمرے میں نہیں ہوئی تھی بلکہ علی الاعلان ہوئی۔ تو کیا آپ نے گجرات فسادات کے لئے مودی کو معاف کردیا؟ اس سوال پر چند وقفہ کی خاموشی کے بعد وہ بولے’’دیکھئے پچھلے65سال سے ملک کی سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا استعمال کررہی ہیں۔2002کے فسادات میں دولاکھ مسلمان متاثر ہوئے تھے مگر اس سے قبل 1969،1970،1998 اور1992میں بھی گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے ۔ ان کے متاثرین کو نہ تو اب تک انصاف ملا اور نہ ہی کوئی معاوضہ۔ انہوں نے کہا کہ ان فسادات میں مسلمانوں کا جتنا جانی اور مالی نقصان ہوا وہ 2002کے فسادات کا15فیصد بھی نہیں ہے۔ ان فسادات میں جو مارے گئے یا جو بے گھر ہوئے آخر وہ بھی تو متاثرین ہیں کیا انہیں انصاف نہیں ملنا چاہئے؟ جہاں تک 2002کے فسادات کا تعلق ہے ہمیں پہلی بار کسی حد تک انصاف ملا ہے۔63ہندوؤں کو عمر قید ہوئی ہے460کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں اور گلبرگہ سوسائٹی سانحہ کے سلسلے میں4لوگ12سال سے جیل کے اندر ہیں۔ فرضی انکاؤنٹر کرکے جرم میں13آئی پی ایس افسر جیلوں میں ہیں۔ دیکھئے میں مودی کا وکیل نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی یہ کہا ہے کہ مودی کو ووٹ دو بلکہ ہمارا موقف تو یہ ہے کہ اگر اس سے مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل ہوتی ہے تو ہمیں مودی سے بھی ملنا چاہئے۔ ملی اور مذہبی لیڈروں کے رویہ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہو ں نے انکشاف کیا کہ اب تک ملی ومذہبی رہنماؤں پر مشتمل تقریباً پونے دوسو وفود مودی سے ملاقات کرچکے ہیں۔ اس سوال پر کہ آخر وہ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں؟ ظفر سریش والا نے کہا کہ مسلم لیڈر شپ مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ مودی سے میرا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے میرا اپنا کاروبار ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ مجھے صرف اور صرف مسلمانوں کا مفاد عزیز ہے۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے انہوں نے ایک تاریخی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ1920میں مالٹا جیل سے واپسی کے بعد حضرت شیخ الہند نے بہت دوراندیشی کی بات کہی تھی کہ مسلمانوں کا عسکری نظام اب ختم ہوچکا ہے اب ٹکراؤ اور احتجاج کی نہیں بات چیت کی ضرورت ہے۔ انہو ں نے کہا کہ المیہ یہی ہے کہ ہمارے علماء نے بھی مسلمانوں کو صحیح راہ عمل نہیں دی۔ آج مودی کو مسلمانوں کا واحد اور تنہا دشمن کے طورپر پیش کرکے ہمارے قائدین پوری قوم کومودی کے خلاف لے جانا چاہتے ہیں۔ انہو ں نے مزید کہا کہ میں کیجریوال کو پچھلے 20سال سے جانتا ہوں اس کی این جی او کو ’میگسیسےایوارڈ مل چکا ہے جویہودیوں کی تنظیم ہے۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ کل تک’’کرپشن‘‘ کی ہی وہ بات کرتے تھے مگر اب انہو ں نے کمیونلزم کا نام لینا شروع کردیا ہے۔ جو شخص چار سال پہلے مودی کی تعریف کررہاتھا اب مودی کی مخالفت میں مصروف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کل تک کمیونلزم کیجریوال کے لئے کوئی بڑا ایشو نہیں تھا آج اتنا اہم کیوں ہوگیا؟ کیا مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لئے؟ ظفر سریش والا کو ’’اردو میڈیا‘‘ سے بڑی شکایت ہے ان کا کہنا ہے کہ اردو اخبارات ان کا موقف جانے بغیر ان پر لعن طعن کررہے ہیں انہیں قوم دشمنوں کی صف میں شامل کررہے ہیں۔ انہو ں نے بتایا کہ ایک بار ممبئی میں کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ کے تعلق سے کچھ غلط فہمیاں ہیں آپ اردو صحافیوں کے ساتھ بیٹھ کر انہیں دورکیجئے۔ میں تیار ہوگیا تمام اردواخبارات کے نمائندے آگئے مگر ’’ممبئی کے ایک مقبول اخبار‘‘ کا کوئی نمائندہ نہیں آیا۔ اس کے ایڈیٹر ہمیں’’کافر‘‘ تصور کرتے ہیں(معاذ اللہ)۔ انہوں نے آگے کہا کہ یہ کتنی افسوسناک بات ہے کہ جس آدمی کی شعور سنبھالنے کے بعد کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو اسے کافر قراردیا جارہا ہے۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ اخباری نمائندوں کے ساتھ تقریباً ڈھائی گھنٹہ تک ہر پہلوپر گفتگو ہوئی وہ میرے دلائل سے مطمئن بھی نظر آئے لیکن دوسرے دن کسی بھی اردو اخبار میں اس کی کوئی خبر نہیں تھی۔ ان کا درد ان کی گفتگو میں شامل ہوچکا تھا کہ ہم نے ایک اور تلخ جواب داغ دیا کہ کیا آپ کی مودی سے مسلسل ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ میرے سوال پر ناراضگی کے اظہار کی جگہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہاں میں ان سے بار بار ملتا ہوں اور دوسرے لوگوں کی طرح بند کمرے میں نہیں ملتا میں بند کمرے کی ملاقات کا قائل نہیں ہوں۔ مودی کے گھر اور دفتر میں تو میں آٹھ دس مرتبہ نمازیں بھی اداکرچکا ہوں۔ انہو ں نے کہا کہ دیکھئے جب تک کسی سے آپ ملیں گے نہیں اس سے ڈائیلاگ نہیں کریں گے اس کے بارے میں آپ کوئی حتمی اور سچی رائے نہیں قائم کرسکتے۔ انہو ں نے کہا کہ ایک بار میں نے’’سیرت‘‘ پر مولانا رابع حسنی ندوی صاحب کی انگریزی میں ایک کتاب مودی کو پیش کی۔ انہو ں نے پوری عقیدت سے اسے قبول کیا اور میرے ہی سامنے کتاب کے دوصفحے پڑھے بھی۔ سیاسی مصروفیت کے باوجود دوماہ کے اندر انہو ں نے پوری کتاب کا مطالعہ کرڈالا اور اس کے بعد مولانا رابع حسنی ندوی صاحب کو فون کرکے یہ بھی کہا کہ اگر ایسی پانچ کتابیں اور آجائیں تو ہماری بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکتا ہے۔ دفعہ370رام مندر اور دوسرے متنازعہ امور کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ مودی واضح کرچکے ہیں کہ رام مندر ان کے ایجنڈے میں نہیں ہے۔ انہو ں نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں علماء پر مشتمل ایک وفد جب مودی سے ملاتھا تو اس ملاقات میں بھی مودی نے واضح کردیاہے کہ رام مندر کی تعمیر ان کاایشو نہیں ہے۔ انہو ں نے یہ بھی کہا کہ جب باجپائی جی اپنے دورحکومت میں مندر نہیں بنواسکے تو ہم کس طرح بنوا سکتے ہیں۔ دفعہ370پر بھی انہو ں نے اپنا موقف واضح کردیا ہے ۔ دوسرے مودی نے ملاقات کے دوران ایک اہم بات یہ کہی کہ ملک میں65فیصد ووٹر ایسے ہیں جو1990میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ مودی نے کھلے دل سے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ مسلمانوں کی حمایت میں اگر کھل کر بولیں گے تو ہندوووٹر ان سے ناراض ہوسکتا ہے تاہم مذکورہ وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان پانچ سال کانگریس کو گالیاں دیتے ہیں لیکن جب بھی الیکشن آتا ہے وہ کانگریس کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ہمیں ووٹ نہیں دے گا لیکن ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگر اقتدار میں آئے تو مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ بقول ظفر سریش والا مودی کا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ جمہوریت میں مذاکرات ہونے چاہئے کہ اس سے ہی ایک دوسرے کو سمجھنے اور آگے بڑھنے کا راستہ نکلتا ہے۔ آخر میں انہو ں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم آج مودی سے ملنے جاتے ہیں تو ہماری مضبوط پوزیشن ہوگی لیکن اگر کل کو خدانخواستہ اقتدار میں تبدیلی آگئی اور وہ وزیراعظم بن گئے تو اگر اس وقت ان سے ملیں گے تو ہماری پوزیشن بہت کمزور ہوگی۔

...


Advertisment

Advertisment