Today: Monday, November, 20, 2017 Last Update: 12:55 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

غیرضروری طو رپر کسی مسلم لیڈر کی کردار کشی افسوسناک

غیرضروری طو رپر کسی مسلم لیڈر کی کردار کشی افسوسناک

 

حالیہ مظاہرہ کانگریس اور احمد پٹیل کو بدنام کرنے کے مترادف:م۔افضل

جاوید قمر

نئی دہلی،12مارچ،ایس ٹی بیورو: راجیہ سبھا کے سابق رکن وسابق سفیر ہند م۔افضل نے کربلا جورباغ تنازع میں غیر ضروری طو رپرکانگریس کے ایک بڑے لیڈر کا نام گھسیٹے جانے اور کردار کشی پر سخت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف مسلم لیڈر شپ بلکہ مسلمانوں کی بھی دوسروں کی نگاہ میں بدنامی ہوتی ہے۔ م ۔افضل نے کہا کہ میں یہ بات کانگریس کے ایک لیڈر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ملت کے ایک ادنیٰ فرد کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔ انہو ں نے کہا کہ نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک میں شیعہ سنی کے درمیان اتحادواتفاق ہے اور ان کے لیڈران ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے۔ اس لئے کہ لیڈر شپ سال دوسال میں نہیں پیدا ہوتی بلکہ کبھی کبھی تو اس میں پچاسوں سال لگ جاتے ہیں اس لئے ان کے خلاف کسی طرح کا بیان دیتے یا الزام لگاتے ہوئے پوری ذمہ داری کا احساس رہنا چاہئے۔ م۔افضل نے کہا کہ اس تنازعہ کو لے کر احمد پٹیل کو ایک عرصہ سے نشانہ بناکر موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے لیکن اب ادھر اس میں شدت کے ساتھ جس طرح کی جارحیت آگئی ہے وہ ہم سب کے لئے انتہائی افسوس ناک اور قابل تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مولانا کلب جواد صاحب کی قیادت میں دہلی میں جو مظاہرہ ہوا وہ کانگریس اور احمد پٹیل کو بدنام کرنے کے مترادف ہے جبکہ ان کا اس معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور معاملہ کورٹ میں ہے۔ خود احمد پٹیل یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ اس معاملہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہو ں نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ راجدھانی نرسری سے اگر کوئی ان کا تعلق ثابت کردے تو وہ عوامی زندگی سے کنارہ کش ہوجائیں گے۔ م۔افضل نے کہا کہ انصاف اور اصول کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس وضاحت کے بعد احمد پٹیل کی ذات کو نشانہ بنانے سے گریز کیاجاتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور نہ صرف ان کو بلکہ کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہم میں آپس میں ذاتی اور نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اگر ہم باہم دست وگریبان ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر کردار کشی کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف دوسرے لوگوں کی نظر میں مسلم لیڈر شپ کا وقار مجروح ہوگا بلکہ سیاسی طور پر بھی ہماری عزت اور وقار پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ایک مذہبی شخصیت کے طور پر مولانا کلب جواد صاحب ہم سب کے لئے محترم ہیں اس لئے میں ان سے بھی توقع کرتا ہوں کہ وہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فرقہ پرستی ایک بڑے خطرے کی شکل میں ہمارے سامنے آکھڑی ہوئی ہے وہ نہ صرف دراندیشی کا مظاہرہ کریں گے بلکہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی پر بھی نظر ثانی فرمائیں گے۔

...


Advertisment

Advertisment