Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:03 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

عراق - ترکی تعلقات

عراق - ترکی تعلقات

 

تحریر:محمد سلمان حامد

70کی دہائی میں عراق ترکی کے آپسی تعلقات میں بہتری آئی تھی لیکن 1990میں عراق نے کویت پر جب قبضہ کیا تو اچانک اس میں تلخی آئی۔ اس بحران سے ترکی کی اقتصادیات متاثر ہوئی اور اسے تقریباً 7ملین ڈالر کا نقصان ہوا ۔ 1995میں امریکی حمایت کے باوجود جو اقتصادی بحران پیدا ہوا اس کے پیچھے بھی یہی سبب کار فرما تھی۔ گذشتہ صدی میں 80کی دہائی کے آخر تک عراق کے لئے ترکی انتہائی فائدہ مند ملک ثابت ہوتا رہا۔ ترکی کے ساتھ در آمدات کرنے والا عراق دوسرابڑا ملک اوربرآمدات کرنے کا تیسرا ملک تھا۔ غالباً اسی سبب امریکی صدر (بل کلنٹن )نے کہاتھا خلیجی جنگ سے مملکتو ں کے تعلقات خراب ہوگئے “ بہرحال طبیب اردگان کے اقتدار میں آنے کے بعد ترکی میں صورت حال تبدیل ہوئی ، حالات کو بہتر بنانے کے لئے تجارت کے احیا پر معاہدہ ہوا ۔ اردگان نے اعلان کیا کہ عراق ترکی سے اپنی ضرورت سے زیادہ غذا اور ادویات ترکی کو تیل اور گیس دے کر حاصل کر سکتا ہے لیکن عراق ، ترکی تعلقات میں ایک بار پھر تلخی اس وقت پیدا ہوئی کہ جب 1997-1999میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے )کے عناصر کا پیچھا کرتے ہوئے ترکی ، شمالی عراق میں گھس گئے ۔

عراق اور ترکی کے تعلقات سردو گرم کا شکار رہے مگر اس کی اہمیت کو جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے 2003میں اقتدار میں آنے کے بعدمحسوس کیا اور 2003میںہی استنبول اعلامیہ جاری ہوا۔ جس میں کہا گیا کہ عراق پر ہونے والے حملوں کو روکا جائے گا۔ علاوہ ازیں ہر چند کہ پارلیمانی الیکشن امریکی قبضہ کے دوران ہو رہے تھے۔ ترکی نے وہاں کی سنی آبادی کو اس الیکشن میں شریک ہونے کے لئے متحرک کیا۔ ترکی نے تیل ،سائنس ، زراعت اور جغرافیائی حیثیت کے ان شعبوں کی نشاندہی کر لی ہے جن میں عراق کے ساتھ تعاون اور اشتراک ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ترکی عراق کے ساتھ بہتر تعلقات کی استواری چاہتاہے اور متعدد عراقی طاقتوںسے نزدیک کا فاصلہ بھی رکھنا چاہتا ہے ۔ دوسرے ان تمام باتوں کے علاوہ ترکی اور عراق کے باہمی تعلقات حساس ترین پہلوﺅں میں سے ایک ہے اور جو مشرقی وسطی جیسے الجھاؤ والے خطہ میں مستقبل کی ترقی کے لئے اہم ہے۔ سرد جنگ کے عہد میں ترکی اور عراق کے تعلقات سرد رہے ۔ خلیجی جنگ کے دوران اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت اور روابط میں اضافہ ہوا۔ 1991کی خلیجی جنگ میں ترکی کا بنیادی مقصد یا نشانہ یہ تھا کہ شمالی عراق سے ترکی کی طرف آنے والے پناہ گزیوں کے سیلاب کو روکا جائے۔ کسی آزاد کرد ریاست کی تشکیل بھی کو روکا جائے اور سرحد سے متصل پہاڑی علاقوں کو دہشت گردوں کی موجودگی سے محفوظ رکھا جائے۔ بہر حال خلیجی جنگ کے نتیجہ میں شمالی عراق میں طاقت کا جو توازن قائم ہوا اس سے کردستان ورکر ز پارٹی کے خلاف ترکی کی جدوجہد کو دھچکا لگا۔

 اس کے نتیجہ میں خاص طور پر سیکورٹی معاملہ پرترکی کی عراق سے متعلق پالیسی مشروط ہوگئی۔ بہر حال جب ترکی کا سخت موقف مندرجہ بالا امور کی تکمیل میں ناکام ہوگیا اور متشدد دہشت گرد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو ترکی کے صدر ترگت اوزال نے اس وقت قائم ہوچکی کردستان علاقائی حکومت کے اثرات کے ذریعہ کردستان ورکرز پارٹی کو بات چیت کے میز پر لانے کی کوشش کی،یہ پہلا موقع تھا کہ عراق پالیسی میں سیکورٹی کے علاوہ دوسرے امور بھی شامل ہوئے خاص طو رپراقتصادی پہلو اور دوسرے سفارتی ہتھیار۔ ترگت اوزال نے کردوں کے لیڈر مسعود ہرزانی اور جلال طالبانی کوترکی سفارتی پاسپورٹ جاری کیا۔یہ دونوں پی کے کے لیڈر عبداللہ اوکلان سے1993میں قلیل مدتی جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہے۔ اوزال کے ذریعہ کرد علاقائی حکومت کو متعارف کرانے کی حکمت عملی ترک کے داخلی کرد مسئلہ کے حل کی سمت میں پہلا قدم تھا۔ ترکی کی عراق کے ساتھ خارجہ پالیسی میں فیصلہ کن وقت تب آیا جب1990میں کینیا میںپی کے کے لیڈرعسقلان کوحراست میں لیاگیااس میںامریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا تعاون بھی شامل تھا۔ پی کے کے لیڈر عسقلان کی گرفتاری سے پی کے کے کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان میں مدد ملی۔ پی کے کے لیڈر کی گرفتاری اور جنگ بندی کے اعلان سے سیکورٹی کے لحاظ سے ترکی کا خطرہ بھی کم ہوا۔ اس طرح عراق کی جانب سے تر کی پر حملوں کا سلسلہ کم ہوا اور 1990کی گرم فضا قدرے سرد ہوئی۔ یہ جنگ بندی اس وقت ختم ہوئی جب2003میں امریکہ کی قیادت میں اتحادیوں نے عراق پر قبضہ کیا۔ جس کے بعد صدام حسین کے عہد کا خاتمہ ہوا۔ خلیجی جنگ کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر اس قبضہ کے جواز میں کمی سے مستقبل کے پس منظر میں شکوک وشبہات پیدا ہوئے۔ اس موقع پر ترکی نے جو پالیسی اختیار کی وہ امریکہ سے یکسر مختلف تھی اس پر طویل عرصہ سے اس کے ساتھ رہے لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔قبضہ کے بعد استحکام اور امن کی عدم موجودگی ترکی کے لئے تشویش کا باعث بنی رہی۔

ترکی اور کردوں کے درمیان تشدد کی سطح پر تعلقات کو لے کر جو امکانات ظاہر کئے جارہے تھے وہ درست ثابت ہوئے اور کردستان ورکرز پارٹی نے جنگ بندی کے خاتمہ کا اعلان کردیا جو کہ تقرےباً6سال جاری رہی۔ کردوں کے ذریعہ حملوں میں اضافے اور اس سے عراق کے ساتھ کاروبار کرنے والے ترکی کے کاروباریوں کو جو خطرات لاحق ہوئے اس نے ترکی کے رویہ کو بھی متاثر کیا۔ اس میں اہم ترین پالیسی وہ تھی جس پر ترکی نے عمل کیا۔ یہ پالیسی عراق کے شمالی حصہ میں کسی آزاد کرد ریاست کو قائم نہیں ہونے دینے کی تھی۔ بہر حال عراقی قبضہ کی صورت حال میں جب تبدیلی آئی تو ترکی اور کرد رہنماﺅں کے ساتھ درمیان تعمیری تعلقات کی نوعیت بدل گئی جو گزشتہ سات برس کے دوران مزید تعمیری ہوئی ہے ترکی ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا ہوا جس کے تحت اس نے عراق میں ہر پارٹی سے تعلق استوار کئے۔

ماضی میں عراق کے شمال میں کرد تنظیموں سے رابطہ رکھنے سے ترکی نے احتراز کیا لیکن اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا احساس کرتے ہوئے انقرہ نے عراق کی نئی حقیقیوں کے مطابق کام کرنا شروع کردیا۔ انقرہ نے جنوب سے آنے والے دہشت گردی کے خطرہ سے مقابلہ کے لئے فوجی ذرائع پر اعتماد سے درےغ کیا۔ ترکی نے عراق میں عرب اور کرد رہنماﺅں سے اپنے روابط میں اضافہ کیا اور پی کے کے کے خطرہ سے نمٹنے کے لئے مزید تعاون کی ضرورت کو محسوس کرنے پر مجبور کردیا۔2007میں ترکی کا یہ نیا موقف بے اثرہوگیا۔2007کے بعد کا عرصہ اور جسٹس اینڈڈیولپمنٹ پارٹی(اے کے پی)کے اقتدار کے قیام سے اے کے پی کو مزید اعتماد ‘بے خوفی سے کام کرنے اور کردش اوپننگ کے اعلان کا وسیع تر موقع فراہم ہوا۔ جس کے تحت کرد عوام کو مزیداجتماعی اور انفرادی حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ پڑوسیوں کے ساتھ نئی پالیسی۔”پڑوسیوں سے کوئی خطرہ نہیں اور کردش اوپننگ کی حکمت عملی“ کے ذریعہ ترکی نے اوزال کے متعین کردہ اصولوں کو اپنا کر کرد علاقائی حکومت کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو استوار کرنے کی کوشش کی۔ بس ایک ہی الگ نوعیت کا کام ہے جو اردگان کی پارٹی نے کیا وہ یہ کہ ماضی کے مقابلہ سیاسی اور اقتصادی روابط کو مضبوط کرنے کے لئے انہوں نے زیادہ پختہ انداز میں کوششوں کا آغاز کیا۔

2009کے شروع ہوتے ہی ترکی اور عراق کے تعلقات میں ایک نیا فیکٹر مزاحم ہونے لگا۔2011میں عراق سے امریکی افواج کا منصوبہ بند انخلاءاور عراق کو غیر مستحکم کرنے کی امریکی خواہش۔2009کے بعد ترکی اور عراق نے بہت سے اقدامات کئے تھے۔ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سیکورٹی اب بھی ایک اہم مسئلہ تھا لیکن اس انحطاط میں ان کی برتری کا راز بھی پنہاں تھا۔ تجارتی اور اقتصادی تعلقات سمیت دوسرے نئے عوامل ترکی عراق تعلقات میں اب بھی اہم رول ادا کررہے ہیں۔ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی غرض سے دونوں کے درمیان متعدد امور پر معاہدے بھی ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے بہت سے اہم واقعات انجام پذیر ہوئے جس سے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہوئے ان کے درمیان مستحکم تعلقات اور وسیع باہمی روابط مضبوط ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک شراکت داری ، کونسل کے قیام اور اعلیٰ سطحی لیڈروں کے دورے سے ممکن ہوا۔ سیاسی اور اقتصادی طور پر ان کے تعلقات میں آئی بہتری سے ماضی کے مقابلہ دونوں پڑوسی ملکوں کو سیکیورٹی کے مسئلہ کو حل کرنے میں مدد ملی ہے۔ عراق سے متعلق اپنی نئی خارجہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ترکی نے کردوں سے اپنے روابط بحال کئے اور عراق میں مختلف پارٹیوں سے بات چیت کی پہل کی۔ ترکی نے مختلف مذاہب اور نسل کا پس منظر رکھنے والے لیڈروں کی ترکی میں میزبانی کی۔ اس کی مثال مقتدیٰ الصدر اور عامر الحاکم جیسے شیعہ لیڈروں کے دورے سے دی جاسکتی ہے۔2009میں عراقی دارالحکومت پربمباری کے بعد عراق اور سیریا کے درمیان پیدا شدہ شکایات کے ازالہ میں بھی انقرہ نے کلیدی رول ادا کیا۔ اس سے گزشتہ کچھ سالوں میں اس خطہ میں ترکی کے بڑھتے قد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مختلف سیاسی پارٹیوں اور خاص طور پر کے آر بی(کردستان علاقائی حکومت) کے تعلق سے ترکی نے جس اصول پر عمل کیا اس سے ترکی اور عراق کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ اب خطہ میں ایک نیا پہلو یہ پیدا ہوا ہے کہ ترکی جس قدر عراقی کردوں کے نزدیک ہوگا۔ بغداد اس سے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا۔ ستمبر 2012میں طیب اردگان نے عراقی لیڈر نوری المالکی کو اپنی پارٹی کے ایک اجلاس میں استنبول مدعو کیا اس سے باہمی تعلقات میں بہتری آنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں جو کہ کرد علاقائی حکومت سے ترکی کی بڑھتی قربت کے سبب بڑی حد تک خراب ہوگئے تھے۔ بہر حال دوسرے دوروں کی پیش کش کو مالکی نے مسترد کردیا جو اب میں ترکی سے جو مہمان عراق آئے اس نے بغداد کا دورہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے کردستان علاقائی حکومت کی راجدھانی اربل کا دورہ کیا۔ ترکی اور عراق کے مابین تعلقات کی یہ نوعیت معمول کی بات ہوگئی ہے کیونکہ عراق میں رہنے والے کردانقرہ کے قریب ہوگئے ہیں۔

دراصل دوایسے علاقائی اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ تبدیلی رونما ہوئی۔ اول2007 سے انقرہ اور کے آرجی کے درمیان بڑھتی قربت۔ کردوں نے یہ حکمت عملی عراقی خطہ میں ایرانی اثرات کو براثر رکھنے اور طاقت کو مرکزیت دینے کی غرض سے اپنائی ہے۔ اس سیدھی اور موثر حکمت عملی کی تکمیل کے لئے کے آرجی(KRG) نے ترکی کے سامنے متعدد تجاویز رکھی ہیں۔ ان میں سے اہم تعمیراتی منصوبوں کو ترکی کمپنیوں کے حوالہ کرنے کا ہے( اربل اور سلیمانیہ میں ہوائی اڈووں کی تعمیر) دوسری طرف 2003میں عراق پر قبضہ کے بعد سے امریکہ نے ترکی ۔کے آر بی تنازعہ سے بے پرواہوکر اس مفاہمت کی شدت سے حمایت کی۔

عرب بہاریہ سے حالیہ علاقائی عمل بھی متاثر ہوا۔ اسد حکومت کے خلاف علاقائی اپوزیشن میں انقرہ نے مرکزی رول اختیار کیا جس کی وجہ ان ایرانیوں میں غم وغصہ پھیل گیا جو دمشق کی حمایت کرتے تھے۔ ترکی اب یہ محسوس کررہا ہے کہ بغداد پر تہران کا تسلط بڑھتا جارہا ہے ترکی یہ یقین کرنے پر بھی مجبور ہے کہ ایران کی قیادت میں شیعہ کا محور اس کے جنوب میں عراق سے لے کر سیریا تک پھیل رہا ہے۔ اس تجزیہ نے انقرہ کو مجبور کیا کہ ایرانی قیادت والے شیعہ اتحاد کا جواب دینے کے لئے وہ ساتھیوں کی تلاش کرے۔ چنانچہ کے آرجی اور عراق کی سنی آبادی، ایرانی اثرات کے مقابلہ اس کے موثر رفیق ہیں۔ اس تناظر میں ملک میں داخلی حرکیات اور سرحدی خطہ میں ترقی کے سبب عراق رفتہ رفتہ ایک مضبوط چیلنج بنتا جارہا ہے۔ نوری المالکی کا ملک کے اقتدار پر قابض ہونا سیریا کی آمر حکومت کی حمایت اور ایران کے ذریعہ باہمی تعلقات کو نازک بنا دینا ترکی کے لئے ایک چیلنج کی صورت حال کھڑی ہوگئی ہے حالانکہ ترکی نے عراقی عوام کے تمام دھڑوں کو ایک سات لانے کی کوشش کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی میں تکثیریت بھی پیدا کی ہے۔

ادھر پی کے کے نے ترکی کے علاقہ میں ا پنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ پی کے کے کی جانب سے برپا کئے گئے تشدد کے نتیجہ میں 700سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں۔ تشدد کے یہ تمام واقعات اگست2011اور ستمبر 2012کے درمیان رونما ہوئے ہیں۔ ترکی کا خیال ہے کہ اس خطرہ کو سیر یائی حکومت اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔ مثال کے طور پر غازیان ٹیپ(Gaziantep) میں اگست 2012میں جو دھماکہ ہوااس کے لئے ترکی کے نائب وزیراعظم بولینٹ ایرنک (Bulent-Arinc)نے الزام عائد کیا کہ اس کی پشت پناہی ایران نے کی اور بعد میں پی کے کے اور ایرانیوں کے تعلقات کی رپورٹیں بھی منظر عام پر آگئیں۔ اس تمام صورت حال نے ترکی اور کردستان علاقائی حکومت کے ایک دوسرے کے ساتھ آنے میں مثبت اثرات مرتب کئے، خاص طور پرانقرہ قندیل پہاڑیوں میں پی کے کے کے خلاف لڑائی کے لئے اربل کواستعمال کرنے کا منصوبہ بنارہاہے جو کہ شمال مشرقی عراق میں اس خطہ کے قریب ہے جہاں کے آرجی کو کنٹرول حاصل ہے۔

اس دوران اس طرح کے واقعات نے انقرہ اور بغدادکے آپسی تعلقات پربھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ عراقی حکومت کی رائے ہے کہ ترکی نے بغداد کے تئیں عدم احترام کا رویہ اپناتے ہوئے اربل میں کے آربی سے براہ راست معاہدہ کیا۔بغداد کا یہ بھی ماننا ہے کہ تعلقات میں خرابی اس لئے آئی کیونکہ ترکی نے المالکی کے تعلق سے بھی عدم احترام کا اظہار کیا۔

تعلقات کو خراب کرنے میںایک اور مضبوط فیکٹرکام کررہاہے اور وہ ہے کے آرجی کی توانائی کی دولت ۔ ترکی نے اس کے لئے روایتی طور پر بغداد سے رابطہ کیا جو اس بات کا اظہار ہے کہ عراق کے ساتھ توانائی معاہدہ اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان معاہدوں اور سودوں کے لئے عراق کی منشا ءکے مطابق اور عام بین الاقوامی عمل کی بنیاد پر ہوئے ہیں۔ ترکی اب بھی یہی موقف رکھتاہے اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ترکی کے وزیر توانائی تانیرا ریلدز(TanerYildiz)نے کہا ہے کہ کردستان علاقائی حکومت کے ساتھ پائپ لائن کے کسی معاہدہ پر دستخط سے پہلے انقرہ،بغداد سے اس کی رضا مندی حاصل کرے گا۔ لیکن اب اس معاملے میں کچھ غیر یقینی کی سی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ حال کے دنوں میں عنقرہ کے رشتے المالکی سے ٹوٹ چکے ہیں۔ درحقیقت حالیہ کاروباری فیصلے عراق کے تعلق سے ترکی کے رویے میں اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عرب بہاریہ کے بعد علاقائی صورتحال میں تیزی سے آنے والی تبدیلی اور عراق سے امریکی افواج کے انخلاءسے بھی انقرہ اوربغداد کے رشتوں میں تلخی آئی ہے۔ ترکی کو اب کئی خطرات کا سامنا ہے ان میں پی پی کے کا طاقت حاصل کرنا، سیر یائی بحران اور ایران سے بڑھتی ہوئی مقابلہ آرائی شامل ہے۔ اس صورتحال میں کردستان علاقائی حکومت (کے آرجی)انقرہ کے ساتھ اپنی حکمت عملی تبدیل کررہی ہے اور اگر اس پر عمل ہوا تو ان پائپ لائنوں کے راستے میں کچھ اس طرح کی تبدیلی لائی جاسکتی ہے جو ترکی کی حکمت عملی کے مطابق بغداد اور اربل کے تعلقات سے مماثل ہوں اور اس پر فٹ بیٹھتے ہوں۔

اس طرح امریکہ کی ترکی اور کے آر بی کو قریب لانے کی طویل عرصے پر انی دلی خواہش سچ ثابت ہوئی ہے۔ اگر چہ وہ عوامل جن کی وجہ سے بغداد اور انقرہ کے رشتے خراب ہورہے ہیں امریکہ کے لئے باعث تشویش ہیںکہ اس عمل کو مزید بہتر طور پر پورا کیا جاسکتا تھا۔ باہمی رشتوں کے حوالہ سے یہ تبدیلی توازن کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا آئینہ بھی ہے۔ کے آرجی کا ترکی کے قریب آنا، ایران کو مشتعل کرسکتا ہے۔ انقرہ کے لئے پی کے کے کے ذریعہ عراق اور ایران سرحد پر کی جارہی تازہ تشہیربھی باعث تشویش ہے۔ ان حالات میں ترکی اور کے آر جی کا ایک دوسرے کے مزید قریب آنا کوئی بعید نہیں ہے۔ ویسے مستقبل قریب میں ان تعلقات میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

تجزیاتی طور پر ترکی اور عراق کے حالیہ تعلقات کو ہم دوحصو ںمیں تقسیم کرسکتے ہیں پہلا حصہ 2004میں عراق پر امریکہ کے قبضہ سے 2010کے انتخابات تک محیط ہے کہ جب المالکی اتحاد کو کامیابی ملی ۔ اسے ترکی عراق کے تعلقات کا ابتدائی مرحلہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ دوسرا حصہ عنقرہ اور بغداد کے درمیان پیدا ہوئی تلخی کا آئینہ ہے جو 2010میں المالکی کے اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہوا۔

...


Advertisment

Advertisment