Today: Monday, November, 20, 2017 Last Update: 12:59 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

داعش امریکہ اور یوروپی ممالک کی پیداوار

داعش امریکہ اور یوروپی ممالک کی پیداوار


عالم اسلام کو دشمن کی خفیہ چالوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، مسلمانوں کیلئے ریزرویشن ضروری ، جمعیۃ علماء ہند کے مجلس منتظمہ کے دو روزہ اجلاس کے دوسرے دن جمعیۃعلماء کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا انتباہ
مجلس منتظمہ کے ذریعہ منظورکی گئیں اہم تجاویز
پچھلے 60 سالوں سے جس طرح مسلمانوں کا سیاسی استحصال کیاگیا اور انہیں جس طرح تفریق اور تعصب کا شکار بنایاگیا اس کے نتیجہ میں مسلم نمائندگی سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں صفر درجہ تک جاپہنچی ہے۔چنانچہ اس ناانصافی کے تدارک کا واحد راستہ یہ ہے کہ تعلیمی، سماجی، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں انہیں ریزرویشن دیا جانا چاہئے ۔
موجودہ حکومت ایک مؤثر انسدادفسادات بل منظور کرے تاکہ نہ صرف انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جاسکے بلکہ تشدد برپا کرنے والوں کو سزائیں بھی مل سکیں اور ملک میں امن و امان قائم ہوسکے۔
ہمارا اختلاف کسی فرد واحد سے ہرگز نہیں ہے بلکہ ہمارا اختلاف اس ذہنیت سے ہے جو اس ملک میں صدیوں سے رہنے والوں کے درمیان منافرت پھیلاکر اور غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرکے انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنارہی ہیں۔
(جاوید قمر کی خصوصی رپورٹ)

دیوبند،16؍نومبر:داعش تحریک امریکہ کی تیار کردہ اور پروردہ ہے۔اس معاملے میں امریکہ اور یوروپی ممالک دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایک بڑی سازش کے تحت دنیا بھر سے ان نظریات کے حامی لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا جارہا ہے۔ پہلے ان کا استعمال کیا جائے گا اور مطلب بر آوری کے بعد ان کا بھی صفایا کردیا جائے گا۔ یہ باتیں آج جمعےۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کے دوروزہ اجلاس کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں عالم اسلام کے موجودہ حالات سے متعلق منظور شدہ تجویز کے پس منظر میں جمعےۃ کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہیں۔ عالم اسلام میں برپا سورش پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی عرب بہاریہ کی کوکھ سے اس بدامنی نے جنم لیا ہے جس کی آگ میں آج شام، عراق، لیبیا اور کسی حد تک مصر اور یمن جل رہے ہیں۔ عالم اسلام کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو دشمن طاقتوں کی ان خفیہ چالوں سے ہوشیار اور محتاط رہنے کی سخت ضرورت ہے۔قابل ذکر ہے کہ آج کے اجلاس میں جہاں تنظیم کے نائب صدور اور خازن کا مجلس منتظمہ کے ذریعہ انتخاب ہوا وہیں سات اہم تجاویز بھی منظور ہوئیں۔ ان تجاویز میں عالم اسلام کے موجود حالات سے متعلق تجویز کے علاوہ باہمی رواداری، فرقہ وارانہ فسادات بل، مسلم ریزرویشن، بے قصور گرفتار مسلمانوں کی رہائی کے لئے خصوصی عدالتوں کا قیام اور با عزت بری ہونے والوں کی باز آبادکاری، فلسطین اور اصلاح معاشرہ سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔ مسلم ریزر ویشن کے تناظر میں مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ ہمارا کوئی نیا مطالبہ نہیں ہے بلکہ جمعےۃ علماء ہند گزشتہ بیس سال سے مسلسل مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ریزویشن دینے کا مطالبہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 60سالوں سے جس طرح مسلمانوں کا سیاسی استحصال کیاگیا اور انہیں جس طرح تفریق اور تعصب کا شکار بنایاگیا اس کے نتیجہ میں مسلم نمائندگی سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں صفر درجہ تک جاپہنچی ہے۔چنانچہ اس ناانصافی کے تدارک کا واحد راستہ یہ ہے کہ تعلیمی، سماجی، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں انہیں ریزرویشن دیا جانا چاہئے اور اسی طور مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کو جمہوریت اور اس کے سیکولر اقدار کے لئے ایک کھلا ہوا چیلنج قرار دیتے ہوئے مولانا محترم نے کہا کہ یہ مسئلہ جس قدر اہمیت اور خصوصی توجہ کا طالب ہے ہماری حکومتیں اسی قدر اس سے غفلت برت رہی ہیں۔ جہاں کہیں بھی فسادات ہوتے ہیں اس میں وہاں کی انتظامیہ کی لاپرواہی اور فسادیوں کی درپردہ ہمت افزائی بھی شامل ہوتی ہے اس لئے جمعےۃ علماء ہند کے اسٹیج سے ہم ایک عرصہ سے حکومتوں سے یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ جہاں کہیں بھی فساد ہواس کے لئے وہاں کی انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جائے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کانگریس نے اپنے گزشتہ انتخابی منشور میں اس حوالے سے بل لانے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی یہاں تک کہ یوپی اے سرکار نے انسداد فساد بل کو منظور کرانے میں بھی سنجیدگی اور دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ بی جے پی سے سودے بازی کرکے تلنگانہ بل پر اس اہم بل کو قربان کردیاگیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت ایک مؤثر انسداد فسادات بل منظور کرے تاکہ نہ صرف انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جاسکے بلکہ تشدد برپا کرنے والوں کو سزائیں بھی مل سکیں اور ملک میں امن و امان قائم ہوسکے۔
مولانا محترم نے آج ایک بار پھر باہمی رواداری کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک مختلف مذاہب ، تہذیبوں اور زبانوں کا گہوارہ ہے اور اسے جمہوریت اور سیکولرزم کے ذریعہ ہی متحد رکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پھر وضاحت کی کہ ہمارا اختلاف کسی فرد واحد سے ہرگز نہیں ہے بلکہ ہمارا اختلاف اس ذہنیت سے ہے جو اس ملک میں صدیوں سے رہنے والوں کے درمیان منافرت پھیلاکر اور غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرکے انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنارہی ہیں۔ انہوں نے باہمی اخوت، رواداری اور بھائی چارہ کی قدیم روایت کو ازسرنو زندہ کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور ارباب مدارس کو تحریک دی کہ وہ خود پہل کرکے برادروطن کے سامنے اپنی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے دل کے دروازوں کو کھولنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی کشادہ ذہنی کا مظاہرہ کرکے اکثریتی فرقہ کے افراد کو مدارس کے پروگراموں میں بھی مدعو کریں۔ اس سے نہ صرف دونوں فرقوں کے مابین اتحاد کی ایک نئی روایت قائم ہوگی بلکہ مدارس کے تعلق سے ہونے والے پروپیگنڈوں کااثر بھی زائل ہوجائے گا۔ انہوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ آج کے حالات میں اگر ہمیں امن و سکون کے ساتھ زندہ رہنا اور فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینا ہے تو ہمیں براداران وطن کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کرنے میں پہل کرنی ہوگی لیکن اس کے ساتھ ہی اکثریتی فرقہ کو بھی اپنی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ واضح ہو کہ اس موقع پر مفتی عبدالرزاق بھوپالی اور مولانا نذیر احمد بہار کو نائب صدر اور حاجی جمال الدین تامل ناڈو کو متفقہ طور پر خازن منتخب کیاگیا۔ جبکہ جن حضرات نے تجاویز کی تائید کی ان میں مولانا سیداشہد رشیدی صدر جمعےۃ علماء یوپی، مفتی اشفاق اعظمی نائب صدر یوپی، قاری معین الدین صدر بہار، مولانا حبیب الرحمن صدر جھارکھنڈ، مولانا سید اسجد مدنی رکن مجلس عاملہ جمعےۃ علماء ہند، مولانا عبدالرشید جنرل سکریٹری آسام، مفتی غیاث الدین صدرآندھرا پردیش، مولانا مستقیم احسن اعظمی صدر جمعےۃ علماء مہاراشٹر، جناب گلزاراعظمی مہاراشٹر، پروفیسر نصراللہ، مولانا حسن قادری جنرل سکریٹری بہارکے علاوہ مختلف ریاستوں کے صدور اور ذمہ داروں نے جہاں ان تجاویز کی تائید کی وہیں ہزاروں کی تعداد میں موجود مجلس منتظمہ کے ارکان نے بھی اپنا ہاتھ اٹھاکر ان تجاویز پر اپنی رضامندی کی مہر ثبت کردی۔

...


Advertisment

Advertisment