Today: Wednesday, September, 20, 2017 Last Update: 11:40 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

انتہائی با صلاحیت ہونے کے باوجود پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم بننے نہیں دیا گیا

انتہائی با صلاحیت ہونے کے باوجود پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم بننے نہیں دیا گیا

 

مودی نے ممتا بنرجی پر بنگال کی تقدیر بدلنے میں ناکام رہنے کالگایا الزام،کانگریس کا پلٹ وار،کہا بزرگوں کی بے عزتی کرنے والے مودی اپنے گریبان میں جھانکیں

کلکتہ، 5 فروری : بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی نے آج مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کو ریاست کی تقدیر بدلنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے مرکز میں حکمراں کانگریس کو بھی صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا کہ انتہائی با صلاحیت ہونے کے باوجود انہیں 1984 اور پھر2004 میں وزیر اعظم بننے نہیں دیا گیا۔ یہاں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی نے کہا کہ نام نہاد تیسرے محاذ کی جماعتوں کو یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ ملک میں بی جے پی کے حق میں ایک لہر چل رہی ہے۔جو لوگ تیسرے محاذ کی بات کرتے ہیں وہ آکر دیکھ لیں کہ ہوا کدھر چل رہی ہے۔مسٹر مودی کے اس خطاب کے ساتھ آج بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے لئے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کا آغاز کیا۔نریندر مودی نے کہا “بنگال کا گجرات کے ساتھ خصوصی رشتہ ہے میں نے کبھی کلکتہ میں اتنی بڑی ریلی نہیں دیکھی۔انہوں نے کہا “مغربی بنگال سے گجرات کی کپڑے کی صنعت کو ترقی دینے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے بھائی نے احمدآباد کی ترقی میں بہت بڑا رول نبھایا تھا۔مسٹر مودی نی کہا کہ 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی کے قتل کے بعد سنئیر کابینی رکن کے طور پر مسٹر مکھرجی وزیر اعظم بننے کے حقدار تھے لیکن انہیں یہ حق نہیں ملا۔اس کے بعد 2004 میں بھی اس کا ازالہ کرنے کی کوئی کوشش کانگریس کی طرف سے نہیں کی گئی۔مسٹر مودی نے ریاست کے لوگوں سے کہا کہ آپ نے ان لوگوں کو تو نکال باہر کردیا جو 35 سال سے مغربی بنگال کو تباہ کررہے ہیں، یہ ایک اچھا آغاز ضرور مگر میں جانتا چاہتا ہوں کہ کیا پریورتن(تغیر) آیا کیا آپ تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔ آپ ممتا کو ووٹ دیں گے تو اپنا ووٹ ضائع کریں گے۔انہوں نے کہا آج وہ مغربی بنگال کے لوگوں سے براہ راست بات کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے درمیان کچھ نہیں آنا چاہئے۔مسٹر مودی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات تو ابھی نہیں ہورہے ہیں مگر کیا آپ لوگ ایک کام کرسکتے ہیں بنگال جو اس ملک کو راہ دکھاتا آیا ہے۔کل بھی دکھائے گا آپ بس اتنا کریں کہ بی جےپی کو مغربی بنگال کی ساری لوک سبھا سیٹیں جتا دیں کیونکہ ہندستان تبھی عالمی رہنما بنے گا جب بنگال ملک کا قائد بنے گا ہمیں ایسا ہندستان بنانا چاہئے جس کا خواب سوامی وویکانند نے دیکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے لوگ انقلابی ہیں۔ انتخابات میں بڑے بڑے فیصلہ کرتے ہیں اب 2014 میں بھی ایک دلیرانہ فیصلہ کریں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں اگر آپ بنگال میں بی جے پی کا خیر مقدم کرتے ہیں تو میں بنگال میں وہ سب کروں گا جو یہاں پچھلے 60 سال میں نہیں ہوا۔ترقی کاکارڈ دکھیلتے ہوئے بی جے پی کے وزیراعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی نے آج مغربی بنگال میں اپنی پہلی ریلی میں ممتا بنرجی حکومت اور کمیونسٹ اپوزیشن پر چو طرفہ حملہ کیا۔بنگال میں اپنی پارٹی کے لئے جگہ بنانے کےلئے لوگوں کی ر گ کو چھوتے ہوئے بی جےپی لیڈر نے برگیڈ پریڈ گراونڈ میں وسیع مجمع کو متاثر کرنے کےلئے کوئی دقیقہ فرو گداشت نہیں کیا اس کےلئے انہوں نے ٹیگور کی نظمیں سنائیں اور وزیراعلی ممتا بنرجی کا نعرہ ماں ،ماٹی منش بھی ان سے چھین لیا۔دوسری جانب پارٹی کے بزرگوں کی بے عزتی کرنے کے سوال پر آج کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر پر زبردست حملہ کرتے ہوئے صلاح دی کہ بزرگوں کی عزت کیسے کی جاتی ہے پہلے وہ خود اس کی تعلیم حاصل کریں۔واضح رہے کہ مسٹر مودی نے کولکاتا ریلی میں کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد مسٹر پرنب مکھرجی سب سے سینئر لیڈر تھے اور انہیں وزیراعظم نہیں بننے دیا گیا ۔ ان کے اس الزام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہاکہ پارٹی کے بزرگوں کی بے عزتی کا الزام لگانے سے پہلے مسٹر مودی اور ان کی پارٹی کو یہ یاد کرنا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے اپنی ریاست کے سب سے سینئر لیڈر کیشو بھائی پٹیل کو بے عزت کرکے نہ صرف وزیراعلی کے عہدہ سے ہٹایا بلکہ پارٹی سے ہی باہر نکال دیا۔مسٹر سورجے والا نے کہاکہ ہیرین پانڈیا اور سنجے جوشی کس طرح مسٹر مودی کے عتاب کے شکار ہوئے یہ سب کو معلوم ہے اور پورے ملک نے یہ بھی دیکھا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر لال کرشن اڈوانی کو کس طرح پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے پر مجبور کردیا۔ترجمان نے کہاکہ بہتر ہوگا کہ مودی ہمیں درس نہ دیں بلکہ اپنا محاسبہ کریں۔

...


Advertisment

Advertisment