Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:08 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

فرقہ پرستی کے سر کو کچلنے کیلئے ہندو مسلم اتحاد ضروری

فرقہ پرستی کے سر کو کچلنے کیلئے ہندو مسلم اتحاد ضروری

 

ارباب مدارس اپنے محدود دائرے سے باہر نکل کر محبت اور اتحاد کے پیغام کو عام کریں،جمعیۃ علماء ہند کے کل ہند مجلس منتظمہ کے افتتاحی اجلاس سے مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کا خطاب

(دیوبند سے جاوید قمر کی خصوصی رپورٹ)
ملک کو استعماری طاقتوں سے نجات دلانے اور آزادی حاصل کرنے کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں نے جو طویل اور کامیاب جدوجہد کی تھی آج فرقہ پرستی کے سر کو کچلنے اور اسے نیست و نابود کرنے کے لئے ایک بار پھر ہمیں اسی ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت ہے۔ یہ گراں قدر الفاظ جمعےۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آج دیوبند میں منعقدہ دو روزہ قومی مجلس منتظمہ کے پہلے دن کے پہلے سیشن سے خطاب کے دوران کہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی زیادہ ذمہ داری ارباب مدارس پر عائد ہوتی ہے کہ ایک بار پھروہ اپنے محدود دائرہ سے باہر نکل کر امن و اخوت کے پیغام کو عام کریں اور برادران وطن کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا رشتہ استوار کرکے فرقہ پرستی کی اس دیوار کو توڑ دیں جو ملک کی تقسیم کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دانستہ کھڑی کردی گئی تھی۔مولانا محترم نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ دیوار مزید بلند ہوتی رہی ہے۔ لیکن اب فرقہ پرستی جس خطرناک شکل میں ہمارے سامنے آکھڑی ہوئی ہے اور جس طرح ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب رہے ہیں اس سے مقابلہ اب اسی صورت میں کیاجاسکتا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے اور ان کے درمیان جو نفرت کی دیوار موجود ہے اسے آپسی اتحاد اور محبت کی طاقتسے زمیں بوس کردیا جائے۔تاریخ کے حوالے سے مولانا نے کہا کہ جب ملک آزاد ہونے والا تھاتو جمعےۃ کے قائدین نے کانگریسی رہنماؤں سے بار بار اس بات کا عہد لیا تھا کہ آیا ملک کا دستور سیکولر رہے گا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعےۃ کے قائدین کو کانگریسی رہنماؤں نے بار بار اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ ملک کا دستور نہ صرف سیکولر ہوگا بلکہ یہاں اقلیتوں کو مکمل حقوق بھی حاصل ہوں گے۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کا دستور سیکولر تو بن گیا لیکن آزادی کے بعد سیکولر اقدار کا تحفظ ایمانداری سے نہیں ہوا۔ انہوں نے آگے کہا کہ آزادی کے ان برسوں کے دوران ملک میں 20ہزار سے زائد فسادات ہوچکے ہیں ان میں50ہزار سے زائد مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹا جاچکا ہے۔ لیکن اس کے لئے کسی ایک قصور وار کو بھی کبھی کوئی سزا نہیں دی گئی۔ ملک کے موجودہ حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ لوگ برسراقتدار آگئے ہیں جو اقلیتوں کو جینے کا حق نہیں دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کون آرہا کون جارہا ہے، کس کے ہاتھ میں اقتدار ہے ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے بلکہ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان حالات میں جب ہمیں جینے کے حق سے بھی محروم کردینے کی کوشش ہورہی ہے کیا ہم اس ملک میں اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔انہوں نے انتباہ کیا کہ فرقہ پرستوں کے اقتدار میں آنے سے سب سے بڑی چوٹ مسلمانوں پر پڑے گی۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ ہم اقلیت اور اکثریت میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ ہماری تہذیب، ہمارا رہن سہن، ہماری زبان، ہمارے آباء و اجداد سب کچھ ایک ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے ساتھ اگر تفریق برتی جارہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم لاالہ الا اللہ کے ماننے والے ہیں۔موجودہ حالات کی بخیہ گری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ حالات میڈیا کے ایک بڑے حلقے نے پیدا کیے ہیں اور اس نے سیکولر محاذ کو دفن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ مولانا محترم نے ایک بار پھر کہا کہ ملک کا وزیراعظم کون ہے اور کون سی پارٹی برسراقتدار ہے یہ کوئی مسئلہ نہیں،بنیادی مسئلہ تو اس تنظیم کی ذہنیت کا ہے جو مسلمانوں کو وقار اور امن کے ساتھ جینے کا حق نہیں دینا چاہتی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کو فرقہ پرستی سے کس طرے نجات دی جائے۔ کیوں کہ اگر یہ موجود رہی تو اس کا سب سے بڑا نقصان مسلمانوں کو ہوگا۔چنانچہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اکثریت کے لوگوں کے ساتھ دوستی اور محبت کی پہل کرنی ہوگی اور جمعےۃ علماء ہند اس کی پہل کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے الگ تھلگ کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کا فقدان ہے لیکن بنیادی سوال تو یہ ہے کہ ان پر تعلیم اور دوسرے شعبوں میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے دروازے کس نے بند کئے۔انہوں نے بڑی صاف گوئی سے کہا کہ حکومت جو اسباب اور وسائل مسلمانوں کو فراہم کرسکتی تھی ایک پالیسی کے تحت انہوں نے مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا جس کے نتیجہ میں مسلمان پسماندگی کی آخری پائیدان پر جا پہنچا ہے جس کا ثبوت سچرکمیٹی کی رپورٹ ہے۔ صدر جمعےۃ نے کہا کہ آج جمعےۃ علماء ہند کا اجلاس اسی سوال پر غور و خوض کرنے کی غرض سے منعقد کیاگیا ہے کہ ایسے ناگفتہ بہحالات میں مسلمان کیا لائحہ عمل اختیار کریں اور کن خطوط پر عمل کرکے وہ اپنے لئے آگے بڑھنے کا راستہ کھول سکتے ہیں۔حال ہی میں مدارس کے تعلق سے منظر عام پر آنے والے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مولانا نے سوال کیا کہ اگر ہمارے مدارس پاک و صاف ہیں اور مسلمان دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں توپھر ان مسلم نوجوانوں کے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہو رہا ہے جو پچھلے20سال سے جیلوں میں بند ہیں؟ فسادات کی روک تھام کے لئے انسداد فساد بل کیوں نہیں لایا جاتا؟ مسلمانوں کو ریزرویشن دے کر ان کی پسماندگی دور کیوں نہیں کی جاتی؟انہوں نے کہا کہ یہ سب اس لئے نہیں کیا جارہا ہے کیوں کہ ان کی ذہنیت صاف نہیں ہے۔ مولانا نے آخر میں کہا کہ ان حالات میں اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو ہمیں ہندو مسلم اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔انہوں نے ایک بار پھر آگاہ کیا کہ فرقہ پرست ذہنیت ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان قائم منافرت کی دیوار کو اور مضبوط کرنا چاہتی ہے ایسے میں مسلمان اپنے حسن اخلاق سے آگے بڑھیں اور اس دیوار کو گرادیں۔ بعد ازاں د پورے ملک سے آئے ہوئے ہزاروں منتظمہ کمیٹی کے ممبران اور دوسرے مندوبین سے انہوں نے ایک عہد نامہ پر دستخط کرنے کی درخواست کی جس کے اہم نکات یہ ہیں:

میں عہد کرتا ہوں کہ

۱:۔ جمعےۃ علماء ہند کے مقاصد اور اس کے احکام و ہدایات کا پوری طرح پابند و وفادار رہوں گا۔
۲:۔ حتی الوسع ارکان شریعت کی پابندی کروں گا۔
۳:۔ انسانیت کی بنیاد پر ہر شخص کے ساتھ پیار و محبت کا رشتہ مضبوط کرتے ہوئے دکھ سکھ میں شریک رہوں گا اور اپنی صلاحیتوں کو اس مقصد کے لئے کام میں لاؤں گا۔
۴:۔ قیام امن، حفاظت وطن اور ملک کے تعمیری پروگراموں میں حصہ لوں گا اور شہری ضروریات کے لئے جدوجہد کروں گا۔
۵:۔ بلا امتیاز مذہب و ملک یتیموں، بیواؤں، مجبوروں اور مظلوموں کی امداد و خلق خدا کی خدمت کروں گا۔
۶:۔ بلا تفریق و مذہب شخصی، خاندانی اور آپسی تنازعات کو ختم کرانے کی کوشش کروں گا۔
۷:۔ عام ضرورتوں کو بلا اختلاف مذہب و ملت اور بلا لحاظ ذات و پات سب کے کام آؤں گا۔
۸:۔ فضول رسم و رواج اور اسراف بیجا کے خلاف رائے عامہ بیدار کروں گا۔
۹:۔ میری خدمات فی سبیل اللہ رضاکارانہ ہوں گی۔
ابتدا میں جمعےۃ کے ناظم عمومی مولانا عبدالعلیم فاروقی نے جمعےۃ کی دو سالہ رپورٹ پیش کی اور دارالعلوم کے استاذ حدیث مولانا حبیب الرحمن نے کردار اور حسن اخلاق کے تناظر میں ایک انتہائی پراثر اور بصیرت افروز تقریر کی۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس افتتاحی اجلاس کا آغاز قاری آفتاب استاذ شعبۂ قرأت دار العلوم دیوبند کی تلاوت سے ہوا جب کہ اس کی نظامت کے فرائض مولانا عبد العلیم فاروقی نے کامیابی سے انجام دیئے۔اجلاس میں تمام صوبوں کے صدور و سیکریٹری شریک ہوئے جن میں دارالعلوم کے اساتذہ شریک ہوئے جن میں مولانا قمر الدین صاحب، مولانا نعمت اللہ صاحب، مولانا یوسف تاؤلی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

...


Advertisment

Advertisment