Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:07 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

مشاعرہ تو ختم ہوچکا ہے

مشاعرہ تو ختم ہوچکا ہے

 

جس قوم کے تاجر اور عالم مشکوک ہوجائیں تو وہ قوم بزدل ہوجاتی ہے،ممتاز شاعر منور رانا سے جاوید قمر کا بیباک انٹرویو

منوّر رانا ہمارے ادب کا وہ نام ہے جو نظم اور نثر دونوں میں یدطولیٰ ہی نہیں رکھتا بلکہ اپنی انفرادیت کے نقوش بھی چھوڑ جاتا ہے۔ ان کی جو نثری کتابیں آئی ہیں انہیں پڑھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ اپنی فنی مہارت سے انہو ںنے غالب کی اس بیباک روایت کو زندہ کردیا ہے جو ان کے خطوط میں نظر آتی ہے۔ منوّر رانا اپنی نثر کے موجدبھی کہے جاسکتے ہیں اس لئے کہ ان کی نثری تخلیقات کو پڑھتے ہوئے ہر لمحہ یہ احساس غالب رہتا ہے کہ ہم منور رانا کی تحریر پڑھ رہے ہیں۔ یہ وصف برسوں کی محنت اورمشّاقی کے بعد ہی کسی فنکار کے حصہ میں آتا ہے۔ جہاں تک نظم کا تعلق ہے تو غزل ہی ان کا اصل میدان ہے اور اس میدان میں بھی وہ یکتا نظر آتے ہیں۔ اچھوتی زمینیں، اچھوتے قافےے، اچھوتے مضامین اور اچھوتی لفظیات کا استعمال منوّر رانا کی غزل گوئی کی شناخت ہے۔ذاتی ملاقاتوں میں جب وہ بولتے ہیں تو ان کے لہجہ کی بیباکی مزہ دے جاتی ہے۔ کسی موضوع پر بولتے ہوئے اچانک وہ کوئی ایسا جملہ چسپا ں کردیتے ہیں جو سامنے والے شخص کو ہنسنے پر مجبور توکردیتا ہے لیکن اسے کچھ سوچنے کی بھی دعوت دے جاتا ہے۔ پچھلے دنوں وہ دہلی تشریف لائے تو اپنی ایک قیمتی رات ہمارے نام کردی۔ ہمارے ساتھ ہمارے مدیر محمد مستقیم خاں بھی تھے۔ ہم ان کی گفتگو کے سحر میں کچھ ایسا کھوئے کہ وقت کی رفتار جیسے تھم کر رہ گئی۔ اس موقع پر ہم نے مسلمانوں کے مسائل، اردو اور مشاعروں کی صورت حال پر ان سے گفتگو کی۔ جسے ہم اختصار سے بطورخاص اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

س:منوّر رانا صاحب! اترپردیش نہ صرف مسلمانوں بلکہ اردو کے حوالہ سے ایک اہم ریاست ہے لیکن وہاں جو ملی سرکاری ادارے ہیں خواہ وہ مدرسہ بورڈ ہویا پھر اردو اکادمی اب تک اپنے سربراہوں سے محروم ہیں۔ اردو کی سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔ آخر اس بے حسی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

ج:دیکھئے اس کے لئے ہم زیادہ ذمہ دار ہیں۔ ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہمارے ووٹ سے ہی کوئی پارٹی اقتدار میں آسکتی ہے اس کے بعد ہم خاموش ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ اقتدار میں آنے والی پارٹیاں کچھ مسلمانوں کو وزارت کا تحفہ پیش کرکے مطمئن ہوجاتی ہیں۔ ہم سرکار سے مسلسل مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن مسلم وزیروں کا محاسبہ نہیں کرتے۔ ہمیں مسلم وزیروں کو یہ احساس دلانا چاہئے کہ آپ مسلمان ہیں تو آپ کو مسلمانوں کے کام کرنے چاہئے۔ سرکاریں بھی مسلمانو ںکے حوالہ سے مخلص نہیں ہیں۔ اگر کوئی سرکارمسلمانوں کا کچھ کام کرتی بھی ہے تو مروت میں کرتی ہے۔ یہ کسی ایک ریاست کی بات نہیں ہے۔ پورے ملک میں یہی حال ہے۔ ہمارے علماءکا بھی یہی حال ہے کہ وہ کچھ اس طرح لیڈروں سے ملنے جاتے ہیں جیسے کسی سیرت کے جلسہ میں شرکت کرنے جارہے ہوں۔ معاف کیجئے، ہمارے علماءملت کی آبرو ہیں لیکن اگر وہ مایاوتی کے پاس جوتے اتار کر جائیں ،ملائم کے سامنے گردن جھکاکر پیش ہوں تو کیا آپ میں جراءت رندانہ رہ جائے گی؟

س: لیکن مدرسہ بورڈ اور اردو اکادمی جیسے اداروں کو متحرک کرنا توسرکار کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان اداروں کو متحرک نہیں کیاگیا؟

ج: آپ کی بات درست ہے لیکن یہاں مسئلہ ایک انارسو بیمار والا ہے۔ میرے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ اردو اکادمی کا وائس چیئرمین بننے کی دوڑ میں تقریباً80لوگ شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عہدہ کی یہ کشش کیوں؟ یہاں اردو کی محبت کا جذبہ نہیں ہے بلکہ لال بتی والی گاڑی کا حصول،تھوڑا سا عیش اور رتبہ حاصل کرنے کی للک موجود ہے۔ میں آپ کے ساتھ یہ بات شیئرکرنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس عہدہ کی مسلسل پیش کش ہورہی ہے مگر میں مسلسل انکار کررہا ہوں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میرے اس بیان پر کافی ہنگامہ ہوا تھا جس میں میں نے کہاتھا کہ اگر آپ اردو کی ترقی چاہتے ہیں تو ان اکادمیوں کو بند کردیجئے۔ میں اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ اردو اکادمی کے ذریعہ اردو کی ترقی نہیں ہوسکتی حالانکہ میں نے یہ بیان اردو کے حوالہ سے دیاتھا یہ کسی فرد کے خلاف نہیں تھا لیکن جانتے ہیں کیا ہوا۔ اترپردیش اردواکادمی نے مجھے بلیک لسٹیڈ کردیا۔ ہر مشاعرہ سے میرا نام کاٹ دیاگیا یہاں تک کہ انعام کے لئے میری کسی کتاب کو شامل تک نہیں کیاگیا۔ میں اردو کی حد تک سمجھوتہ کرنے کا قائل نہیں۔ کولکاتہ میرا آبائی وطن نہیں ہے۔ میں وہاں عرصہ تک رہا ہوں اور اب برسوں سے لکھنؤ میں مقیم ہوں لیکن میرا نام وہاں کی گورننگ باڈی میں شامل ہے جبکہ میں اب تک مغربی بنگال اردواکادمی کی کسی میٹنگ میں شامل نہیں ہوا۔جہاں تک اردو کی خدمت یا ترقی کا سوال ہے عہدہ پانے کے بعد بیشتر لوگ ہر وقت کرسی بچانے اور جی حضوری میں مصروف رہتے ہیں ایسے میں اردو کی ترقی یا فروغ بھلا کس طرح ممکن ہے۔ دیکھئے جب آپ کا رویہ اس طرح کا ہوگا تو احتجاج کی لے ختم ہوجائے گی۔

س: آخر اس صورت حال کو کس طرح بدلا جائے یا پھر اردو کو جاہ ومنصب کے پرستاروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے؟

ج: نہیں میں نے وجوہات کی نشاندہیکی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔ اچھے لوگ بھی ہیں لیکن جہاں مفت خوروں کی اکثریت ہوگی وہاں ایسے لوگوں کی حیثےت کیا معنی رکھتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اردو اکادمیوں کی ذمہ داری ریاستوں پر چھوڑ دی گئی ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ان اکادمیوں پرمرکز کی نگرانی ہونی چاہئے۔ دہلی کے ایمس یا پی جی آئی کی طرز پر ریاستوں میں ’ایمس اور پی جی آئی ‘قائم ہوتے ہیں تو ان کی کارکردگی بھی ویسی ہی رہتی ہے۔ مرکز کا عمل دخل بھی رہتا ہے۔ ہوتا کیا ہے کہ ریاستی اردو اکادمیاں اردو کا کام کم سرکاروں کو خوش کرنے کا کام زیادہ کرتی ہیں۔ اس کی مثال بھی دینا چاہوں گا مغربی بنگال میں جب سی پی آئی کی سرکار تھی تو وہاں اردواکادمی کا60فیصد بجٹ واپس چلا جاتا تھا۔ درحقیقت ایسا کرکے اکادمی کے ذمہ داران وزراءاور سرکار کی خوشنودی حاصل کرناچاہتے تھے تاکہ ان کی کرسی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ چنانچہ میرا کہنا ہے کہ اگر واقعی حکومت اردو کے لئے سنجےدہ ہے تو ایک مربوط نظام تیار کرے ان اکادمیوں کی نہ صرف نگرانی کرے بلکہ انہیں امداد بھی فراہم کرے اگر ایسا ہوجائے تو پھر اکادمی کے ذمہ داران سرکاروں کو خوش کرنے کی روش چھوڑ کر ممکن ہے کچھ اردو کا کام کرجائیں۔

س:مشاعروں پر جو زوال آیا ہے آخر اس کا ذمہ دار کون ہے۔ آج کل شاعری کے نام پر مشاعروں میں جو کچھ پیش کیا جارہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟

ج: دیکھئے مشاعرہ تو ختم ہوگیا۔ یہ کلیہ ہے کہ جس چیز کا کامرشلائزیشن ہوگا اس کے معیار میں کمی آجائے گی۔ آج مشاعروں میں بہت پیسہ آگیا ہے۔ مشاعروں میں شاعرات اور متشاعروں کی جو بہتات نظر آرہی ہے اس کے لئے سامعین کا ذوق سماعت بھی گنہگار ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج جب ہمیں اسٹیج پر پہلی صف میں بٹھایا جاتا ہے تو افسوس ہوتا ہے کیونکہ ہماری جگہ وہ نہیں ہے۔ ہماری جگہ دوسری صف میں تو ہوسکتی ہے لیکن ہوا یہ کہ صف اول کے شعراءمشاعروں سے دور ہوگئے۔ اسے یوں سمجھ لیا جائے کہ جہاں زنخوں کی تعداد زیادہ ہوجائے گی وہاں مردبے چارہ اپنی عزت بچانے کو ہی ترجیح دے گا۔ مشاعروں کی حالت یہی ہے۔ اب معمولی سے معمولی مشاعروں کے شاعر کی جیب میں 25سے30ہزار روپے ہوتے ہیں جس قوم کی پڑھی لکھی خواتین میں60فیصد ربر کی چپلیں پہنتی ہوں وہاں مشاعروں کی شاعرہ 25ہزار کا سوٹ پہن کراسٹیج پر آتی ہو تو لعنت ہے ایسی زبان اور ایسے مشاعروں پر۔ اس زوال کے لئے مشاعرے کے وہ منتظمین بھی ذمہ دار ہیں جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلاں شاعر یا شاعرہ خود شعر نہیں کہتی اس کے پاس مانگے کااجالا ہے منہ مانگی قیمت پر نہ صرف بلاتے ہیں بلکہ تیسرے درجہ کی شاعری پر داد کے ڈونگرے بھی برساتے ہیں۔ اس ماحول میں جینون شاعر بے چارا اپنی عزت بچانے میں ہی مصروف نظر آتا ہے۔

س: اب ادھر آپ کی کون سی کتابیں آرہی ہیں؟

ج: ہندی میں نثر کی چار کتابیں ہیں۔ اردو میں نثر کی دو اور دوشاعری کی۔ اور بھی کچھ خاکے ہیں جنہیں تصویری شکل دیناہے۔

س: آپ کی طویل نظم نما غزل’مہاجر نامہ‘ ایک شاہکار ہے۔ نئی عزل کے حوالہ سے آپ کی غزلیں نئی جہت اور نئے رویہ کا اظہار ہیں آپ کی نثر نہ صرف ہمیں متاثر کرتی ہیں بلکہ منفرد اور ہندو پاک میں لکھنے والوں سے بالکل مختلف ہے اس کے باوجود کسی بڑے نقاد نے آپ کی طرف توجہ کیوں نہیں کی؟ ہمارے یہاں کے نقادوں کا ماننا ہے کہ شاعری پاکستان میں اچھی ہورہی ہے جبکہ ہندوستان میں نثر اچھی لکھی جارہی ہے۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟

ج: اصل میں پاکستان میں پیسہ ہے۔ ہمارے نقاد آسانی سے بک جاتے ہیں اس لئے انہیں احمد مشتاق تو دکھائی دےتے ہیں فراق گورکھپوری کی درک تک ان کی نگاہ نہیں پہنچتی۔ ایک بارخود پر لکھوانے کے لئے مجھے ایک صاحب نے پانچ ہزار کی پیش کش کی۔ اندازہ لگائیں کہ جب مجھ جیسے نااہل کو اتنے دیئے جاسکتے ہیں تو جن کی مارکیٹ ویلیو ہے ان کا سودا کتنے میں اٹھتاہوگا۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے جنگ اخبار نے لکھا کہ ادھر 16برسوں کے دوران بھارت سے تقرےباً55شاعر آئے لیکن منور رانا کو جو محبوبیت حاصل ہے وہ کسی کے حصہ میں نہیں آئی۔ یہ کہہ دینا بہت آسان ہے کہ مشاعروں کا شاعرخراب شاعری کرتا ہے۔ آپ یقین کریں کہ رسالہ میں جو غزلیں چھپتی ہیں ان میں ایک بھی مصرعہ ایسا نہیں ہوتا جسے پڑھا جائے۔ جو لوگ مولوی عبدالحق کی ڈکشنری رکھ کر شاعری کرتے ہیں وہ بڑے کار پینٹر تو ہوسکتے ہیں اچھے شاعر نہیں ہوسکتے۔میں ایمانداری سے کہوں تو ہر شاعر مرا پسندیدہ ہے۔ خاندان میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں مگر سب کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اردو والوں کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ اردو کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتے۔ فراق اس لئے بڑا شاعر تھا کہ وہ اردو کے ساتھ فارسی اور انگریزی زبان بھی جانتا تھا۔ اردو ادب میں اس نے جمالیات کا اضافہ کیا۔ دوتین برس قبل ایک سرد بھاشا مشاعرہ ہوا جس میں22زبانوں کے شاعروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ شاعر جب پڑھتا تھا تو ایک مترجم بھی ہوتا تھا جو اس کی تشریح کرتا جاتا تھا جب میری باری آئی تو مترجم نے کہا کہ منوّر رانا وہ خوش نصیب شاعر ہیں کہ اپنا کلام سنانے کےلئے انہیں کسی مترجم کی ضرورت نہیں۔ دیکھئے اردو تو ہماری روح اور شناخت ہے لیکن اس کے ساتھ ہمیں دوسری زبانوں کو بھی پڑھنا چاہئے تاکہ ہمارے علم میں وسعت پیدا ہو۔مگر المیہ یہ ہے کہ جس قوم کے پاس ڈھائی فیصد زکوٰة کا نظام موجود ہو اس کے پاس اپنے کالج اور اپنی یونیورسٹیاں نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو اس قوم کے تاجر بے ایمان ہیں یا پھر علماءاورمعاف کیجئے جس قوم کے تاجر اور علماءمشکوک ہوجائیں وہ قوم بزدل ہوجاتی ہے۔

...


Advertisment

Advertisment