Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:11 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

سال 2013 سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کےلئے یاد رہے گا

سال 2013 سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کےلئے یاد رہے گا

 

لال بتی کا غلط استعمال ولیو ان ریلیشین سے پیدا ہونے والے بچوں کو اختیار دیئے جانے جیسے سپریم کورٹ کے تاریخی حکم ہیں

 نئی دہلی ، 30 دسمبر : سال 2013 ووٹروں کو تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کا اختیار دینے ، دو سال یا اس سے زائد سزا پانے والے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے ، لال بتی کا غلط استعمال روکنے اور لیو ان ریلیشین سے پیدا ہونے والے بچوں کو اختیار دیئے جانے جیسے سپریم کورٹ کے تاریخی حکم اور فیصلوں کے لئے یادکیا جائے گا ۔ انتخابی عمل کو بہتر بنانے کی سمت میں جہاں سپریم کورٹ کا رخ اصلاح پسند نظر آیا اور اسے عام آدمی کی تعریف ملی ، وہیں دوسری طرف ہم جنس پرستی کے تعلقات کو جرم کے دائرے میں لانے پر سپریم کورٹ کو تنقیدکا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ایک سابق جج کی طرف سے ایک زیر تربیت خاتون وکیل کا جنسی استحصال کے معاملے پر بھی کورٹ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ سپریم کورٹ نے انتخابی عمل کو بہتر بنانے کے سلسلے میں جہاں کئی اہم فیصلے کئے وہیں سنجیدہ نوعیت کے معاملات کی جانچ کی ذمہ داری نبھانے والی ملک کی اہم ایجنسی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی ) کو ’ پنجرے سے آزاد‘ کرانے کی سمت میں بھی ہر ممکن کوشش کی ۔سال 2013 کو سپریم کورٹ کے ذریعہ انتخابات کے نظام کو بدعنوان عناصر سے آزاد کرانے کی کوشش کےلئے بھی یاد کیا جائے گا ۔ عدالت نے عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ آٹھ ( چار) کے تحت عوامی نمائندوں کو حاصل تحفظ کو ختم کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا پانے والے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ سنایا جس کے تحت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ اور ممبرپارلیمنٹ لالو پرساد یادو اور کانگریس کے راجیہ سبھا کے ممبر رشید محسودکو سزا ہوئی۔ اس کے علاوہ عدالت نے سیاسی جماعتوں کے ذریعہ عوام سے لبھاونے وعدے کرنے ، ووٹروں کو منفی ووٹ کا حق دینے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ساتھ ہی کاغذ کی پرچی کا نظام شروع کرنے کی بھی اہم رولنگ دی۔عدالت نے لیوان ریلیشن کو “ ازدواجی تعلقات کی نوعیت ” کے دائرے میں لانے کی سمت میں ہدایات طے کرکے اعتدال پسند فکر کا ثبوت دیا ۔ عدالت نے کہا کہ لیو ان ریلیشن نہ تو کوئی جرم ہے اور نہ گناہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس طرح سے رہنےوالی عورتوں اور ان سے پیدا ہونے والے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون بنانے کےلئے پارلیمنٹ کو ہدایت بھی دی ۔موٹرگاڑیوں پر لال بتی لگانے اور سائرن کا غلط استعمال روکنے کی سمت میں بھی عدالت نے سخت رویہ اپنایا اور ان کا استعمال آئینی عہدوں پر فائز اہم افراد تک کے لئے ہی محدود کر دیا ۔کوئلہ کانوں کے الاٹمنٹ اور 2 جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے جیسے معاملات میں عدالت نے مرکزی اور کارپوریٹ محکمے کو پورے سال کشمکش میں مبتلا رکھا ۔ اس دوران عدالت نے مرکزی حکومت کے خلاف کئی سخت تبصرے کئے۔ عدالت نے کول گیٹ معاملے میں سی بی آئی اور حکومت کے طریقہ کار پر سوال بھی اٹھائے۔ اس معاملے میں سی بی آئی کی سختی کا ہی نتیجہ رہا کہ اس وقت کے وزیر قانون اشونی کمار کو وزارت چھوڑنی پڑی۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ ، کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے میں انل امبانی ، سنیل بھارتی متل اور سبرت رائے جیسے صنعت کاروں کو راحت پانے کے لئے سپریم کورٹ کی دہلیز پر آنا پڑا ، وہیں راڈیا ٹیپ معاملے میں کاروباری گھرانے ، اہم سیاستدان اور نوکر شاہی عدالتی جائزے کے دائرے میں آ گئے ۔ سیبی کے توہین کے معاملے میں سہارا انڈیا کمپنی کے سربراہ اور ان کی کمپنیوں کے دو ڈائریکٹر عدالت کے نشانے پر رہے ۔ بالی وڈ بھی عدالت کی گرفت سے بچ نہیں پایا اور 1993 کے ممبئی بم دھماکہ کیس میں بالی وڈ کے مشہور اداکار سنجے دت کو پانچ سال کی سزا سنائی گئی ۔عدالت نے پیٹنٹ کے معاملے میں نووارٹیز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کینسر کے غریب مریضوں کو سستی ادویات فراہم کرنے کا راستہ صاف کیا ۔ پیٹنٹ سے متعلق معاملوں میں اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے ۔ تیزاب فروخت کرنے کے سلسلے میں قانون بنائے جانے کی ہدایت دینا سپریم کورٹ کی اہم پہل رہی ۔نوکر شاہوں کو مقررہ میعاد کے لئے تعینات کئے جانے کی وکالت کرتے ہوئے عدالت نے زبانی حکم پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت بھی دی ۔

...


Advertisment

Advertisment