Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 04:59 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

مدارس جہادی سرگرمیوں میں ملوث نہیں

مدارس جہادی سرگرمیوں میں ملوث نہیں

 

دینی مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے:وزارت داخلہ

کلکتہ12نومبر (یو این آئی )2اکتوبر کو بردوان کے کھگڑا گڑھ میں ہوئے بم دھماکہ کے بعد سے ہی سیاسی پارٹیاں اور میڈیا کے ایک بڑے حلقہ کی طرف سے تنقیدوں کی زد میں رہنے والے مدرسوں سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم مرکزی حکومت نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ دینی مدارس میں دہشت گردی یامذہبی انتہا پسندی کی تعلیم نہیں دی جاتی ۔یہ رپورٹ مرکزی خفیہ ایجنسی اور سیکورٹی اداروں کی طرف سے ملک بھر میں قائم مدرسوں پر کیے گئے سروے پر مبنی ہے ۔رپورٹ میں ان مدرسوں سے متعلق خدشہ کا اظہار کیا گیا جن مدرسوں میں پاکستانی یا پھر بنگلہ دیشی شہری مدرس ہیں ۔رپورٹ میں حال ہی مغربی بنگال میں ہوئے بم دھماکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی شہری جن کا تعلق جماعت المجاہدین بنگلہ دیش سے ہے، مسلم نوجوانوں کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے ۔اس کے علاوہ رپورٹ میں سرحدی اضلاع میں واقع مدرسوں کی خصوصی نگرانی کی وکالت کرتے ہوئے اس خدشہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیشی یا پاکستان استاذ انتہا پسند ی کو فروغ دے سکتے ہیں ۔مگر رپورٹ میں واضح طور پر ان مدرسوں کو کلین چٹ دی گئی ہے جس کا انتظام و انصرام مکمل طور پر ہندوستان مسلمان کرتے ہیں ۔ستمبر میں ایک غیرملکی نامہ نگار کو انٹرویو دیتے ہولے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ کچھ نا انصافیاں ہوئی ہیں اور اس کی بنیاد پر اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان القاعدہ یا پھر دیگر دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہوسکتے ہیں توان کا یہ خیال غلط ہے کیوں کہ ہندوستان مسلمان ہندوستان کیلئے جیتا اور ہندوستان کیلئے مرتا ہے ۔حال ہی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ وزارت داخلہ کے پاس ایسی کوئی رپورٹ نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ ہندوستان مسلمان داعش جیسی تنظیموں سے جوڑ رہے ہیں ۔اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مدرسوں میں مسلمانوں کے غریب طبقے کے بچے زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہیں کیوں کہ یہاں اخراجات کافی کم ہوتے ہیں ۔وزارت داخلہ کے ایک افسرنے کہا کہ مدرسوں میں بڑھنے والوں بچوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہیں ۔اس لیے مستقبل میں روزگار مہیا کرانے کیلئے ضروری ہے کہ مدرسوں میں کچھ جدید تعلیم بھی دی جائے ۔وزارت داخلہ کے ایک افسرکے حوالہ ایک انگریزاخبار نے لکھا ہے کہ بے روزگاری کی وجہ سے انتہا پسندی کی طرف یہ لوگ مائل ہوسکتے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندو ستان میں چارمکتبہ فکر کے مدارس ہیں دیوبندی، اہل حدیث ، جماعت اسلامی اور بریلوی مگر کسی بھی مدرسہ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تعلیم نہیں دی جاتی ۔اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے مدارس میں مذہبی اور عصری علوم دونوں کی تعلیم دی جاتی ہیں مگر زیادہ توجہ دینی تعلیم پر ہوتی ہے ۔بی جے پی نے2014میں اپنے انتخابی ایجنڈے میں کہا تھا کہ بی جے پی حکومت مدارس اسلامیہ کی جدیدکاری پر توجہ دے گی ۔کیوں کہ بی جے پی کا خیال ہے کہ ہندوستان کی ترقی میں تمام طبقات کو برابر کی حصہ داری ہونی چاہیے اور ہمارایقین ہے کہ ملک اس وقت تک ترقی کرہی نہیں سکتا جب کوئی طبقہ پیچھے رہ جائے۔

 

...


Advertisment

Advertisment