Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:08 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

تومودی کی شاہانہ مہمان نوازی کا خوب لطف اٹھایا قائد محترم نے

تومودی کی شاہانہ مہمان نوازی کا خوب لطف اٹھایا قائد محترم نے

 

”سیاسی تقدیر“ اردو کا واحد اخبار ہے جس نے اپنی ایک اشاعت میں”مظفر نگر جب جل رہا تھا تو کہاں تھے ایک بڑی ملی تنظیم کے قائد محترم“کے عنوان سے نریندر مودی اور قائد محترم کی قربتوں کا راز فاش کیاتھا۔ مگر اب یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مظفر نگر کے امدادی کیمپوں میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور شدید ٹھنڈ سے جہاں بچے دم توڑ رہے ہیں اور فساد متاثرین کو ان کیمپوں سے ریاستی سرکار کے اشارے پر انتظامیہ کے ذریعہ جبراً ہٹایا جارہا ہے اس سے آنکھیں موڑ کرکے قائد محترم نے گزشتہ جمعرات کو گاندھی نگر میں نریندر مودی کی شاہانہ مہمان نوازی کا خوب جی بھر لطف لیا۔ انہو ںنے اس بلیٹ پروف گاڑی میں سیربھی کی جو مودی کی سیکورٹی قافلہ کے لئے ہمیشہ مخصوص رہا کرتی ہے۔ یہ انکشاف ہندی کے ایک مشہور ومعروف اخبار”دینک بھاسکر“ نے اپنی ویب سائٹ پر کیا ہے۔ اس خبر کے مطابق قائد محترم(دینک بھاسکرنے توباقاعدہ نام کے ساتھ تصویریں بھی شائع کی ہیں) گزشتہ جمعرات کو احمد آباد پہنچے تھے۔ ایئر پورٹ سے ”کھادی گرام ادےوگ بھون“ تک جانے کے لئے ان کے لئے خاص طور پر مودی کی اسپیشل بلیٹ پروف کار کا انتظام کیا گیاتھا۔ اخبار کے مطابق قائد محترم کی گجرات سرکار کے ذریعہ جس انداز میں پذیرائی اور خاطر مدارات ہوئی اسے دیکھ کر شک ہوا جیسے انہیں ریاست کے مہمان (اسٹیٹ گیسٹ) کا درجہ حاصل ہے۔ ویب سائٹ پر دی گئی خبر کے مطابق قائد محترم کی سیکورٹی پر مامور ایک افسر نے انکشاف کیا کہ قائد محترم کو یہ کار اس طرح مہیا نہیں کرائی جاسکتی تھی۔ افسر کے مطابق یہ اسی وقت ممکن ہے جب کسی شخص کو ”ریاست کے مہمان“ کا درجہ حاصل ہو۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نریندر مودی کے اشارے پر گجرات سرکار قائد محترم کو غیر اعلانیہ طو رپر ریاست کے مہمان کا درجہ دے چکی ہے۔ اب سے چند ماہ قبل جب ”سیاسی تقدیر“ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ مظفر نگر میں جب مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا تو اس وقت قائد محترم اپنے ہم خیال کچھ اور لوگوں کے ساتھ امریکہ کے دورے پر تھے۔ یہ دورہ کسی ذاتی مقصد کے لئے نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعہ وہ امریکی انتظامیہ کو یہ باور کرانا چاہ رہے تھے کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں نے مودی کو معاف کرتے ہوئے انہیں قبول کرلیا ہے اس لئے امریکہ بھی انہیں اپنی ناپسندیدہ شخصیات کی فہرست سے نکال کرویزا جاری کردے۔قائد محترم کی مودی سے قربت کوئی دوچار روز کی بات نہیں ہے بلکہ اس قربت کا خاکہ بہت پہلے مرتب ہوچکا تھا۔

قائد محترم کی مودی سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ شری شری روی شنکر کے ایک پروگرام میں شریک ہونے گجرات گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ پروگرام میں مودی بھی موجود تھے۔ ان کے درمیان دوسری ملاقات کا اہتمام پنڈت این کے شرما نے کیاتھا۔ جی ہاں! وہی پنڈت این کے شرما جو کسی زمانہ میں نرسمہا راﺅ کے بہت قریب تھے۔ مسلم لیڈروں اور مسلم تنظیموں میں انہیں کچھ اس لئے بھی مقبولیت حاصل ہے کہ موقع کے لحاظ سے اچھی تقریر کرنے کے فن میں وہ ماہر ہیں۔باجپائی کی حمایت کمیٹی کے ایک سابق رکن نے این کے شرما کو مسلمانوں میں متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیاہے۔ اس سابق رکن نے ان کے نام سے کافی فائدہ بھی اٹھایا لیکن اب وہی این کے شرما مسلم قائدین کو مودی سے قریب لانے کی کوشش میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ مولانا کی مودی سے دوسری ملاقات پنڈت این کے شرماکی وساطت سے گجرات میں ہوئی اورمودی سے ان کی تیسری ملاقات بھی گجرات میں ہوئی ۔ اس بار بھی پنڈت این کے شرما ہی ان کے ثالث تھے۔ اس تیسری ملاقات میں ہی ان کے درمیان معاملات طے پاگئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملاقاتوں کے دوران قائد محترم نے مودی کو باور کرایا تھاکہ مسلمانوں کے معاملات پر وہ کھل کر ان کی حمایت تو نہیں کریں گے لیکن کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں کی مسلسل مخالفت کے ذرےعہ وہ مسلمانوں کو مودی کی طرف راغب کرنے کی راہ ہموار ضرور کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کے لئے بالواسطہ طو رپر وہ ان مدارس کا بھی استعمال کریں گے جو ان کی سرپرستی میں ملک بھر میں چل رہے ہیں اور جن میں سات لاکھ سے زائد طلباءتعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی جب ہری دوار اور رشی کیس میں رام دیو کے پروگرام میں آئے تھے تو وہاں ان کی ملاقات شری شری روی شنکر اور پنڈت این کے شرما سے ہوئی اور اسی ملاقات میں مسلم قائدین کو ہمنوا بنانے کی حکمت عملی بھی طے پائی تھی اور اسی حکمت عملی کے تحت قائد محترم کی مودی سے تین ملاقاتیں کرائی گئیں۔’سیاسی تقدیر‘ کے ہاتھ جب یہ خبر لگی تھی تو اس نے قائد محترم سے رابطہ قائم کرکے ان کا موقف بھی جاننے کی کوشش کی تھی ان سے رابطہ قائم کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی مگر انہوں نے فون رسیو نہیں کیا۔ اس پر انہیں پیغام (MESSAGE) دیاگیا کہ آپ سے ایک ضروری گفتگو کرنی ہے اس کا بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن جب موبائل پر پیغام میں انہیں بتایا گیا کہ ”سیاسی تقدیر“ کو آپ کے تعلق سے ایک اہم خبر موصول ہوئی ہے اور اس پر آپ سے بات کرنی ہے تب قائد محترم کا ردعمل آیا۔ دریافت کیاگیا کہ خبر کیا ہے اور جب انہیں بتایا گیا کہ خبر آپ سے مودی کی خفیہ ملاقات کے بارے میں ہے تو انہوں نے اس کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبر بے بنیاد ہے۔ بعد میں ان کا ایک پیغام آیا جس میں انہو ں نے کہا کہ اس خبر کو شائع کریں یا نہ کریں۔ یہ آپ کی صوابدید پر ہے لیکن میرے تعلق سے خبر میں جو کچھ کہاگیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ بہر حال تب”سیاسی تقدیر“ نے اس خبر کو شائع کرنے سے گریز کیاتھا لیکن مودی کے ویزا کے لئے فضا ہموار کرنے کی غرض سے قائد محترم جب امریکہ دورے پر گئے تو ”سیاسی تقدیر“ نے اس کا بھانڈہ پھوڑ دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب”دینک بھاسکر“ کی اس خبر پر قائد محترم کا ردعمل کیا ہوگا؟

...


Advertisment

Advertisment