Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:09 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیامبر 'مولاناآزاد'

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیامبر 'مولاناآزاد'

 

فیروز بخت احمد

اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان کی آزادی اور ملک کی سالمیت کے اس صدی کے سب سے بڑے موکّل مولانا آزاد ؔ تھے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم لوگوں نے ان کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ ایک دلچسپ بات آپ کو بتادیں کہ جب مولانا آزاد ؒ ؔ کے مزار میں 1958سے لگے تالے کو کھولنے کے لئے ایک مقدمہ برائے فلاح عام یعنی عام پبلک کی بھلائی کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں چل رہا تھا تو دسمبر 2005میں جسٹس وجیندر جین صاحب نے پر زور الفاظ میں یہ کہا تھا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد ؒ ؔ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کے مزار کو مقفل کر کے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے مولانا آزادؒ ؔ کی قربانیاں مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو سے بھی بلند مرتبہ کی تھیں! اگر دہلی ہائی کورٹ کے ایک نامی گرامی جج کے منھ سے حضرت مولانا آزاؒ ؔ کے لئے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں تو آپ خود اندازہ لگ سکتے ہیں کہ کس قسم کے بلند و بالا انسان رہے ہوں گے وہ۔

مولانا آزادؒ ؔ کہ جن کا اصل نام محی الدین احمد تھا،ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔مولانا نے تخلص ’’آزاد‘‘اس خواہش کے زیر نظر رکھا تھا کہ ایک دن ہندوستان انگریزوں کے قید سے آزاد ہوگاتو وہ خود کو فخر کے ساتھ نہ صرف آزادکہہ سکیں گے بلکہ اپنے ساتھیوں کو بتائیں گے کہ دیکھو بچپن سے ہی میں ملک کی آزادی کے لئے جدو جہد کر رہا تھا۔ ایک مولانا آزادؒ ؔ کی پیدائش 11نومبر 1888 میں مکہ معظمہ میں ہوئی تھی۔ ان کے والد مولانا خیر الدینؒ بن شیخ محمد ہادی ایک عالم دین اور صوفی پیر تھے۔ جب مولانا آزادؒ ؔ تقریباً 11سال کے تھے تو اپنے والد کے ساتھ ہندوستان چلے آئے اور کلکتہ میں بس گئے ۔ کلکتہ میں انہوں نے یوں تو کئی مکانات میں رہائش اختیار کی مگر آخر میں وہ اشرف مستری لین ، بالی گنج سرکلر روڈ میں ایک مکان کرایہ پر لے کر رہنے لگے جسے آج '' مولانا آزاد میموریل'' کے نام سے جاناجاتا ہے کیونکہ اسے کلکتہ کے ایک ادارہ '' مولانا ابوالکلام آزادانسٹی ٹیوشن آف ایشین اسٹڈیز'' نے مرکزی حکومت و حکومتِ مغربی بنگال کی مدد سے ان کے نام میں محفوظ کرادیا۔ مولانا آزادؒ ؔ کی اس رہائش کو محفوظ کرانے میں جو لوگ پیش پیش رہے ،ان میں خاص نام ہیں : پروفیسر نورالحسن، جے۔ کے۔ رائے،اے۔کے۔ رائے، احمد سعید ملیح آبادی، پروفیسر مہاویر سنگھ، پروفیسر ایچ۔وی۔ مہادیون اور راقم الحروف۔ مولانا آزادؔ ؒ کی تین بڑی بہنیں یعنی خدیجہ بیگم، فاطمہ بیگم آرزوؔ ، حنیفہ بیگم آبروؔ اور ایک بھائی مولانا غلام یٰسین ابوالنصر آہؔ تھے۔ مولانا اپنے خاندان میں سب سے چھوٹے تھے۔ بہنوں میں سب سے بڑی خدیجہ بیگم تھیں جن کا انتقال 1943میں ہوا۔ دوسری فاطمہ بیگم تھیں جن کا انتقال 1966میں ہوا ۔ تیسری بہن حنیفہ بیگم کا انتقال بھی 1943میں ہوا۔بھائی غلام یٰسین کا انتقال 1906میں ہی ہو گیا تھا۔ مولانا کی طرح ان کے سبھی بہن بھائی عالم و فاضل ، مفکر اور مصنف تھے ۔ چونکہ خود مولانا آزادؒ ؔ بہت کم عمر میں عالمی شہرت یافتہ مصنف و عالم بن چکے تھے ، ان کے بہن بھائی وہ شہرت حاصل نہ کر سکے جو ان کے بھائی مولانا آزادؒ ؔ کو حاصل ہوئی ۔ مولانا آزاد کی ذات میں قدرت نے بیک وقت بہت سی خصوصیات جمع کر دی تھیں۔ وہ عالم دین بھی تھے۔ اور مفسر قرآن بھی۔ وہ خطیب بھی تھے اور مفکر بھی، وہ مدیر بھی تھے اور دانشور بھی۔ وہ ایک سیاستداں بھی تھے اور صحافی بھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کی کونسی خصوصیت باقی تمام خصوصیات پر حاوی تھی۔

جدو جہد آزادیِ ہند کی تاریخ میں جو سب سے اہم بات یاد رکھنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد ؒ ؔ ملک کے بٹوارا سے قبل اور اس کے بعد وہ واحد شخصیت تھے کہ جنہوں نے ملک کی تقسیم کے لئے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ یہاں تک کہ گاندھی جی اور نہرو آخر میں تقسیم کے لئے راضی ہوگئے مولانا آخر تک ایک مضبوط چٹان کی طرح اڑے رہے۔ اپنی تصانیف میں مولانا نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامیابی یہ تھی کہ وہ تقسیم کو نہ روک سکے۔ ہندوستان کے رہنماؤں میں بہادر شاہ ظفرؒ کے بعد مولانا آزاد ؒ  واحد ایک ایسے لیڈر تھے کہ جنہوں نے آزادیِ ہند کے لئے ہندؤوں اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکیا ہو۔یہ بات بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مولانا آزاد ؒ ؔ نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے قرآنی آیات وہدایات کی وکالت بھی کی تھی۔ وہ انتہائی زور دے کر کہا کرتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد کی نشاندہی پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے وا قعات زندگی میں نمایاں طور پر موجود ہے۔ یہ کارنامہ ان کی زندگی کا عظیم ترین کارنامہ کہاجاتا ہے ۔ ہم لوگوں کے ساتھ در اصل پریشانی یہ ہے کہ ہم مولانا کو سمجھے بغیر ہی ان کا احترام کرتے ہیں۔ مولانا آزادؒ ؔ نے صرف 15برس کی چھوٹی سی عمر میں درس نظامیہ جیسے اہم و معتبر اور محققانہ نصاب تعلیم کی پڑھائی مکمل کی تو تمام دنیا ان کی دانشورانہ صلاحیتوں پر حیران رہ گئی۔ 1906 اور 1915 کے درمیان مولانا آزادؒ ؔ بطور ایک مضمون نگار ، ادیب و مصنف اور محقق بن کر نمودار ہوئے ۔ مسلمانان ہند کو انگریزوں کے خلاف جدوجہد آزادی میں شامل کرنے کی غرض سے انہوں نے 1912میں کلکتہ سے''الہلال'' نام کا اخبار جاری کیا۔ انگریزوں نے جب دیکھا کہ یہ اخبار ہندؤں اور مسلمانوں کے دل ملا کر کام کر رہا ہے تو انہوں نے اسے بند کر دیا۔ اس کے بعد مولانا نے '' البلاغ '' جاری کیا جسے 1916 میں انگریزوں نے پھر بند کر دیا ۔آج کچھ لوگ ہندؤوں اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے لئے اکثر ایک بحث چلا دیتے ہیں کہ آپ مسلمان پہلے ہیں یا ہندوستانی ۔ اس کا جواب مولانا نے بڑ ااچھا دیا تھا۔ مولانا کی مشہور تقریر جس سے ان کے دل مین اسلام اور ہندوستان دنوں سے محبت کا اظہار ہوتا تھا گاندھی جی کو بہت پسند تھی جس میں مولانا نے کہا تھا ''میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں،اسلام کی تیرہ سوبرس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں ۔ میں تیار نہیں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں۔ اسلام کی تعلیم ، اسلام تاریخ اسلام کے علوم و فنون، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں۔ لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا ہے۔ میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں، میں ہندوستان کی ایک اور ناقابل تقسیم متحد قومیت کا ایک عنصر ہوں۔''

مولانا نے خود اپنے بارے میں پارلیمنٹ میں پرشوتم داس ٹنڈن کی ایک تقریر کے جواب میں کہا تھا کہ ''میری پوری زندگی ایک کھلی کتاب ہے۔۔۔ میں بے غرض ہوں اور جو بے غرض ہوتا ہے۔ بے پناہ ہو جاتا ہے۔ آپ سمجھے ! بے پناہ کون ہوتا ہے۔۔۔ بے پناہ وہ ہوتا ہے۔ جسے کوئی تلوار کاٹ نہیں سکتی۔''

تقسیم وطن اور اس کے بعد کے وحشیانہ فسادات سے اس عظیم رہنما و مفکر کی زندگی کو ویران بنا دیا گیا مگر باوجود اندرونی طور پر اُجڑ جانے کے بعد انہوں نے آزاد مگر جغرافیائی طور پر منقسم ہندوستان میں تعلیم، سائنس، اور ثقافت کی بحالی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔آزادی کے بعد بھی مولانا آزاد نے تعلیم و ثقافت کے لئے بڑا کام کیااور بہت سے ادارے کھولے جیسے ساہتیہ اکادمی، نرتیہ ناٹیہ کلا اکادمی، آئی۔ سی۔ سی۔ آر۔ وغیرہ۔جہاں تک مولانا تقسیم ہند سے قبل پاکستان کے قیام کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، تقسیم کے بعد پاکستان کے بارے میں انہوں نے منکسرالمزاجی کے ساتھ کام لیا اور اور صحافیوں سے یہی کہا کرتے تھے کہ اب چونکہ پاکستان کا قیام عمل میں آگیا ہے، ان کی خواہش یہی ہے کہ وہ پھلے پھولے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ اس سلسلہ کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ قائد پاکستان محمد علی جناح مرحوم نے آخر میں اپنی غلطی کا اقرار و احساس کر لیا تھا اور وہ اپنے آخری دنوں میں دلی آکر پنڈت نہرو سے گفتگو کے خواہش مند تھے مگر موت نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی اور ادیب ہندوستان کے از سر نو متحد ہونے کا خواب پارہ پارہ ہو کر رہ گیا۔

مولاناآزادؒ ؔ کی موت انہتائی مفلوک الحالی اور کسمپرسی کے حالات میں ہوئی ۔ انہوں نے محض چند شیروانیاں ، کتابیں اور ''انڈیا وِنس فریڈم'' کی رائیلٹی ہی ورثہ میں چھوڑی۔ 22فروری 1958کو جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی چھوڑی ہوئی رقم محض چار ہزار تھی جب کہ وہ لوگ کہ جن کی مولانا اکثر امداد کیا کرتے تھے اور جو مولانا سے جھوٹی رشتہ داری کے دعوے کیا کرتے تھے، ا ن کی دولتوں کے ٹھکانے نہ رہے۔ آج مولانا کامزار عظیم الشان جامع مسجد ، دہلی کی سیڑھیوں کے ساتھ عوامُ الناّس کے لئے کھول دیا گیا ہے۔

موبائل نمبر : 9810933050

Email : firozbakht@rediffmail.com

 

 

' مولانا ابوالکلام آزاد ' ایک عظیم صحافی، تاریخ ساز وزیرِ تعلیم

جسیم محمد

آزاد ہندوستان کے اولین وزیرِ تعلیم، ممتاز سیاسی رہنما، شاعر، صحافی ، ادیب، مصنف، خطیب مولانا ابوالکلام آزاد (1305ھ۔ 1377 ھ؍اگست 1888ء ۔ فروری1958ء)کا نام محی الدین احمد اور تاریخی نام فیروز بخت تھا۔ ان کی کنیّت ابوالکلام اور تخلص آزادؔ تھا۔ مولانا کے آبا و اجدادمغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے عہد میں ہرات سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے۔ یہ لوگ پہلے آگرہ اور پھر غالباً اکبر کے عہد میں دہلی مقیم ہوئے۔ مولانا آزاد کی ولادت ذوالحجہ 1305ھ مطابق1888ء میں مکہ میں ہوئی۔

مولانا آزاد کی ہمہ جہت ذات کو کسی ایک زمرے میں قید کرکے نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کی ذات متعدد خوبیوں کا مجموعہ تھی اوریہ مختصر مضمون ان کی شش جہت شخصیت پر تفصیلی گفتگو کی اجازت نہیں دیتا لہٰذا ہم مولانا آزاد کی زندگی کے صرف دو ہی گوشوں پر گفتگو کریں گے۔ مولانا بحیثیت '' صحافی'' اور بحیثیت ''وزیرِ تعلیم''۔ اگرانہوں نے ملک کی آزادی کی جدو جہد میں صحافت سے تلوار کا کام لیا تو بحیثیت وزیرِ تعلیم وہ کارہائے نمایاں انجام دئے جن کی بدولت سارا ملک آج بھی ان کا رہینِ منت ہے۔ مولانا آزادؔ کو صحافت سے خصوصی دلچسپی تھی جس کے تحت تعلیم سے فراغت پانے سے قبل1899ء میں ایک گل دستہ '' نیرنگِ عالم'' کا اجراء کیا۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے انھوں نے یا توکئی گلدستے شائع کئے یا ان کی ادارت کے فرائض انجام دئے۔ 1899ء میں انہوں نے'' المصباح'' کی ادارت کے فرائض انجام دئے۔1901ء میں مولوی سید احمد حسن فتحپوری کے '' احسن الاخبار '' کے ادارۂ تحریر اور '' تحفۂ احمدیہ '' سے وابستہ ہوئے۔ اس کے بعد مولانا آزاد خدنگِ نظر ، ایڈورڈ گزٹ، مرقع عالم، البصائر، مخزن، الندوہ، وکیل، دارالسلطنت، الہلال، البلاغ، اقدام، پیغام، الجامعہ، پیام، المصباح، زمیندار، البشیر، مسلم گزٹ، مساوات، ثقافت الہند وغیرہ سے وابستہ ہوئے جن میں سے کچھ میں اپنے مضامین شائع کرائے تو کچھ کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ نومبر1903ء میں مولانا آزادؔ نے بمبئی سے'' لسان الصدق'' نامی رسالہ جاری کیا جو1905ء تک جاری رہا۔یہ صحافت ہی کا معجزہ تھا کہ مولانا آزاد کا رجحان سیاست کی جانب بڑھا۔ 1905ء میں ہندوستان کے گورنرجنرل لارڈ کرزن نے تقسیمِ بنگال کا اعلان کیا جس کا مقصد بنگال سے اٹھنے و الی تحریکِ آزادی کو ختم کرنا تھا۔ انگریزوں کی اس حکمتِ عملی نے ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک وسیع خلیج قائم کردی جسے پاٹنا مولانا آزادؔ نے اپنا فرض اور ذمہ د اری تصور کرلیا۔ انھوں نے بنگال کے ہندو انقلابیوں شیام سندر چکرورتی اور آربندو گھوش سے رابطہ قائم کرکے مسلمانوں کے تعلق سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی سمت میں مثبت اقدامات کئے۔1905ء میں ہی مولانا آزاد کی ملاقات مولانا شبلیؔ نعمانی سے ہوئی۔ شبلی کی دعوت پر وہ لکھنؤ میں '' الندوہ'' کے نائب مدیر بن کر شبلیؔ کے زیرِ اثر کام کرنے لگے۔ لکھنؤ میں آٹھ یا نو ماہ کے قیام کے بعد انھوں نے شیخ غلام محمد کی دعوت پر امرتسر پہنچ کرنہ صرف '' وکیل '' کی ادارت کے فرائض انجام دئے بلکہ اس میں کافی خوش گوار تبدیلیاں بھی کیں جن سے پرچہ کی مقبولیت آسمان چھونے لگی۔ تھوڑے ہی دن بعد ان کے بڑے بھائی غلام طیبین آہ کا انتقال ہوگیا جس کے سبب انھیں کلکتہ واپس جانا پڑا۔کلکتہ میں وہ ہفت روزہ '' دارالسلطنت '' کے ادارۂ تحریر سے وابستہ ہوگئے۔1907ء میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر سے امرتسر جاکر’’ وکیل ‘‘کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔1908ء میں اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ مشرقِ وسطیٰ اور فرانس کے سفر پر چل پڑے۔ مشرقِ وسطیٰ میں عراق، مصر، شام اور ترکی میں وقت گزار کر1909ء میں واپس ہندوستان لوٹے۔ اس سفر کے دوران انھیں مفتی محمد عبدہ اور مصطفےٰ کمال پاشا کے شاگردوں اور پیروؤں سے تبادلۂ خیال کا موقعہ ملا۔ اس سفر سے انھیں اپنے اس نظریے کو تقویت ملی کہ ہندوستانی مسلمانوں کو پوری دلچسپی اور انہماک کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد میں اپنے غیر مسلم بھائیوں کے دوش بدوش کام کرنا چاہئے اور برطانوی حکومت کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے۔اپنے اس نظریہ کو عام کرنے کے لئے مولاناابوالکلام آزادؔ نے1912۱ء میں کلکتہ سے ہفت روزہ '' الہلال''  جاری کیا جس سے ان کی ز ندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔اس کے ساتھ ہی اب تک وہ جس کام کی تیاریوں میں مصروف تھے ان کا آغاز ہوگیا۔ الہلال کی مدد سے انھوں نے مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ ہی حریت کا درس دینا شروع کردیا۔ الہلال نے ہندوستانی مسلمانوں کا دینی ا ور سماجی رشتہ دوسرے ممالک کے مسلمانوں سے استوارکرنے کے ساتھ جنگِ بلقان اور جنگِ طرابلس میں اہم خدمات انجام دیں اور جنوبی افریقہ میں مہاتما گاندھی کی پر امن تحریک کابھی ساتھ دیا۔ یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ الہلال برطانوی حکومت کے عتاب کا شکار ہوگیا اور آخر کار نومبر1914ء میں الہلال بند ہوگیاجس کے بعد انہوں نے کلکتہ سے ہفت روزہ '' البلاغ '' جاری کیا۔حکومتِ بنگال نے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے تحت مولانا آزادؔ کے حدود بنگال سے انخلا کا حکم صادر کردیا جس کی وجہ سے مارچ1916ء میں البلاغ بھی بند ہوگیا۔ اس دوران ہندوستان کے سیاسی منظر نامہ پر گاندھی جی پوری طرح جلوہ افروز ہوچکے تھے۔انھوں نے رانچی میں مولانا آزادؔ سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی تھی مگر حکومتِ بہار نے ا س کی اجازت نہیں دی۔مولانا آزادؔ کی گاندھی جی سے پہلی ملاقات۱۹۲۰ء میں دہلی میں ہوئی۔ انھوں نے گاندھی جی کے ساتھ ۲۰؍جنوری کو ایک جلسہ میں شرکت کی۔ اس کے بعد گاندھی جی نے لکھنؤ میں بعض مسلم علماء کے ساتھ ایک میٹنگ کرکے اپنا عدم تعاون کا پروگرام پیش کیا جسے مولانا آزادؔ نے فوراًقبول کرلیا۔ اس طرح تحریکِ عدم تعاون کا آغاز ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ کی ز ندگی کا یہ دوسرا اہم ترین موڑ تھا جس نے انھیں باقاعدہ گاندھی جی کی قیادت میں ملک کی آزادی کی تحریک میں شامل کردیا۔انھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کی رکنیت قبول کی۔انھوں نے پھر سے ’’ حزب اللہ‘‘ کا باقاعدہ آغاز کیا اور امام الہند کی حیثیت سے اپنے ہاتھ پر امامت لینے کا فیصلہ کیا۔ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ہی مولانا آزادؔ کی صحافتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ انھوں نے1921ء میں مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کی ادارت میں کلکتہ سے ایک ہفت روزہ'' پیغام '' جاری کیا جو تین ماہ جاری رہنے کے بعد بند ہوگیا۔ اس کے بند ہونے سے قبل ہی حکومت نے مولانا آزادؔ اور مولانا ملیح آبادی کو گرفتار کرکے محبوس کردیا تھا۔مولانا آزادؔ 1916ء سے1942ء تک ہندوستان کی آزادی کی مختلف تحریکوں کے سلسلے میں متعدد مرتبہ گرفتار، نظر بند یا محبوس ہوئے اور کل ملاکر دس سال سات مہینے قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔مولانا آزادؔ نے مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کی ادارت میں ہی کلکتہ سے ایک رسالہ '' الجامعہ'' عربی زبان میں نکالا جس کا مقصد شریف مکہ کی مخالفت اور ابنِ سعود کی حمایت تھا۔ یہ رسالہ مارچ 1924ء میں بند ہوگیا۔1924ء سے1930ء تک مولانا آزادؔ کانگریس، خلافت کمیٹی اور جمیعۃ العلماء ہند کے کاموں میں مصروف رہے ساتھ ہی انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے بھی اپنی کوششوں کو جاری رکھا۔جون 1927ء میں مولانا آزادؔ نے ایک مرتبہ پھر سے الہلال جاری کیا جو اسی سال دسمبر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیااور اس کے ساتھ ہی مولانا آزادؔ کی صحافتی زندگی کا بھی اختتام ہوا۔ 1946 میں جواہر لعل نہرو کو کانگرسی کا صدر منتخب کیاگیا۔ عبوری دور میں حکومت کا کاروبار چلانے کے لئے ایک کابینہ تشکیل دی گئی۔ مولاناآزادؔ نے یکم جنوری1947ء کوعبوری حکومت میں وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔15اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوگیا۔مولانا آزادؔ ہندوستان کی پہلی وزارت میں بدستور وزیرِ تعلیم رہے اور اس منصب پر وہ اپنی وفات 22؍فروری 1958ء تک فائز رہے۔ انھوں نے 1952ء اور1957ء میں پارلیامنٹ کی رکنیت کے لئے الیکشن لڑے اور کامیابی حاصل کی۔ دسمبر1950 میں سردار پٹیل کے انتقال کے بعد وہ کانگریس پارلیامنٹری پارٹی کے ڈپٹی لیڈر منتخب ہوئے اور آخر تک ا س عہدے پر فائز رہے۔ وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے انھوں نے متعدد کارہائے نمایاں انجام دئے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم اور ثانوی تعلیم میں ضروری تبدیلیاں کرنے کے لئے کمیشن مقرر کئے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی تاسیس کی۔ ادب، فنونِ لطیفہ، سنگیت اور ناٹک کے فروغ کے لئے اکادمیاں قائم کیں۔ بیرونی بالخصوص مسلم ممالک سے ہندوستان کے روابط بہتر بنانے کی غرض سے ثقافتی روابط کی ہندوستانی کونسلIndian Council for Cultural Relationsکی تاسیس کی اور اس کے عربی رسالے ’’ ثقافۃ الہند‘‘ کا اجراء کیا۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کرکے فلسفے کی ایسی تاریخ لکھوائی جو مشرقی اور مغربی فلسفے کی جامع تھی اور جس میں ہندوستانی فلسفے کو خاص طور پر اجاگر کیاگیا تھا۔ صنعتی ا ور سائنٹفک ا داروں کے قیام کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی۔ یونیسکو کے کاموں میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرکے اس میں اہم رول ادا کیا۔مولانا آزادؔ کی سیاسی یادداشتوں کا مجموعہ انڈیا ونس فریڈم ہے جو1936ء سے 1948ء تک کے حالات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے باب اول میں انھوں نے مختصراً اپنے خاندانی حالات اور 1936 سے پہلے کے اپنے ذاتی کوائف پیش کئے ہیں۔ یہ کتاب انگریزی میں ہے اور مولانا آزادؔ کے انتقال کے بعد شائع ہوئی۔ اس کے کئی تراجم ہندوستان اور پاکستان سے شائع ہوئے۔ اس کا ترجمہ روسی زبان اور فارسی زبان میں بھی ہوا فارسی زبان میں اس کا ترجمہ ایران سے شائع ہوا۔ اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں اس کے کچھ حصے شامل نہیں کئے گئے تھے مگر1988ء میں اس کا جو ایڈیشن شائع ہوا اس میں وہ حصے بھی شامل ہیں۔غرض مولاناآزادؔ کی تصنیفات یہ ثبوت پیش کرتی ہیں کہ وہ ایک بڑے سیاستداں ہی نہیں ایک عظیم قلم کاربھی تھے۔

 

 

مولانا آزاد:ایک عظیم رہنما

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

ہندوستانی مسلمان ایک ایسی ملت کا نام ہے جس کا ماضی مہرباں اور درخشاں رہا ہے ۔آئیندہ کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی ہے اس کا انحصار اس پر ہے کہ مسلمان ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہیں یا نہیں ۔ ماضی گذر گیا‘ مستقبل پردہ غیب میں ہے جو کچھ ہمارے بس میں ہے وہ حال ہے اور حال میں صحیح سمت میں اور صحیح انداز میں کوشش کرنے پر روشن مستقبل کاانحصار ہے‘ صحیح سمت میں اور صحیح اندازمیں کوشش کس طرح کی جائے اس کا انحصار دو چیزوں پر ہے‘ ایک یہ کہ اپنے حالات اور گرد وپیش سے متعلق مکمل شعور اور آگہی اور دوسرے اپنے مذہب کی روح سے مکمل واقفیت۔اس کے بعد جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ ہے اس شعور اور اس واقفیت کی روشنی میں مستقبل کی منصوبہ بندی۔ جہاں تک حالات کا تعلق ہے تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوؤں کی بعض احیائی تحریکوں نے مسلمانوں کو معاشی سیاسی ثقافتی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ مسلمانوں کا وجود بھی انہیں برداشت نہیں‘ مذہب اورتہذیب اور زبان کو برداشت کرنے کا سوال تو بعد میں آتاہےہمارے اس نقطہ نظر کی سب سے بڑی دلیل گجرات کے فسادات ہیں جو حکومت کی نگرانی میں کرائے گئے اور اب وہ جماعت حکمراں ہے جس کی تشکیل کا بنیادی عنصر مسلمان دشمنی ہے ۔ اس ملک میں مسلمانوں کے مسائل کا تعلق بڑی حد تک اسی رویہ سے ہے جواحیائی تحریکوں نے اختیار کر رکھا ہے‘ چنانچہ مسلمانوں کی تہذیب ‘ ثقافت زبان تعلیمی اداروں اور پرسنل لا کو خطرہ اسی طرح کی تحریکوں سے ہے اور یہ عناصر مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جب ہم ہندووں کی احیائی تحریکوں کاذکر کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد پوری ہندو قوم نہیں ہوتی ہے‘ ہندو قوم کی اکثریت احیائی ذہنیت نہیں رکھتی اور تمام ہندو مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتے اور نہ تمام ہندووں نے موجودہ حکمران جماعت کو ووٹ دیا،ان کی اکثریت سیکولر ذہنیت رکھتی ہے یعنی وہ ذہن رکھتی ہے جو مولانا آزاد کے دوست جواہر لال نہرو کا ذہن تھا یہ الگ بات ہے سیاست کے نشیب وفراز میں ایسا بھی ہوتاا ہے کہ فرقہ پرستی کا ذہن رکھنے والے حکومت میں آجاتے ہیں ۔ ہندووں کے معتقدات اور سیاسی نظریات میں بہت فرق اورتفاوت پایا جاتاہے‘ زیادہ تر ہندو اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہندوستان کی سرزمین مختلف نسلوں اورتہذیبوں اور مذہبوں کے قافلہ کی منزل رہی ہے‘ سیکڑوں سال سے ہندوستان اس سانچہ میں ڈھل چکاہے اور اس سانچہ کو نہ توڑا جاسکتاہے اور نہ بدلا جاسکتاہے‘ صدیوں سے ہندوستان کی تقدیرمیں یہی رنگا رنگی لکھ دی گئی ہے‘ ہندووں کی ایک اقلیت نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا جس طرح سے مسلمانوں کی ایک اقلیت نے اس صورت حال سے خود کو ہم آہنگ نہیں کیا‘ حال کے اس مجمل اور مختصر تجزیہ کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتاہے اسلام کی روح ان حالات میں کیا رہنمائی کرتی ہے اور اس تہذیبی اور مذہبی بو قلمونی میں ہندوستانی مسلمانوں کو کیا پیغام دیتی ہے‘ میرا خیال یہ ہے کہ مولانا آزاد کی بصیرت نے ان حالات میں اسلام کی روح کو سمجھتے ہوئے اور ہندوستان کے مخصوص مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے بہتر سیاسی رہنمائی کی ہے اور یہ رہنمائی مولانا آزادکی ایک تقریر میں زیادہ صاف نظر آتی ہے۔

کیا ہندوستانی مسلمانوں کے لئے یہ صحیح ترین رہنمائی نہیں ہے جو اسلام کی روح سے واقفیت کے ساتھ حالات کے شعور اور تجزیہ پر مبنی ہے‘ کیا آج کے حالات میں ایک محب وطن مسلمان کا بعینہ یہی موقف نہیں ہونا چاہئے؟اگر مولانا آزاد کی تقریر کا یہ اقتباس اہم ہے تو اس کی اہمیت کا احساس کتنے لوگوں نے کیاہے&...


Advertisment

Advertisment