Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:02 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

دہلی کے مسلمان کیاکریں؟

دہلی کے مسلمان کیاکریں؟

 

 

جاوید قمر

 

دہلی میں انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے، اب فیصلہ ووٹروں کو کرنا ہے۔ انتخابی مہم کے شور میں اب تک ووٹروں کی آواز خاموش تھی، وہ سب کی باتیںسن رہے تھے لیکن اب فیصلہ ان کے ہی ہاتھ میں ہے۔دہلی کے70اسمبلی حلقوں میں کامیابی کے لئے کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ دوسری پارٹیوں نے بھی اس بار زبردست طاقت صرف کی ہے۔ ان میں بہوجن سماج پارٹی اہم ہے۔ اس کا اپنا ووٹ بینک بھی ہے۔ پچھلی بار اسے پانچ اسمبلی حلقوں میں کامیابی ملی تھی۔ اس بار پیس پارٹی اور جنتا دل یو جیسی پارٹیاں بھی میدان میں ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ اصل فیصلہ مسلمانوں کو کرنا ہے۔ دہلی میں بھی مسلمان فیصلہ کن طاقت رکھتے ہیں۔ ان کی آبادی کا درست اعدادوشمار تو نہیں بتایا جاسکتا اس لئے کہ سرکار مسلمانوں کی آبادی کا صحیح تناسب کبھی نہیں بتاتی لیکن جس طرح ہر الیکشن میں مسلمان دہلی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے آئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلم ووٹ بیشتر حلقوں میں اثر انداز ہوتا ہے۔ انتخابی گہما گہمی کے بعد جو تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے اس میں ایک بار پھر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہی اصل مقابلہ نظر آرہا ہے۔ دہلی میں کانگریس پچھلے15برس سے اقتدار میں ہے جہاں تک بی جے پی کاتعلق ہے اس بار کا الیکشن اس کے لئے بہت اہم ہے اور اگر اسے دہلی میں کامیابی ملتی ہے تو نریندر مودی کے حق میں پورے ملک میں ایک مثبت پیغام جاسکتا ہے۔ بی جے پی اس نظریہ کے تحت اس بار الیکشن لڑرہی ہے۔ ہر چند کہ بی جے پی میں اختلافات میں اور اس کے پاس شیلا دکشت کا مقابلہ کوئی موثر قیادت نہیں ہے لیکن اگر مسلم ووٹ تقسیم ہوتا ہے تو بیشتر حلقوں میں اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوسکتا ہے۔ جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے اپنے 15سالہ دور اقتدار میں اس نے دہلی میں وسیع پیمانہ پر ترقیاتی کام کرائے ہیں لیکن مسلمانوں کے تعلق سے بہر حال کچھ نہیں ہوسکا جن کی توقع شیلا سرکار سے کی جارہی تھی۔ مسلمانوں کے اقتصادی مسائل پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن اس حیثیت سے اردو سرکاری اداروں میں اپنی افادیت منوانے میں ناکام رہی ہے یہاں تک کہ اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال کو بہتر بنانے کی عملی کوشش بھی نہیں ہوئی۔

 اعلان کے باوجود اردو اساتذہ کی تقرری کو یقینی نہیں بنایا جاسکا ہے لیکن ان تمام ترکوتاہیوں کے باوجود ہمیں اس حقیقت کا اعتراف بہر حال کرنا چاہئے کہ ان 15سالوں میں مسلمان دہلی میں محفوظ رہے ہیں۔ تشدد کی اکا دکا واردات کو اگر نظر انداز کردیا جائے تو کہیں کوئی بڑا فساد نہیں ہوا۔ فرقہ پرست طاقتوں کو دہلی میں دوسری ریاستوں کی طرح آزادی نہیں ملی۔ اب ذرا دوسرے پہلو پر بھی غور کریں اگر مسلم ووٹ کی تقسیم کے نتیجہ میں بی جے پی یہاں اقتدار میں آجاتی ہے تو کیا مسلمان یہاں اتنے اطمینان سے رہ سکیں گے؟ اگر چہ اس بار مسلمانو ںکو رجھانے میں وسیع پیمانہ پر کوشش ہوئی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیزی سے بھی دانستہ گریزکیاگیا ہے یہ سب کچھ ایک بدلی ہوئی حکمت عملی کے تحت ہے۔ بی جے پی یہ حقیقت اچھی طرح جانتی ہے کہ مسلمان اسے ووٹ نہیں دے سکتا اس لئے وہ مسلمانوں کی طاقت کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کی پوری کوشش رہی ہے کہ کسی طرح مسلم ووٹ بکھر جائے۔ کچھ مسلم اکثریتی حلقوں میں اس کے آثار بھی نظر آرہے ہیں ایسے میں مسلمانوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا اور سوچنا چاہئے۔ انہیں اپنا احتساب اور تجزیہ کرکے ہی اپنے ووٹ کااستعمال کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ اتحاد ہی ان کی طاقت ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں اس اتحاد سے خوف زدہ ہیں چنانچہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اس اتحاد کو توڑ دیں۔ دہلی کا یہ الیکشن بہت اہم ہے اور اس کا نتیجہ آنے والے پارلیمانی الیکشن کی سمت طے کرے گا ایسے میں مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے ایک ایک ووٹ کا صحیح استعمال کریں وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ اجتماعی ہو۔ دہلی میں ان کے پاس زیادہ متبادل نہیں ہیں۔ کانگریس سے ہمیں شکایتیں ہوسکتی ہیں لیکن بی جے پی کے مقابلہ ہمارے پاس کانگریس کو ووٹ دینے کے سواکوئی چارہ بھی نہیں ہے کیونکہ کانگریس کے علاوہ کوئی اور پارٹی بی جے پی کو شکست دینے کی طاقت نہیں رکھتی۔

...


Advertisment

Advertisment