Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:06 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

’بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں آرایس ایس کی پیداوار‘

’بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں آرایس ایس کی پیداوار‘

 
فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کیلئے متحد ہوں سیکولر عوام*مسلم لیڈر شپ کی حفاظت کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری
سیاست ایک ایسامیدان ہے، جہاں وفاداری کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ یہاں اقتدار حاصل کرنے کیلئے یا ذاتی مفاد کی خاطر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں آنے جانے کاسلسلہ چلتارہتا ہے، مگر آج بھی کچھ ایسے لیڈران موجود ہیں،جنہوں نے برے سے برے حالات میں بھی کبھی اپنے اصول، سوچ اور نظریے سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اسی لئے اس طرح کے لیڈران پرجہاں اپنوں کا بھروسہ برقرار ہے وہیں مخالفین بھی ان کی وفاداری کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ شخصیت ہے کانگریس کے سینئرلیڈر، سینٹرل حج کمیٹی کے سابق وائس چیئرمین، سابق ممبراسمبلی اور مصطفی آباد اسمبلی حلقہ سے ایک بار پھرکانگریس کے ٹکٹ پر قسمت آزمانے والے حسن احمدکی۔انہوں نے1972میں کانگریس پارٹی سے وابستگی اختیار کی تو کبھی اس سے الگ ہونے کا نہیں سوچا۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی پارٹی کے ساتھ رہ کر دہلی کے لوگوں کی خدمت کرنا اپنا فرض اولین سمجھا۔ حسن احمد1976میں سنجے گاندھی کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ چکے ہیں اور پارٹی کے ہرمشکل وقت میں اس کا بخوبی ساتھ دیا ہے اورکبھی بے وفائی نہیں کی۔ مرکزی سیاست میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوانے والے اور سونیاگاندھی کے سیاسی مشیراحمد پٹیل، راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت،سابق مرکزی وزیر صحت اور راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد، سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے چیف ترجمان آنند شرما، سابق وزیرخارجہ سلمان خورشید جیسے لیڈروں کے ساتھ آل انڈیا یوتھ کانگریس میں کام کرنے کاتجربہ ہے۔پارٹی کی یوتھ ونگ این ایس یوآئی کے جنرل سکریٹری کے عہدے پراپنی خدمات انجام دے چکے حسن احمدکو پارٹی کارکنان سے بہتر تال میل کیساتھ کام کرنے کا ہنر بھی آتاہے۔ حسن احمد مصطفی آبادسے 2بار ممبراسمبلی منتخب ہوچکے ہیں اور انہوں نے مصطفی آباد میں امن امان، بھائی چارگی اور ہندومسلم اتحاد کی مثال قائم کی ہے،جوپوری دہلی والوں کیلئے نصیحت آمیز ہے۔ حسن احمد کی شخصیت سے متعارف کرانے کیلئے ’’سیاسی تقدیر‘‘ کے چیف رپورٹر نثارا حمدخان نے اسمبلی الیکشن کے پیش نظرخصوصی انٹرویو کیا۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے انٹرویو کے کچھ خاص سوال وجوابات پیش کئے جارہے ہیں۔

سوال: حسن احمد صاحب! دہلی کے موجودہ الیکشن کیلئے آپ کی کیاتیاری ہے؟
جواب: میں الیکشن کیلئے پوری طرح تیار ہوں، ایسا نہیں ہے کہ میں صرف الیکشن کے وقت ہی تیاری کرتاہوں۔ میں پورے سال عوام کے درمیان، پارٹی لیڈران اور کارکنان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہتاہوں، جس سے مجھے الیکشن میں خود کو متعارف کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مصطفی آباد حلقے کیلئے میں نے جو ترقیاتی کام کرائے ہیں،اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کرایا۔ میں اپنے حلقہ کے لوگوں کیساتھ ہر خوشی اور غم میں کھڑا رہنا اپنا فرض سمجھتا ہوں، اس لئے میں پر امید بھی ہوں اور یہی میری تیاری ہے۔
سوال: اس الیکشن میں آپ اپنا حریف کسے مانتے ہیں؟
جواب: میرا سیدھا مقابلہ آرایس ایس سے ہے، آرایس ایس کے لوگوں نے ایک بار پھر میرے خلاف کچھ ایسے امیدوار کھڑے کردیئے ہیں، جو سیکولر ووٹوں خاص کرمسلم ووٹوں کی تقسیم کرسکیں،لیکن ہمیں امیدہے کہ نہ تو اس سے پہلے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی اس بار کامیاب ہوں گے۔ میرے حلقے کے مسلمانوں نے ہمیشہ آرایس ایس کے اصولوں کو سمجھ کر اتحاد کامظاہرہ کیاہے اور اس بار پھر اتحاد کامظاہرہ کریں گے اور عام آدمی پارٹی کی شکل میں نمودار ہونے والی بی جے پی کی بی ٹیم اور مسلم مخالف پارٹی کو سبق سکھائیں گے۔
سوال:عام آدمی پارٹی حالیہ الیکشن میں مسلم علاقوں پر اس بار پوری توانائی صرف کررہی ہے؟
جواب:ہم پہلے سے کہتے رہے ہیں کہ’ آپ‘ بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ہے اور آج وہ وہی کام کررہی ہے۔ ’آپ‘ کی طرح آرایس ایس کی نہ جانے کتنی ٹیمیں ہیں، جو الگ الگ چہروں اورنام کیساتھ کام کررہی ہیں۔ دہلی میں جہاں سے کانگریس نے مسلم امیدوار اتارے ہیں، وہیں سے عام آدمی پارٹی نے بھی مسلم امیدوار اتار دیئے تاکہ کوئی بھی مسلم نہ جیت سکے اور وہاں سے بی جے پی کامیاب ہوجائے۔ مسلم لیڈر شپ کے تئیں مسلمانوں کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر مسلم لیڈر شپ ختم کرنے میں بی جے پی اور ’آپ‘ کامیاب ہوگئیں تو پھر ویسا ہی ہوگا جیساملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں دیکھنے کو ملا کہ ایک بھی مسلم ممبرپارلیمنٹ بھی حاصل نہیں کر سکا۔
سوال:مصطفی آباد کی ترقی کیلئے آپ نے کیااقدامات کئے ہیں؟
جواب: عوام کے ذریعہ منتخب کئے گئے ہرنمائندے کا عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرانا،عوامی مسائل کوحل کرنا، ان کی ہرخوشی اور مصیبت میں شامل ہونا میرافرض ہے۔ میں نے اپنی ذمہ داری کو بہتر طریقے سے انجام دیاہے، کہیں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کیونکہ یہ میرا فرض تھا اور ذمہ داری تھی۔ اگر آج ہم سمجھتے ہیں کہ صرف کام کی بنیاد پر ووٹ ملتے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ لوگ ہمارے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ میرے برتاؤ، سلوک اور تعلقات کی بناء پر ایک بار پھر اپنی خدمت کا موقع دیں گے۔ کیونکہ میں نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا اور نہ ہی کسی کو ذاتی تکلیف پہنچائی ہے۔
سوال:گذشتہ الیکشن میں 15سال حکومت کرنے کے بعد کانگریس اقتدار سے کیوں باہر ہوگئی؟
جواب:سچائی یہ ہے کہ گذشتہ الیکشن میں عوام کے درمیان ہم اپنی بات بہتر طریقے سے نہیں رکھ پائے اور یہ بتانے میں ناکام رہے کہ کانگریس سرکار کی کیا حصولیابیاں ہیں اور کانگریس نے کیاکیااسکیمیں شروع کی ہیں جس سے عوام کو فائدہ ہورہا ہے۔ دوسری بات بی جے پی اور عام آدمی پارٹی نے عوام کو گمراہ کیا اور دونوں کا مقصد کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنا تھا۔ تاہم کانگریس نے ذمہ داری کی مثال پیش کرتے ہوئے ایشوز کی بنیاد پر اور عوام کو مد نظررکھتے ہوئے عام آدمی پارٹی کو حمایت دی، مگر اب وہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے لگے اور سرکار چھوڑ کر ہی بھاگ گئے۔
سوال: مصطفی آباد میں آپ کے ذریعہ کون سے قابل ذکر کام کئے گئے؟
جواب:ہمارے ذریعہ کئے گئے کاموں کی فہرست بہت طویل ہے، مگر میں مختصراً یہ کہ ہم نے عید گاہ، قبرستان، شمشان گھاٹ، شیووہار کے تراہے پر ڈسپنسری، شیو وہار میں چوپال،مصطفی آباد میں اسکول کی تعمیر کرائی اورایک کارپوریشن کے اسکول کی تعمیر جاری ہے، اسکول میں بیٹھنے کیلئے پورٹا کیبن اور سڑکوں و گلیوں کی تعمیر اور ہرعلاقے میں بجلی فراہم کرنا وغیرہ ایسے قابل ذکر کام ہیں جوہم نے بنیادی طور پر پورا کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے اپنے کام کو ایمانداری کیساتھ کام کیا، کبھی کسی سے رشوت نہیں لیااور نہ ہی کسی قسم کی جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کیا۔
سوال:کانگریس کا رویہ مسلمانوں کیساتھ کیساہے؟
جواب:کانگریس صرف ایک طبقے کی طرف نہیں دیکھتی ہے بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ کانگریس صرف نہ تومسلمانوں کی بات کرتے ہوئے بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذہب کے لوگوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے۔ کسی ایک مذہب کے لوگوں کی طرف دیکھنافرقہ پرستی ہے۔ کانگریس مسلمانوں کے حقوق کو مرنے نہیں دیتی۔ کانگریس سرکارہمیشہ ہر مذہب کے لوگوں کے حقوق دینا چاہتی ہے۔ ساتھ ہی مسلم لیڈر شپ کو قوم کے حقوق کیلئے جدوجہد کرکے مانگنابھی چاہئے کیونکہ جب کانگریس دینا چاہتی ہے تو اپنے حقوق لینے کیلئے ہمیں آگے بھی آنا پڑے گااورہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے سوچناہوگا۔ ہم آپ کے اخبارکے ذریعہ آرایس ایس کے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا تھا ہے اور ہمارا ہے اور آگے بھی وہ ہمارا بال بھی باقا نہیں کرسکتے۔ آرایس ایس کو بھی چاہئے کہ ملک میں مل جل کراتحاد کے ساتھ رہیں اور نفرت پیدا کرکے حالات کو خراب نہ کریں۔
سوال: آپ کے ایم ایل اے بننے سے پہلے مصطفی آباد کی صورتحال کیاتھی؟
جواب:یہ فرق انتہائی بہتر طریقے سے ہمارے حلقے کے لوگ آپ کوبتادیں گے،کیونکہ انہیں اس کا اندازہ بہتر طریقے سے ہے۔ حالانکہ میرے کچھ مخالفین ایسے بھی ہیں جنہیں مخالفت کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا، ان کا کام صرف تنقید کرنا ہے، وہ صرف حسن احمدکی تنقید میں مصروف رہتے ہیں، مگر میں اپنے ان بھائیوں سے انتہائی مشفقانہ انداز میں اپیل کروں گا کہ ہمیں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے آگے بڑھنا چاہئے اور ہمیشہ تنقیدنہیں ہونی چاہئے بلکہ پیار محبت کی باتیں بھی کرنی چاہئے۔ اگر ہم پیار محبت کی بات کریں گے تو اس سے ہمیں خود بھی فائدہ ہوگا اور ہماری آنے والی نسلیں بھی غلط راستے پر نہیں جائیں گی۔
سوال: ’آپ‘ کو بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ بتانے کی کیا وجہ ہے؟
جواب: آپ خود دیکھئے! جب مرکز میں اور دہلی میں کانگریس کی سرکار تھی، عام آدمی پارٹی کے لوگ طرح طرح کے گمراہ کن پروپیگنڈوں کے ذریعہ دھرنا دیتے تھے، مگر بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد وہ بالکل خاموش ہیں اور اس کے ذریعہ ملک میں نفرت کاماحول، مسلمانوں کیخلاف زہرافشانی، ہندو بھائیوں کے جذبات بھڑکانا وغیرہ کا کھیل جاری ہے، مگر عام آدمی پارٹی اس پر خاموش ہے۔ یہی نہیں عام آدمی پارٹی کو آرایس ایس نے کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے ہی پیدا کیاہے۔
سوال: مصطفی آباد کے لوگوں کو آپ کیاپیغام دیناچاہتے ہیں؟
جواب: مصطفی آباد کے لوگوں نے جس شخص کو اپنا لیڈر منتخب کرکے خدمت کا موقع دیا، اس نے کبھی جھوٹ بول کر گمراہ نہیں کیا اور جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔حالانکہ ابھی حلقے میں بہت سے ترقیاتی کام کرائے جانے ہیں، جوابھی نہیں ہوپایاہے۔ اس کے علاوہ امن وامان کاماحول قائم کیا ا س لئے میں اپنے حلقہ کے لوگوں سے توقع کرتاہوں کہ مجھ پر ایک بار پھر بھروسہ جتائیں گے اور میں ان کے ہر سکھ دکھ میں کھڑا نظرآؤں گا۔ 

...


Advertisment

Advertisment