Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:07 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

بی جے پی کے ذریعہ پھیلائی جارہی نفرت ہمیں قبول نہیں

بی جے پی کے ذریعہ پھیلائی جارہی نفرت ہمیں قبول نہیں


مسلم بھائیوں کا دکھ درد ہمارا دردmبی جے پی ایم ایل اے نے عوام کو دیادھوکہm ’آپ‘ مقابلہ سے باہرmبدر پور کے سینئرلیڈر اور سابق ممبراسمبلی رام سنگھ نیتاجی سے ’’سیاسی تقدیر‘‘ کے چیف رپورٹر نثاراحمدخان کی خصوصی بات چیت

بدر پور کے ’وکاس‘کیلئے رام سنگھ نیتاجی ضروری
اسمبلی الیکشن سے قبل ’’سیاسی تقدیر‘‘سے خصوصی بات چیت میں مقامی سیاسی وسماجی کارکنان کا ردعمل

دہلی اسمبلی الیکشن میں کہیں مقابلہ پارٹیوں کے درمیان ہوتا ہے تو کہیں امیدواروں کے درمیان۔ اس طرح کی صورتحال ہمیں بدر پور اسمبلی حلقہ میں دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ بدر پور اسمبلی حلقہ کی سیاست 2لیڈروں کی ارد گرد ہی گھومتی رہی ہے۔1993سے2013 تک ہوئے پانچوں اسمبلی الیکشن میں یا تورام سنگھ نیتاجی ایم ایل اے بنے یا حریف امیدواررام ویر سنگھ بدھوڑی کامیاب ہوئے۔ رام سنگھ کی شناخت غریبوں اورمظلوموں کے ہمدرد اوراپنی صاف ستھری شبیہ کے لیڈر کے طور پرہوتی ہے۔دونوں لیڈروں میں یہ فرق کرپانا مشکل ہے کہ رام سنگھ نیتاجی عوام کی پہلی پسند ہیں یا رام ویر سنگھ بدھوڑی، مگر موجودہ حالات میں عوام سے جڑے ہونے کے ناطے ر ام سنگھ نیتاجی اب عوام کی پہلی پسند بنتے جارہے ہیں، خاص طور پر مسلمانوں میں ان کے تئیں جوش دیکھنے کو مل رہا ہے کیونکہ وہ ان کے ساتھ کاندھے سے کندھا ملاکر کھڑے نظرآتے رہے ہیں۔ رام سنگھ کی سیاسی زندگی کا زیادہ عرصہ کانگریس میں ہی گذرا ہے،مگروہ ایک بار آزاد امیدوار کے طور پر اور ایک بار بی ایس پی کے ٹکٹ پر ایم ایل اے بن چکے ہیں۔ نیتاجی اور بدھوڑی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا حامی ہونے کا بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں اور اب تک دونوں لیڈروں میں مسلم ووٹ تقسیم بھی ہوتارہا ہے۔57سالہ رام سنگھ نیتا ایک بار پھر کانگریس کے امیدوار کے طور پر انتھائی پر جوش انداز میں میدان میں ہیں اور جیت حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ رام سنگھ نیتاجی سے’’سیاسی تقدیر‘‘ کے چیف رپورٹر نثاراحمدخان نے الیکشن سے متعلق خصوصی بات چیت کی۔ گفتگو کے چند اہم اقتباسات قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش خدمت ہیں۔

سوال: رام سنگھ نیتاجی! اسمبلی الیکشن کا اعلان ہوچکا ہے، اس کیلئے آپ کی کیاتیاریاں ہیں؟
جواب: دیکھئے!میں صرف الیکشن کے وقت تیاری نہیں کرتا ہوں بلکہ ہماری تیاری ہمیشہ اور پورے سال جاری رہتی ہے کیونکہ میں عوام کے درمیان رہتاہوں اور جب عوام کو ضرورت ہوتی ہے، میں ان کے درمیان پہلے سے موجود نظر آتا ہوں۔اس لئے مجھے خصوصی طور پر کوئی تیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: بدر پور میں آپ کا مقابلہ کس پارٹی سے ہے؟
جواب: میرا مقابلہ سیدھے طورپر رام ویر سنگھ بدھوڑی سے ہوتارہا ہے، مگر اس بارمیں انہیں مقابلہ میں پیچھے مانتاہوں، اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ 2013میں ایم ایل اے بننے کے بعد وہ کہیں نظرنہیں آئے۔ اس لئے عوام کا بھروسہ ان سے اٹھ گیاہے اور وہ ایک بار پھر مجھے عوامی نمائندہ منتخب کرنا چاہتے ہیں۔
سوال: بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے کوتو ’وکاس پروش‘ کے طور پر دیکھاجاتاہے؟
جواب: نہیں! ایسا بالکل نہیں ہے، وہ صرف اپنا’وکاس‘ کرتے ہیں اور عوام کے وکا س یا ترقی سے ان کاکوئی لینا دینا نہیں ہے۔وہ لوگوں سے غلط برتاؤ کرتے ہیں اورانہیں گمراہ کرنے کیلئے پروپیگنڈہ کرتے ہیں، لیکن اب لوگ اسے سمجھ چکے ہیں، چنانچہ اب لوگ ان کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔
سوال: بدر پور میں بی جے پی کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: بدر پور کے لوگ عام آدمی پارٹی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ گذشتہ الیکشن میں جو ووٹ مل گیا تھا وہ کانگریس کا ووٹ تھا اور انہیں گمراہ کیا گیاتھا، لیکن اب وہ لوگ کانگریس کیساتھ ایک بار پھر آگئے ہیں کیونکہ دہلی کے لوگ مسلسل ایک سال سے پریشان ہیں، جس سے ہمیں امید ہے کہ میرا مقابلہ سیدھے طور پر بی جے پی سے ہے، مگر اب ہمارے ہندوبھائی بھی بی جے پی کے ذریعہ پھیلائی جارہی نفرت سے پریشان ہیں۔
سوال: بی جے پی سے عوام کے ناراض ہونے کی کیاوجہ ہے؟
جواب: دیکھئے! بی جے پی سے اقلیتوں، دلتوں اور غریبوں کا بھروسہ اٹھ چکا ہے کیونکہ اس نے جو وعدے کئے وہ جھوٹے اور گمراہ کرنے والے تھے۔ مہنگائی کم کرنے کی بات کی گئی، مگر آج مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا۔ سبزی کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں، لوگوں کے کاروبار بند ہورہے ہیں، بجلی کی کٹوتی اور پانی نہ ملنے سے لوگ پریشان ہیں،اس لئے دہلی کے لوگ بی جے پی کو سبق سکھائیں گے۔ بی جے پی کبھی مذہب تبدیلی کرارہی ہے، کبھی لو جہاد کا معاملہ اٹھایاجارہا ہے، کبھی مسلم بھائیوں کو پاکستان بھیجاجارہا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے لیڈران مسلسل زہرافشانی کررہے ہیں، جس کو ہم سب مل کر ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔
سوال: بدر پور کے مسلمانوں کیلئے آپ نے کونساکام کیاہے جس سے وہ آپ کو ووٹ دیں؟
جواب: میں پورے علاقے کے لوگوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتا ہوں۔ میں مسلم بھائیوں کیساتھ سوتیلا برتاؤ نہیں کرتا بلکہ ان کے دکھ درد کو اپناسمجھتاہوں، مسلم بھائیوں کو قبرستان کیلئے ہم نے 6بیگھہ زمین الاٹ کراکراسے مزین کرایا۔ میں نے اپنے فنڈ سے 52لاکھ روپئے لگائے۔ اس کے علاوہ جیت پور اور میٹھا پور کے مسلم علاقوں کی گلیاں بنوائیں اور انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے۔
دہلی اسمبلی الیکشن کیلئے پرچۂ نامزدگی کاسلسلہ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ بدر پور اسمبلی حلقہ میں اب تک مقابلہ دو لیڈروں کے درمیان ہوتارہا ہے، مگر اس بار قیاس آرائی کی جارہی ہے یہاں سہ رخی مقابلہ ہوگا۔ایک طرف بی جے پی کے سابق ممبراسمبلی اور امیدوارمیدان میں ہیں وہیں کانگریس کے امیدوار گذشتہ الیکشن میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کیلئے انتہائی مضبوطی کیساتھ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ الیکشن میں دوسرے نمبر پر رہنے والی عام آدمی پارٹی بھی اس بار اپنا پورا زور لگارہی ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ ’’سیاسی تقدیر‘‘ نے بدر پور اسمبلی حلقہ کے سماجی وسیاسی کارکنان اور عام لوگوں سے بات چیت کرکے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ معروف اورمتحرک سیاسی وسماجی کارکن اخترپردھاننے کہاکہ ملک میں فرقہ پرستی کو ختم کرنے کیلئے کانگریس ضروری ہے۔ بی جے پی سرکار آنے کے بعد پورے ملک میں نفرت کی فضاء پیدا کی جارہی ہے، جس سے لوگ پریشان ہیں۔ جھوٹے جھوٹے وعدے کئے گئے اور عوام کو گمراہ کیاگیا مگر ووٹ لینے کے بعد کوئی اچھا کام نہیں کیاگیا۔ اخترپردھان نے کہاکہ لوگ بی جے پی کے جھوٹ کو سمجھ چکے ہیں جبکہ عام آدمی پارٹی کے لوگوں پر کبھی بھروسہ نہیں کیاجاسکتا۔ کیونکہ وہ صرف جھوٹ کے سہارے چل رہے ہیں اور ’آپ‘ سے نکلنے والا ہر لیڈر بی جے پی میں شامل ہورہا ہے جس سے ہمیں لگتا ہے کہ وہ پہلے سے ہی ملے ہوئے ہیں۔اخترپردھان نے کہاکہ بدر پور اسمبلی حلقہ میں اس بار کانگریس کے امیدوار بھائی رام سنگھ نیتا جی کو جیت ملے گی کیونکہ وہ ہر مذہبکے لوگوں کو ایک ساتھ میں لے کر چلتے ہیں۔ بھائی رام سنگھ نے جو ترقیاتی کام کرائے ہیں وہ کسی دوسرے لیڈر نے نہیں کرایا ہے۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور بدر پور کے معروف سماجی وسیاسی لیڈر بند و سیفینے کہاکہ دہلی میں ایک بار پھر واپسی کیلئے کانگریس تیار ہے۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی نے دھوکہ دیا ہے جبکہ کانگریس نے جو ترقیاتی کرائے ہیں اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کا حوصلہ اور طاقت صرف کانگریس میں ہے، کانگریس نے ملک کی سیکولرازم کو بچانے کیلئے جو کام کیاہے اسے کوئی بھول نہیں سکتا۔
متحرک اور فعال سماجی کارکن سلیم سیفی نے کہاکہ اب گمراہ کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ ایک پارٹی صرف نفرت کی بیج بورہی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی صرف جھوٹ بول کر کانگریس کے ووٹوں کو تقسیم کررہی ہے۔ اس بار بدر پور حلقہ کے لوگ فرقہ پرست بی جے پی کو شکست دینے کیلئے کانگریسی امیدوار رام سنگھ نیتاجی کو جیت دلائیں گے۔جیت پور ایکسٹینشن میں رہنے والے سنجے گپتانے کہاکہ وقت ضرورت ہے کہ کانگریس کو مضبوط کیاجائے کیونکہ بی جے پی نے دھوکہ دے کر اقتدار حاصل کی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر بھروسے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بدر پور اسمبلی حلقہ سے ہم لوگ محنت اور جی جان کیساتھ رام سنگھ کو جیت دلائیں گے۔ کھڈّاکالونی کے رویندر کمار دوبینے کہاکہ رام سنگھ نیتاجی ایک اچھے انسان ہیں اور وہ عوام کے ہرسکھ دکھ میں موجود رہتے ہیں اس لئے وہ اس بار جیت حاصل کریں گے۔ بیباک سماجی کارکن نبی حسننے بھی کانگریس کو جتانے کی بات کہی۔ انہوں نے کہاکہ جو ہمارے مسائل کو سنتا ہے اور ہمارے سکھ دکھ میں کھڑا رہتا ہے ہم اسی کا ساتھ دیں گے۔ صابرعلی سیفینے کہاکہ کانگریس ہی فرقہ پرستوں کو شکست دے سکتی ہے۔ گڈّو ابرارنے کہاکہ ہم لوگ متحد ہوکر رام سنگھ نیتاجی کو جیت دلائیں گے۔

...


Advertisment

Advertisment