Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:13 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Adariya

زخموں پہ نمک پاشی

بابری مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں ایک طرف جہاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے اس سانحہ کے ذمہ داروں کو نوٹس بھیج کر ‘ شہادت کی سازش رچنے کے سلسلہ میں جواب طلب کیا ہے ‘ وہیں مودی سرکار نے اس وقت کے کانگریسی وزیراعظم نرسمہا راؤ کی عظیم الشان یادگار قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ بی جے پی کے پاس لیڈروں کا اکال ہے اگر وہ چاہتی تو اقتدار کا فائدہ اٹھاکر ‘ آر ایس ایس اور اپنے کسی بھی لیڈر کی یادگار قائم کرنے کا اعلان کرسکتی تھی لیکن اس نے اگر ایک کانگریسی لیڈر کا اس کے لئے انتخاب کیا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نرسمہا راؤکی مجرمانہ خاموشی کے نتیجہ میں ہی 6دسمبر کا سانحہ رونما ہوا تھا جب دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ پرستوں نے ایک تاریخی یادگار(عبادتگاہ)کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا تھا ۔اس میں کوئی شک نہیں اگر نرسمہا راؤ چاہتے تو مسجد کو شہید ہونے سے بچاسکتے تھے لیکن ایسے شواہد موجود ہیں کہ جب اجودھیا میں کارسیوکوں کا برہنہ رقص جاری تھا تو نرسمہا راؤ اپنی رہائش گاہ میں ڈش ٹی وی پر مسجد کی شہادت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے تھے ۔اس دوران انہوں نے نہ تو کوئی فون رسیو کیا اور نہ ہی کسی سے گفتگو کی ۔آرایس ایس اور بی جے پی کے لوگ نرسمہا راؤ کے اس اہم رول سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس کے لئے وہ ہمیشہ ان سے اپنی ممنونیت کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں لیکن اب مودی سرکار مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے راؤ کی ایک یادگار قائم کرنا چاہتی ہے ۔ذرائع بتاتے ہیں کہ وزارت شہری ترقیات نے گذشتہ ہفتہ اس سلسلے میں ایک تجویز کابینہ کی منظوری کے لئے بھیج دی ہے ۔مودی سرکار یہ بھی چاہتی ہے کہ جمنا ندی کے ساحل پر جہاں دوسرے لیڈروں کی یادگاریں قائم ہیں وہیں راؤ کی بھی یادگار قائم ہو۔قابل ذکر ہے کہ 2004میں راؤ کی موت کے بعد یوپی اے سرکار نے ان کے لئے کوئی یادگار قائم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس وقت بہ ظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی لیکن سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ کہا جارہا تھا کہ مسلمانوں کی ناراضگی کی وجہ سے کانگریس بھی راؤ سے فاصلہ بنائے رکھنا چاہتی ہے ۔بعدازاں 2013میں یوپی اے سرکار نے یہ فیصلہ کیا کہ اب کسی بھی لیڈر کے لئے اب الگ سے کوئی یادگار نہیں قائم کی جائے گی ۔اس کی وجہ جگہ کی تنگی بتائی گئی تھی ۔جمنا ندی کے ساحل پر جو ایکتا استھل واقع ہے اس میں سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال ،چندر شیکھر ،سابق صدر جمہوریہ گیانی ذیل سنگھ،شنکر دیا ل شرما،کے آرنارائنن اور آر وینکٹ رمن کی یادگاریں ہیں اب مودی سرکار انہیں لوگوں کے درمیان راؤ کی یادگاربھی قائم کرنا چاہتی ہے ۔بی جے پی اقتدار میں ہے اور اگر وہ اقتدار سے باہر رہ کربھی ملک کے آئین کی دھجیّاں اڑا سکتی ہے تو اقتدار میں رہ کر وہ کچھ بھی کرسکتی ہے ۔اب اسے کچھ بھی کرنے سے روکا نہیں جاسکتا لیکن اس معاملہ کے سامنے آنے سے ایک بار پھر یہ افسوسناک سچائی سامنے آگئی کہ وزیراعظم نریندر مودی خود کو جیسا ثابت کرنا چاہتے ہیں اندر سے وہ ویسے ہیں نہیں۔وہ جو کچھ کہتے ہیں ‘ عمل اس کے قطعی برعکس ہوتا ہے ۔انہیں نہ تو سب کا ساتھ چاہئے اور نہ ہی وہ سب کے وکاس پر یقین رکھتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے احساسات وجذبات کا بھی خیال رکھتے لیکن ان کے اب تک کے رویہ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ملک کے نہیں ‘ آرایس ایس کے نمائندے ہیں اور ا ن کی سرکار وہی کچھ کرتی ہے جیسا آرایس ایس چاہتی ہے !نرسمہار اؤ بھی انہیں اس لئے عزیز ہیں کہ مسلمان ان سے شدید نفرت کرتے ہیں اور بابری مسجد پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرکے ایک طرح سے انہوں نے ’ہندتوا‘ کی حوصلہ افزائی کی تھی !!

 

جنتا پریوار کی تشکیل اور مسلمان!

کبھی جنتا دل کا حصہ رہی سیاسی پارٹیاں اب ایک بار پھر ایک ہونے جارہی ہیں۔ ان پارٹیوں کے ایک پلیٹ فارم پر آنے کے اشارے پچھلے کئی مہینے سے مل رہے تھے۔ ایک وقت میں تو تیسرا محاذ بنانے کی سرگرمیاں بھی زوروں پر تھیں لیکن اب متحدہ جنتا دل کے صدر شرد یادو کا جو بیان آیا ہے وہ ایک الگ کہانی کہتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ عنقریب ان پارٹیو ں کا انضمام ہوجائے گا گویا یہ کوئی محاذ نہیں بننے جارہا بلکہ یہ الگ الگ ناموں کی پارٹیاں اب ایک ہونے جارہی ہیں۔ حال ہی میں ملائم سنگھ یادو کی صدارت میں ان پارٹیوں کی ایک میٹنگ بھی ہوچکی ہے اور اسی میٹنگ میں ان پارٹیوں کے لیڈروں نے فیصلہ کیا کہ سماجوادی ،راشٹریہ جنتا دل اور متحدہ جنتا دل اپنی موجودہ شکل ترک کرکے نئی ’جنتا پریوار‘ کا نیا لبادہ اوڑھ لیں۔ بہت ممکن ہے ان پارٹیو ں کے نئے رنگ میں آنے سے کوئی بڑا سیاسی تجربہ بھی انجام پذیر ہو لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ان تینوں پارٹیوں کے ایک ساتھ آجانے سے کیا کوئی تیسرا متبادل عوام کے سامنے آسکتا ہے؟ شرد یادو نے امید کا اظہار کیا ہے کہ اس میں جنتا دل (سیکولر) اور انڈین نیشنل لوک دل بھی شامل ہوسکتے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ان پارٹیو ں کے انضمام سے بھی جو نئی پارٹی سامنے آئے گی وہ ملک گیر سطح پر اپنی موجودگی کا احساس نہیں کراسکے گی۔ بہار میں لالو اور نتیش کے ساتھ آجانے سے اچھا اثر ہوسکتا ہے لیکن دوسری ریاستوں میں یہ پارٹی اپنی طاقت میں کوئی خاص اضافہ نہیں کرسکے گی۔ لوک سبھا میں ان تمام پارٹیوں کے ممبران کی تعداد مشکل سے15ہوگی البتہ راجیہ سبھا میں ان کی مجموعی تعداد 30سے اوپر جاسکتی ہے جہاں بی جے پی اقلیت میں ہے۔ حالانکہ اگر کوئی کوشش کی جائے تو ترنمول کانگریس،بیجو جنتا دل جیسی پارٹیاں اس کا حصہ ہوسکتی ہیں لیکن ایک بڑا سوال تو یہ ہے کہ کیا ان پارٹیوں سے وابستہ لیڈران اپنی انا اور سیاسی مفاد کوترک کرسکیں گے؟ یوں بھی اگر دیکھیں ان تینوں اہم پارٹیوں راشٹریہ جنتا دل، متحدہ جنتادل اور سماجوادی پارٹی کی سیاسی طاقت مسلمان ہیں۔ ان کی حمایت سے ہی ان کی بنیاد ٹکی ہوئی ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ پارٹیاں ان خطرناک ایشوز پر خاموش ہیں جو ہیں تو آرایس ایس کا ایجنڈہ لیکن اب بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل ہوچکی ہیں۔ گاؤکشی کی آڑ میں مکمل ذبیحہ پر پابندی لگانے کی خطرناک سازش ہورہی ہے اور یہ پارٹیاں خاموش ہیں۔ بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلمانوں کومشق ستم بنایا جارہا ہے۔ مودی سرکار نے نئی تعلیمی پالیسی لانے کا اعلان کردیا ہے لیکن ان تمام ایشوز پر خود کو سیکولر کہنے والے لوگ چپ ہیں۔ وہ تحویل آراضی بل پر پارلیمنٹ کو یرغمال بنا رہے ہیں لیکن جس طرح مسلمانوں کے آئینی حقوق چھیننے کی سازش ہورہی ہے اس کے خلاف ان کے پاس ایک لفظ بھی نہیں۔ اب یہ پارٹیاں انضمام کا نعرہ دے کر اگر ایک ہونا چاہ رہی ہیں تو اس کے پیچھے بھی مسلم ووٹ کے حصول کا نظریہ شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ مصنوعی سیکولرزم کے نام پر مسلمان کب تک ان بے حس پارٹیوں کو ڈھوتا رہے گا؟ مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ بھی ٹوٹ سکتا ہے اور تب یہ پارٹیاں کہاں ہوں گی؟ شاید اس پہلو پر ان کی نظر نہیں ہے اور ہوبھی تو کیوں۔ کانگریس کی مسلمانوں کو خوف زدہ کرو اور ووٹ لو والی پالیسی اب انہوں نے بھی اپنا لی ہے۔ یہ مطمئن ہیں کہ جب بھی الیکشن ہوگا مودی اور آرایس ایس کے خوف سے مسلمان ان کی چوکھٹ پر ہی جبیں سائی کو مجبور ہوگا۔

 

وزیرداخلہ کے دل کی بات

ابتداء گجرات سے ہوئی اس کے بعد رفتہ رفتہ بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں یہ پابندی نافذ ہوئی لیکن اب وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے جینیوں کے ایک پروگرام میں جو کچھ کہا ہے اس سے اجاگر ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کی اصل منشاء کیا ہے؟ اس پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے گاؤ ذبیحہ کو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ان کی سرکار ملک بھر میں گاؤ ذبیحہ پر پابندی لگانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی اور اس کے لئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش بھی۔ انہوں نے صفائی دی کہ گاؤذبیحہ پر پابندی لگانے کے ان کے عہد پر کسی طرح کا سوالیہ نشان نہیں لگایا جانا چاہئے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرمیں نافذکئے گئے قوانین کا حوالہ بھی دیا۔ اس راہ میں جو رکاوٹ ہے اس کا بھی انہوں نے خلاصہ کردیا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ گاؤ ذبیحہ والے( جس کے تحت پورے ملک میں پابندی نافذ ہوجائے گی) بل کو منظور کرانے کے لئے دونوں ایوانوں میں ہمیں واضح اکثریت چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا میں ابھی بی جے پی کو اکثریت نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ2003 میں جب وہ وزیرزراعت تھے گاؤ ذبیحہ پر مکمل پابندی والا ایک بل لے کر وہ آئے تھے لیکن وہ جیسے ہی اسے ایوان میں پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ایک ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اس وجہ سے اس وقت وہ یہ بل پاس نہیں کراسکے تھے۔ اس سے قبل’’سیاسی تقدیر‘‘ یہ لکھ چکا ہے کہ مرکزی سطح پر اس تعلق سے ایک قانون بنانے کے سلسلے میں صلاح ومشورہ کیا جارہا ہے اور اب راج ناتھ سنگھ نے اس پر اپنی صداقت کی مہرلگادی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس معاملہ میں بھی بی جے پی کے لوگ جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔ گاؤ ذبیحہ پر مغربی بنگال کو چھوڑ کر تقریباً ہر ریاست میں بہت پہلے پابندی نافذ ہے۔ مسلمان اس لئے بھی گاؤ ذبیحہ سے پرہیز کرتے ہیں کہ اس سے اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ عید قرباں کے موقع پر ہمارے علمائے کرام بھی اپنے بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کو گائے کی قربانی سے منع کرتے ہیں لیکن ابھی مہاراشٹر میں جو نیا قانون لایاگیا ہے وہ ذبیحہ پر مکمل پابندی والا قانون ہے مگراسے گاؤ ذبیحہ پر پابندی کہہ کر مشتہر کیا جارہا ہے۔ اب وزیرداخلہ بھی کچھ ایسی ہی غلط بیانی کرنے لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب گاؤ ذبیحہ پر پہلے سے پابندی نافذ ہے تو پھر وہ نئے قانون کی بات کیوں کررہے ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ اس کی آڑ میں مہاراشٹر جیسا ہی قانون وہ اب پورے ملک پر لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ اکثریت کے مذہبی جذبات کا لحاظ رکھا جانا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بھی ہونا چاہئے۔ ملک میں جین فرقہ مٹھی بھر ہے جو گوشت خور نہیں ہے ورنہ سچائی یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی زیادہ تر گوشت خور ہیں اور بڑے شہروں میں تووہ’’بیف‘‘ بھی کھاتے ہیں۔ گاؤ ذبیحہ پر یقیناًپابندی لگائیں لیکن بھینسے کے گوشت پر بھی پابندی لگائے جانے کو درست نہیں کہا جاسکتا۔ حیرت تو یہ ہے کہ گجرات میں جب مکمل ذبیحہ کے قانون کوچیلنج کیاگیا تو سپریم کورٹ نے اپنا ہی فیصلہ الٹ دیا۔ سچائی یہ ہے کہ ملک کو رفتہ رفتہ ہندوراشٹر کی تعمیر کی راہ پر لگایا جارہا ہے۔ سست رفتاری سے ہی سہی ملک اب ہندوراشٹر بنتا جارہا ہے۔ اور ہمارے نام نہاد سیکولر لیڈر خاموش ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا سیکولرزم نقلی ہے اور اس کا مکھوٹا انہوں نے اس لئے لگارکھا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کا سیاسی استحصال کرتے رہیں۔

 

جانچ دوبارہ ہو!

ہاشم پورہ قتل عام میں عدالت کا فیصلہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے کسی کے زخموں پر نمک پاشی کردی جائے۔ اس میں عدالت کا کوئی قصور نہیں۔ وہ تو ثبوت دیکھتی ہے اور اگر ثبوت ہی کمزور ہوتو پھر عدالت بھی کیا کرسکتی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ اس معاملہ کو آتی جاتی سرکاروں نے نہ صرف کمزور کیا بلکہ دانستہ طو رپر ثبوت بھی مٹانے کی کوشش ہوئی۔ اس واقعہ میں 42لوگوں کو پی اے سی کے درندوں نے اپنی بربریت کا شکار بنایا تھا لیکن سرکار اور انتظامیہ کی بے حسی اور مسلم دشمنی کا شرمناک پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ کے بعد بھی انتظامیہ سرگرم نہیں ہوئی اس دوران اس ٹرک کو دھوڈالاگیا جس سے لوگوں کو قتل گاہ لے جایاگیاتھا۔ اس کے باوجود ٹرک سے سرخ خون ٹپکتا رہا لیکن نہ تو اس کی جانچ ہوئی اور نہ ہی اس ٹرک کا نمبر ہی نوٹ کیاگیا۔ جن رائفلوں کو جانچ کے لئے بھیجا گیا وہ کن لوگوں کی تھیں ان کے نام تک انتظامیہ کے علم میں نہیں تھے۔ نہ تو ان رائفلوں کو سیل کیاگیا اور نہ ہی اس وقت قاتلوں کی شناخت کرائی گئی۔ گزشتہ 24مارچ کو این ڈی ٹی وی پر اس سانحہ کے حوالہ سے جو بحث ہوئی اس میں اترپردیش سرکار کے وزیر امبیکا جی کانگریس کے ترجمان اکھلیش سنگھ متاثرین کے وکیل برندا گردور تھیں۔ قتل عام سے زندہ بچ کر بھاگ جانے والے ناصر اور غازی آباد کے اس وقت کے ایس پی وبھوتی نرائن رائے تھے۔ جب یہ سانحہ ہوا ریاست میں کانگریس اقتدار میں تھی۔ دوسال تک اس کے بعد کانگریس کی سرکاررہی۔ بعد ازاں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کی سرکاریں قائم ہوئیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کو انصاف دلانے کی کوشش نہیں کی۔ بحث کے دوران کانگریس کے ترجمان کسی طرح کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھے حالانکہ اگر معاملہ میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، ثبوت ضائع کئے گئے اور قاتلوں کو بچانے کی سازش ہوئی تو اس کے لئے کانگریس براہ راست ذمہ دار ہے۔ کانگریس ترجمان اس سوال کا بھی جواب نہیں دے سکے کہ اتنے بڑے سانحہ کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نے وہاں کا دورہ کیوں نہیں کیا؟ سماجوادی کے وزیر بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے لیکن بحث اس لئے بہت اہم رہی کہ اس میں وبھوتی نرائن شامل تھے جو سانحہ کے وقت غازی آباد میں بطور ایس پی تعینات تھے۔ انہوں نے سانحہ کے تعلق سے کچھ ایسے انکشافات کئے جنہیں جمہوریت کے چہرے کا داغ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد سرکار نے جس شرمناک بے حسی کا مظاہرہ کیا وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں کے لئے مسلمان انسان نہیں بس ووٹ بینک ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کا خوبصورت ذریعہ۔ وبھوتی نرائن کی اس بات سے ہم صد فی صد اتفاق کریں گے کہ اس پورے سانحہ کی ازسرنو جانچ ہو۔ بہتر تو یہ ہے کہ اس کے لئے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے۔ ایک لمحہ کے لئے اگر ہم جان لیں کہ جن لوگوں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیاگیا ہے وہ بہت ممکن ہے بے گناہ ہوں لیکن قتل عام تو ہوا ہے ایسے میں سوال فطری ہے کہ آخر انہیں کس نے قتل کیا؟ عدالت اور قانون دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ کی تہہ تک پہنچیں محض فیصلہ دینے سے ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ عدالت کو اس سلسلے میں بہر حال راستہ بتانا چاہئے تھا اور اگر اس کا دائرہ کار محدود تھا تو وہ اپنی سفارش اعلیٰ عدالتوں کو بھیج سکتی تھی۔ انصاف کے لئے ہی سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو دہلی منتقل کیاتھا لیکن تب تک ریاستی سرکار نے اس معاملہ کو اتنا کمزور کردیاتھا کہ کوئی بھی عدالت کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ ہاشم پورہ سانحہ مسلم قیادت اور ان مسلم تنظیموں کے منہ پر بھی ایک طمانچہ ہے جو مسلمانوں کی رٹ ضرور لگاتی ہیں لیکن جب امتحان کا وقت آتا ہے تو یہ سارے لوگ کہیں لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت بھی لفاظی زیادہ ہوتی ہے۔ ہاشم پورہ کے متاثرین کو انصاف دلانے کی کوئی سنجیدہ کوشش اب بھی نہیں شروعہوئی ہے۔

 

’’من کی بات‘‘

گزشتہ اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی نے ریڈیو کے ذریعہ کسانوں سے من کی بات کہتے ہوئے جو کچھ کہا اس سے یہ نظریہ قائم ہوا کہ وہ اس مسئلہ پر سیاسی جنگ لڑنے کا من بنا چکے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر کسانوں کو ورغلانے کا الزام لگایا اور کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ البتہ اب سرکار نے قدرے نرمی کے اشارے دیئے ہیں۔ دیہی ترقیات کے وزیرکا یہ کہنا کہ بل کی منظوری میں تمام پارٹیوں کی رائے لی جائے گی اس کا واضح اشارہ ہے۔ ویسے اگر غرور کی جگہ سرکار ابتداء ہی سے یہ رویہ اپناتی تو شاید اس طرح کے ٹکڑاؤ کی نوبت ہی نہ آتی لیکن وزیراعظم نے خود اس بات کوطاق پر رکھ دیا کہ پارلیمانی نظام میں قانون بنانے کا عمل جمہوری ہوتا ہے۔ انہوں نے اچانک آرڈیننس جاری کردیا۔ ایک ایسا قانون بدلنے کے لئے جب پارلیمنٹ میں عام رائے سے بنا تھا اور جس میں بی جے پی کی رضا مندی بھی شامل تھی۔ یوں بھی آئین میں آرڈیننس کا التزام ہنگامی صورت حال کے لئے ہے جو پارلیمنٹ کا سیشن نہ چل رہا ہو۔ لیکن حیرت انگیز ہے کہ آراضی سے متعلق یہ آرڈیننس سرمائی اجلاس کے خاتمہ کے دوسرے ہی روز جاری کیاگیا۔ ایسے میں اس آرڈیننس کی منشاء کو لے کر سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہ دلیل اگر تسلیم کرلی جائے کہ سیشن ختم ہوگیا تھا اس لئے مجبوری میں ایسا کرنا پڑا تو سوال یہ ہے کہ یہ آرڈیننس اتنا ضروری کیوں تھا کہ سیشن کے خاتمہ کے دوسرے ہی دن اسے جاری کرنا پڑا؟ بہت ممکن ہے کہ یہ جلد بازی اس لئے کی گئی ہوتاکہ کارپوریٹ گھرانو ں کو ایک مثبت پیغام دیا جاسکے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جوقانون دوسال قبل ہی بنا تھا اور سب کی رضا مندی سے بنا تھا آخردوسال بعد ہی اس میں ایسی کیا خامی آگئی کہ اس میں ترمیم ضروری ہوگئی تھی؟ اب کہا جارہا ہے کہ یہ بل کسان مخالف نہیں ہے تو کیا دوسال قبل بنایاگیا قانون کسان مخالف تھا؟ اگر ایسا ہے تو بی جے پی نے اس وقت کیوں اعتراض نہیں کیا جب اس پر پارلیمنٹ میں بحث چل رہی تھی؟ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ قانون دوسال کے بحث ومباحثہ کے بعد ہی تیارکیاگیا تھا اور اس بحث میں سیاسی پارٹیوں کے علاوہ سماجی تنظیموں، کسانوں اور قبائلیوں کے نمائندوں نے بھی اپنے مشورے دیئے تھے۔ ایسے میں اگر وزیراعظم محسوس کررہے تھے کہ مذکورہ قانون ترقی کی راہ میں روڑہ بن رہا ہے تو اس کے لئے انہیں اپوزیشن کواعتماد میں لینے کے ساتھ ساتھ اس پر کھلی بحث کرانے کی پہل کرانی چاہئے تھی لیکن ایسا کرنے کی جگہ انہو ں نے آرڈیننس لانے کے راستے کا انتخاب کیا اور اس کے بعد پوری سرکار اپوزیشن کو جھوٹا ثابت کرنے میں مصروف ہوگئی۔ غالباً انہیں خوش فہمی تھی کہ اپنی جارحانہ انتخابی روش سے ساری مخالفتوں کی دھار کند کردیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا چنانچہ اب سرکار کو اس پر ازسرنو غور کرنا پڑرہا ہے۔ اس نے یہ بل لوک سبھا سے پاس کرالیا ہے ظاہر ہے وہاں بی جے پی اکثریت میں ہے لیکن راجیہ سبھا میں وہ ایسا نہیں کرسکتی۔ ایسے میں سرکار کے پاس دوہی متبادل ہیں یا تو وہ آرڈیننس کو اپنی موت آپ مرجانے دے( اس کی معیاد5اپریل کو ختم ہورہی ہے) یا پھرنیا آرڈیننس جاری کرے اور سب کے مشورے سے ترمیم شدہ قانون بنانے کی اپنی کوشش جاری رکھے۔ یوں بھی من کی بات ہمیشہ نہ تو پوری ہوتی ہے اور نہ ہی سچ ثابت ہوتی ہے۔

 

وی کے سنگھ نے ایسا کیوں کیا؟

پاکستان کے قومی دن پروزیرمملکت برائے امورخارجہ وی کے سنگھ کی شرکت اور اس کے بعد ان کے ٹوئٹ سے جو تنازعہ پیدا ہوا تھا وہ ان کی طرف سے دیئے گئے بیان سے اگرچہ ختم ہوگیا ہے لیکن یہ سوال اب بھی قائم ہے کہ اگر وہ یعنی وی کے سنگھ اس پروگرام میں شرکت نہیں کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے انکار کیوں نہیں کیا؟ ظاہر ہے وہ اس پروگرام میں حکومت کے نمائندے کے طو رپر شریک ہوئے تھے اور اس میں وزیراعظم نریندر مودی کی بھی مرضی شامل رہی ہوگی ایسے میں انہوں نے ٹوئٹر پر ایک کے بعد ایک کئی تبصرے کئے تھے جس سے تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور مودی سرکار کی سبکی بھی ہوئی تھی۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے اپنی پارٹی کو پریشانی میں ڈالا۔ ایک بار نئے فوجی سربراہ کی تقرری پر سوال اٹھاکر بھی وہ اپنی پارٹی کو پریشانی میں ڈال چکے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر جس طرح کے تبصرے کئے اس سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کی تقریب میں شرکت سے وہ خوش نہیں تھے بلکہ ڈیوٹی کے دباؤ میں انہیں ایسا کرنا پڑا۔ ممکن ہے ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہوکہ تقریب میں حریت لیڈران بھی شریک تھے۔ سبب خواہ کچھ ہو لیکن وی کے سنگھ کو بہر حال یہ نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ وہ اب وزیر بھی ہیں اس لئے ان کا ذاتی نظریہ خواہ کچھ ہو ان کے رویہ اور باتوں سے سرکار کی سبکی نہیں ہونی چاہئے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو خط لکھ کر پاکستان ڈے کی مبارکباد دی جس میں انہوں نے لکھا کہ آپسی بات چیت سے ہی دوطرفہ معاملوں کو پرامن طریقہ سے سلجھا یا جاسکتا ہے۔ یقیناًوزیراعظم اس بات سے واقف رہے ہوں گے کہ اس تقریب میں حریت لیڈران بھی شامل ہونے والے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے وی کے سنگھ کو اس تقریب میں شرکت کے لئے بھیجا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے خود وی کے سنگھ نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ سرکار کی جانب سے پاکستان کی اس طرح کی تقاریب میں شریک ہونے کی روایت رہی ہے۔ ابھی گزشتہ سال ہی پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط اور حریت لیڈروں کے درمیان ملاقات کے بعد ہندوستان نے خارجہ سکریٹریوں کی سطح پر ہونے والی بات چیت رد کردی تھی لیکن اس بار سرکار نے اس طرح کا کوئی اعلان نہیں کیا ایسے میں وی کے سنگھ نے ٹوئٹر پر جوتبصرے کئے انہیں درست نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری طرف تنازعہ میں گھرنے کے بعد انہوں نے اوراس کا سارا الزام میڈیا کے سرمنڈھ دیا۔ یہ کہہ کر کہ ان کی باتوں کا غلط مطلب نکالا گیا اس کے ساتھ ہی انہوں نے سرکار کے رخ اور وزیراعظم کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان بھی کیا ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ تنازعہ میڈیا کا کھڑا کیا ہوا نہیں تھا اس کے لئے خود وی کے سنگھ ہی ذمہ دار ہیں۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک حساس وزارت سے جڑے ہوئے ہیں جس کا کام دوسرے ممالک کے ساتھ رشتوں کی نوعیت اور سمت طے کرنا ہے اور یہ ذمہ داری اپنے ذاتی رویہ کے ساتھ اور غصہ میں آکر نہیں نبھائی جاسکتی۔

 

امریکہ کا دوہرا کردار

گذشتہ دنوں مشرق وسطی کے امور کے ایک ماہر سے ملاقات ہوئی ، ملاقات کے دوران عرب اسرائیل تعلقات کے ساتھ ساتھ فلسطین کے حوالہ سے جب امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے کردار پر گفتگو ہوئی تو اس کا تبصرہ تھا کہ امریکہ جو کچھ کہتا ہے اس کا عمل اس ے مختلف ہوتا ہے ، وہ دوستی کے پردے میں دشمنی کرتاہے او رہر معاملہ میں اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے ۔آج اخبارات میں جب امریکہ کے چیف آف ا سٹاف کا یہ بیان کہ فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم ہونا چاہئے نظر سے گذرا تو مجھے مشرق وسطی امور کے مذکورہ ماہر کی بات شدت سے یاد آئی ۔خبروں کے مطابق امریکہ نے پہلی بار اسرائیلی وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرتے ہوئے ایک خودمختار ریاست کی تشکیل کے لئے فوری اور موثر اقدامات کریں۔الیکشن کے دوران ‘ یہودیوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لئے نتن یاہو نے بری اشتعال انگیز مہم چلائی تھی ۔دوسری کئی متنازعہ باتوں کے علاوہ نتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو غرب اردن کے علاقہ سے فلسطینیوں کو نکال باہر کریں گے ۔یاہو کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف میک ڈونونے کہا کہ اسرائیل غرب اردن کے کسی علاقہ کو شامل کرنے کے بارے میں نہ سوچے کیونکہ یہ غلط بھی ہوگا ،غیر قانونی بھی اور امریکہ اس کی سختی سے مخالفت کرے گا، خبر کے مطابق چیف آف اسٹاف نے یہ باتیں وہائٹ ہاؤس میں امریکی یہودیوں کے گروپ ’’ جے اسٹریٹ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل 50سالہ قبضہ ختم کرے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے ۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ کے رویہ میں یہ غیر معمولی تبدیلی کیونکر آئی ؟ حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ روز اول سے اسرائیل کا تحفظ کررہا ہے یہاں تک کہ اقوام متحدہ میں اگر اسرائیل کے خلاف کبھی کوئی قرارداد بھی پیش ہوتی ہے تووہ اسے ویٹو کردیتا ہے ۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب اسرائیل فلسطینی بچوں پر بم برسارہا تھا ‘ اسکولوں اور اسپتالوں کو خاص طور پر نشانہ بنایاجارہاتھا اس کے خلاف اقوام متحدہ میں جب ایک مذمتی قرارداد پیش ہوئی تو امریکہ نے اسے ویٹو کردیا تھا، لیکن اب باراک اوبامہ اور نتن یاہو کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں ابھی پچھلے دنوں باراک اوبامہ کے نہ چاہتے ہوئے ری پبلیکن نے نتن یاہو کو امریکہ مدعو کیا ۔ظاہر ہے اوبامہ کی یہ آخری مدت ہے لیکن ان کے بعد جس نئے صد ر کو ان کی جگہ لینی ہے ا س کے لئے امریکی یہودیوں کو خوش کرنا ضروری ہے ۔اب تک امریکہ میں یہی ہوتا ہے ۔ایسے میں فلسطین کے حوالہ سے وہائٹ ہاؤس کے چیف آف ا سٹاف نے جو کچھ کہا ہے اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسرائیل کے تعلق سے امریکی پالیسی میں کوئی لچک پیداہوگئیاس کا امکان بہت کم ہے اور باراک اوبامہ اسرائیل کے خلاف کچھ کرسکیں گے اس کی بھی توقع زیادہ نہیں ہے ۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے فلسطین کے حالات اور 2014کے غزہ تصادم سے متعلق ایک خصوصی اجلاس طلب کیا جس میں اسرائیل شامل نہیں ہوا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس میٹنگ میں امریکہ بھی شریک نہیں ہوا ۔کیا یہ دوہرا کردار نہیں ہے ؟ صاف ظاہرہے کہ اوبامہ بھلے ہی نتن یاہو سے ناراض ہوں اسرائیل سے متعلق امریکہ کی اسٹیٹ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ، غالب نے درست ہی کہا تھا ۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

 

زبان پر سچ آہی گیا

گزشتہ دنوں نئی دہلی میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی 10ویں سالانہ کانفرنس میں جہاں ہمارے وزیرداخلہ نے اپنے کورے لفظوں سے اقلیتوں اور خاص طو رپر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی وہیں ان کی زبان سے اندر کا سچ بھی باہر آگیا۔ پچھلے کچھ دنوں’’گھرواپسی‘‘اور ’’بیٹی بچاؤ‘‘ مہم کے تحت ملک میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کیوں ہورہا ہے اس کی حقیقت بھی سامنے آگئی۔ ’سیاسی تقدیرکئی بار لکھ چکا ہے کہ آرایس ایس نے جو یہ مہم شروع کی ہے وہ انتہائی منصوبہ بند ہے اور اس کا مقصد ملک میں موجود مذہبی آزادی کو ختم کرکے اس کی جگہ تبدیل�ئ مذہب کا سخت قانون لانے کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی کے بہت سے لیڈر آرایس ایس کی اس منشاء یا منصوبہ کا اظہار اپنی زبان سے کرچکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب ملک کے وزیرداخلہ کی حیثیت سے راج ناتھ نے بھی آر ایس ایس کے اس منصوبہ پر اپنی رضا مندی کا صاف اشارہ دے دیا ہے۔ کانفرنس اقلیتوں کے تعلق سے تھی اس لئے انہیں اقلیتوں کو خوش کرنا تھا چنانچہ انہوں نے پہلے تو یہ فرمایا کہ اقلیتوں کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے گی۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ گھر واپسی اور تبدیل�ئ مذہب پر کبھی کبھی افواہیں پھیلتی ہیں اور تنازعات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں چنانچہ تبدیل�ئ مذہب خواہ وہ کسی بھی طرح کا ہو نہیں ہونا چاہئے اور اس کے بعدوزیرداخلہ نے براہ راست اپنے مطلب پر آگئے اور کہا کہ تبدیل�ئ مذہب مخالف قانون ہونا چاہئے۔ اس ایشو پر نہ صرف بحث ہونی چاہئے بلکہ ہمیں تبدیل�ئ مذہب مخالف قانون بنانے پر غور کرنا چاہئے۔ گویا آرایس ایس اور اس کی حواری تنظیمیں جو کچھ کررہی ہیں وہ وزیرداخلہ صاحب کی نظر میں سچ نہیں ہے۔ اسے انہوں نے افواہ سے تعبیر کیا ہے۔ دوسرے اب جس طرح سے راج ناتھ سنگھ نے تبدیل�ئ مذہب مخالف قانون کی حمایت کرتے ہوئے اس پر بحث کرنے کی ضرورت پر زور دیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ مودی سرکار بھی وہی کرنے کی سوچ رہی ہے جیسا کہ آرایس ایس چاہتی ہے۔ ثابت ہوگیا کہ یہ اشتعال انگیزیاں، پروپیگنڈے، ہنگامے اور شدت پسندی اس لئے ہے تاکہ ملک کی اقلیتوں کو اس حد تک خوف زدہ کردیا جائے کہ وہ تبدیل�ئ مذہب مخالف قانون بنانے کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ اس عمل سے نہ صرف آئین کی روح مجروح ہوگی بلکہ شخصی مذہبی آزادی پر بھی قدغن لگ جائے گا۔ آزادی کے بعد ملک میں جو آئین نافذ ہوا اس میں ہر شخص کی مذہبی آزادی کا احترام کرتے ہوئے انہیں اپنی پسند کا مذہب چننے کی آزادی دی گئی ہے ۔ آرایس ایس اور دوسری فرقہ پرست تنظیمیں عرصہ سے اس آزادی کی مخالفت کررہی ہیں اور اب جبکہ مودی سرکار آگئی ہے تو انہوں نے ’’گھرواپسی‘‘ کی مہم شروع کردی۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب عیسائیوں کے ایک پروگرام میں وزیراعظم نے مذہبی آزادی کی نہ صرف حمایت کی تھی بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ ہرشہری کو اپنی پسند کا مذہب چننے کا اختیار حاصل ہے اور اب راج ناتھ سنگھ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اس کے یکسر خلاف بات ہے۔ تبدیل�ئ مذہب مخالف قانون پر بحث کا نیوتہ دے کر وزیرداخلہ نے ایک طرح سے مودی سرکار کا موقف پیش کردیا ہے اس لئے کہ انہوں نے جس پروگرام میں یہ بات کہی وہ سرکاری پروگرام تھا اور اس میں وہ وزیرداخلہ کی حیثیت سے شریک تھے۔ تو کیا اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی سرکاری سازش ہورہی ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اس لئے وزیراعظم کو اس ایشو پر اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے کہ ان کی سرکار کا اصل مقصد اور منشاء کیا ہے اور کیا وزیرداخلہ نے جو کچھ کہا ہے وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

 

جے پور میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا29واں اجلاس کل جے پور میں اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر غوروخوض کے ساتھ ساتھ فرقہ پرست لیڈروں کی جانب سے ہونے والی مسلسل اشتعال انگیزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیاگیا۔ دوسرے کئی اہم امور پر بھی بحث ہوئی۔ بعد ازاں بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ بورڈ ملک میں تیزی سے فروغ پانے والی فرقہ پرستی کے خلاف برادران وطن کو ساتھ لے کر ایک ملک گیر تحریک چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب سے نئی سرکار آئی ہے ہندتوا نواز طاقتوں کی وجہ سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ بورڈ نے یہ بھی اعلان کیا کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں جس طرح سوریہ نمسکار اور یوگا کو لازمی قرار دیاگیا ہے اسے مسلمان ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ریاستی سرکاریں اس فیصلے کو واپس لیں۔ گیتا کو اسکولی نصاب میں شامل کئے جانے کی بھی مخالفت کی گئی۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ بورڈ کا موقف یہ ہے کہ اسکولوں میں سرے سے مذہبی تعلیم نہ دی جائے بلکہ بچوں کو ایسے فضا میں پڑھائے جائیں جس سے ان کا اخلاق اور کردار بہتر ہو۔ اجلاس میں جو قراردادیں منظور ہوئیں اس کے حوالہ سے صحافیوں کو باخبر کرتے ہوئے کہاگیا کہ سیکولرزم کے فروغ اور مذہبی آزادی کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے بورڈ ایک ملک گیر مہم چلائے گا۔ بورڈ کی آئین بچاؤ کمیٹی اس مہم کی کمان سنبھالے گی۔ بعد میں ایک اجلاس عام ہوا جس میں ایک اندازے کے مطابق ڈھائی لاکھ لوگ شریک تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بورڈ مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیمی اکائی ہے لیکن اسے ملک کے تمام مسلمانو ں کی نمائندہ تنظیم نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے کہ اس میں تمام مسالک کے لوگوں کی مناسب نمائندگی نہیں ہے۔ شرمناک سچائی یہ بھی ہے کہ سال میں ایک بار ہی بورڈ سرگرم ہوتا ہے۔ سالانہ اجلاس میں چہل پہل، بحث ومباحثہ خوب ہوتا ہے فیصلے بھی لئے جاتے ہیں قراردادیں بھی منظور ہوتی ہیں لیکن اس کے بعد پھر سال بھر کے لئے بورڈ خاموش ہوجاتا ہے۔ ہمیں تو پہلی بار اس کا علم ہوا کہ بورڈ اصلاح معاشرہ پروگرام بھی چلا رہا ہے جس کے سربراہ مولانا ولی رحمانی ہیں۔ کچھ اندر کے لوگوں نے تو یہ انکشاف بھی کیا کہ بورڈ کے ذمہ داران میں ہی جب آپس میں اتحاد نہیں ہے تو پھر وہ سلمانوں کو کس طرح ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھ سکتے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی اجلاس میں دہلی سے صحافیوں کو لے جایاگیا۔ ان میں ’’سیاسی تقدیر کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر جاوید قمر بھی شامل تھے۔ ان صحافیوں کو لے جانے اور لانے کی ذمہ داری تو ایک مقامی صحافی کے سپرد کردی گئی لیکن جے پور پہنچنے کے بعد بورڈ کے ذمہ داران یا ان کے کسی نمائندے نے نہ تو ان صحافیوں سے ملاقات کی زحمت گوارا کی اور نہ ہی انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی یہ مہمان صحافی کس حال میں ہیں۔ اجلاس عام میں بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لئے کربلا میدان(جہاں اجلاس ہوا) اور اس کے آس پاس کی سڑکوں اور چوراہوں پر رضا کار تو تعینات تھے لیکن دہلی سے گئے صحافیوں کو جلسہ گاہ تک جانے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ حالانکہ مقامی صحافیوں کے لئے باقاعدہ’’کارڈ‘‘ ایشو کئے گئے تھے اس طرح کی افراتفری پورے اجلاس میں رہی۔ بورڈ نے بلاشبہ آخری دن اجلاس عام کرکے مسلمانوں کی تعداد کے لحاظ سے اپنی طاقت دکھادی لیکن اب اس کے آگے اس کا کیا لائحہ عمل ہوگا؟ آج کے مخدوش سیاسی حالات میں مسلمانو ں کو جس رہنمائی کی ضرورت ہے کیا بورڈ پورے اخلاص سے اس کا فریضہ انجام دے سکے گا؟ یہ سوالات وہ ہیں جن کا بظاہر کوئی جواب دور دور تک نظر نہیں آتا۔

 

انصاف کا خون

28برس کے طویل انتظار کے بعد ہاشم پورہ قتل عام پر دہلی کی تیس ہزاری عدالت کا جو فیصلہ آیا ہے اس نے ایک بار پھر ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ عدالت نے تمام16 ملزمین کو ثبوت کی عدم موجودگی کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔ واضح ہو اس قتل میں پی اے سی کے قاتلوں نے 42 مسلمانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ اس معاملہ میں کل19لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا ان میں سے تین لوگوں کو پہلے ہی بری کیا جاچکا ہے۔ یہ قتل عام1987 میں ہوا تھا، مگر اس میں چار شیٹ1996 میں غازی آباد کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں داخل کی گئی تھی بعد میں اسی معاملہ کو2002 میں دہلی منتقل کردیاگیاتھا۔ اس روز مئی کی 22تاریخ تھی۔ رمضان چل رہا تھا۔ میرٹھ میں فساد ہوچکا تھا جس کی وجہ سے شہر میں پی اے سی تعینات تھی۔ چونکہ کرفیو لگا ہوا تھا اس لئے مسلمان اپنے گھروں میں بند رہ کر جمعیۃ الوداع کی تیاریاں کررہے تھے کہ اچانک پی اے سی کے ان غنڈوں نے ہاشم پورہ محلہ میں مسلمانوں کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ تلاشی کے نام پر گھروں سے نوجوانوں کو باہر نکالاگیا۔ پھران میں سے تندرست اور توانا نوجوانوں کو چھانٹ کر باہر نکالاگیا۔ اتنے میں پی اے سی کا ایک ٹرک آگیا۔ اس پر ان نوجوانوں کو لاد کر غازی آباد ضلع میں ہنڈن ندی کی جانب لے جایا گیا جہاں ٹرک روک کر ان تمام نوجوانوں کو بے دریغ گولی ماردی گئی اور اپنا جرم چھپانے کے لئے تمام لاشیں ندی کے حوالہ کردی گئیں۔ ان میں سے پانچ خوش نصیب ان کی بربریت سے زندہ بچ گئے تھے۔ ان میں مجیب الرحمن، باب الدین، ذوالفقار ناصر، نعیم قریشی اور عثمان شامل ہیں۔ ان کو زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کرایاگیاتھا بعد میں انہیں لوگوں کی شناخت پر پی اے سی کے ان قاتلوں کے خلاف دو تھانوں میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ استغاثہ کی جانب سے80گواہ پیش کئے گئے تھے اور ان تمام لوگوں نے پی اے سی کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اس کے جواب میں پی اے سی نے جو اکلوتا گواہ پیش کیا مگر وہ اپنی گواہی ثابت کرنے میں ناکام رہاتھا اب اگر اس کے بعد بھی ثبوتوں کی عدم موجودگی میں عدالت تمام قاتلوں کو بری کردیتی ہے تو یقیناًیہ کہا جائے گا کہ یہ انصاف کا خون ہے۔ ان28سالوں کے دوران اس معاملہ میں بڑے پیچ وخم آئے۔ پی اے سی نے اپنی محکمہ جاتی انکوائری بھی کرائی تھی اور اس میں پی اے سی کے ایک کمانڈر سمیت19لوگوں کو قصور وار قرار دیاگیا تھا لیکن اگر اس رپورٹ پر عمل آوری نہیں ہوئی تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آتی جاتی حکومتوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ملزمین میں سے پی اے سی کے بعض اہلکاروں کو ترقیاں بھی دے دی گئیں۔ یہ کوئی ایسا معاملہ ہرگز نہیں تھا کہ اس میں بیشتر کوفائدہ دے کر ملزمین کو بری کردیا جاتا ایک دو نہیں 42نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتاراگیا تھا۔ دوسرے مقدمہ کو اتنا طویل کھینچ دیاگیا کہ ملزمین میں سے جہاں کچھ کی موت ہوگئی وہیں اس مقدمے میں قانونی جنگ لڑنے والے بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ لیکن اب اگر28سال بعد بھی متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا تو اس سے جہاں ہمارے قانونی نظام کی خامیاں اجاگر ہوجاتی ہیں وہیں انتظامیہ اور سرکاروں کا مسلم مخالف رویہ بھی اپنی کریہہ صورت میں ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ تیس ہزاری عدالت کا یہ فیصلہ ہماری مسلم قیادت کے لئے بھی ایک بڑا تازیانہ ہے۔

 

مودی سرکار کی بے جادخل اندازی

ممتاز نیوکلیائی سائنس داں انل کاکود کر نے جس طرح آئی آئی ٹی ممبئی کے ڈائرکٹر بورڈ کے صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دیا۔ اس سے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مودی سرکار کی دخل اندازی کی قلعی کھل گئی ہے۔ ہرچند کہ خبر ہے کہ کاکودکر نے سرکار کی اس گزارش کو قبول کرلیا ہے کہ وہ فی الحال اپنے عہدہ پر برقرار ہیں لیکن اس واقعہ سے ایک بار پھر یہ سچائی اجاگر ہوگئی کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تقرری کو لے کر سرکار کی من مانی میں کس طرح اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ بدھ کے روز پارلیمنٹ میں بھی اس معاملہ کو لے کر بعض ممبران نے اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آخر اہم شخصیات اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اس طرح خود کو کیوں الگ کررہی ہیں؟ قابل ذکر ہے کہ آئی آئی ٹی پٹنہ،بھونیشور اورروپڑ میں ڈائرکٹرز کی تقرری کو لے کر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی صدر محترمہ اسمرتی ایرانی ہیں جو وزیراعظم کے خصوصی کرم سے اس وقت فروغ انسانی وسائل جیسی اہم وزارت کی ذمہ داری نبھارہی ہیں۔ انل کاکودکر بھی اس کمیٹی کے ایک ممبر ہیں۔ کاکودکرنے استعفیٰ ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب ان تینوں اہم اداروں میں ڈائرکٹروں کی تقرری کے لئے میٹنگ ہونے والی تھی۔ ایسے میں دو بنیادی سوال ہیں۔ پہلا یہ کہ آخر کا کودکر نے استعفیٰ کیوں دیا دوسرے یہ کہ کمیٹی کے ممبروں اور اسمرتی کے درمیان اختلافات کی وجہ کیا ہے؟ کاکودکر ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے آئی آئی ٹی کی خود مختاری کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ ایسے میں اگر واقعی بعض تقرریوں کو لے کر ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو ایک جمہوری نظام اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خود مختاری پر گہرے سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ اس سے قبل آئی آئی ٹی دہلی کے ڈائرکٹر آرشیو گاؤسکر بھی وزارت کی دخل اندازی سے پیدا شدہ تنازعہ کے بعد اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ایک طرف تو وزیراعظم نریندر مودی جہاں سائنس اور تکنا لوجی کے شعبہ میں عالمی سطح کا ڈھانچہ بنانے کا مسلسل عہد کرتے نظر آتے ہیں۔ وہیں دوسری طرف ملک کے اعلیٰ سائنسی وتکنیکی اداروں میں ناحق دخل اندازی سے نہ صرف تنازعات پیداہورہے ہیں بلکہ ان کے سربراہان مستعفی ہورہے ہیں۔ مودی سرکار جب سے اقتدار میں آئی ہے مسلسل تعلیمی اداروں میں من مانی تقرریوں، تعلیم اور تحقیق کے اداروں میں بڑھتی دخل اندازی کے الزامات اس پر لگ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں تاریخ سے متعلق قومی سطح کے ادارے آئی ایچ آر سی کے صدر کے عہدہ پر سنگھ سے وابستہ سدرشن راؤ، اس کے بعد ممبران کے طو رپر بھی آرایس ایس کے چہیتے لوگوں کو جگہ دی گئی۔ کچھ عرصہ قبل ہی نالندہ یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدہ سے اپنی دوسری مدت کے لئے امرتیہ سین نے یہ کہتے ہوئے اپنی امیدواری واپس لے لی تھی کیونکہ مودی سرکار نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس عہدہ پر برقرار رہیں۔ سوال یہ ہے کہ ابترصورت حال سے گزرنے والے ان تعلیمی اداروں کے معیار پر کیا ان تنازعات سے منفی اثر نہیں پڑے گا۔ کیا یہ افسوسناک نہیں ہے؟ اگر مودی سرکار کی سوچ ہے کہ آرایس ایس کے چہیتوں کو نواز کر وہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کی حالت کو بہتر بنا سکتی ہے تو یہ اس کی خام خیال ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو اسی وقت بہتر اور عالمی سطح کا بنایا جاسکتا ہے جب مخلص ایماندار اور اہل لوگوں کو ذمہ داریاں دی جائیں گی۔

 

دہلی کے اسکولوں کا بھگوا کرن

مودی سرکار کے آتے ہی ملک کے اسکولوں کا بھگوا کرن کا مذموم سلسلہ ہی نہیں شروع ہو چکا ہے بلک تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا عمل بھی منصوبہ بند طریقہ سے جاری ہے ۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ بی جے پی آج کل ممبر سازی کی مہم چلارہی ہے۔اس مہم کے تحت دہلی کے ایک معروف اسکول کے حوالہ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہاں بچوں کو بی جے پی کی رکنیت قبول کرنے کی ہدایت اسکول انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ہے۔اس اسکول کا نام ہے ’’ریان انٹر نیشنل‘‘ اطلاعات کے مطابق بچوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی مدعو کیا گیا ہے کہ وہ بی جے پی کی ممبر شپ قبول کر لیں۔ ذرائع نے بتا یا کہ جن اساتذہ اور اسٹاف کے لوگوں نے اسکول کے ذریعہ چلائی گئی ممبر شپ مہم کا ہدف نہیں پورا کیا ہے‘ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق’’ریان انٹر نیشنل‘‘ نے اپنے اسکول میں یہ مہم شروع کی تھی۔اس کے لئے اساتذہ اور طلباء کو ’’وہاٹس اپ‘‘ پر پیغام ارسال کیا گیا تھا اپنی ممبر شپ لینے کے لئے ایک ٹول فری نمبر بھی دیا گیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ ’’ریان انٹرنیشنل‘‘ کے ذریعہ چلائے جانے والے اسکولوں کی ایم ڈی ،بی جے پی مہیلا مورچہ کی نیشنل سکریٹری ہیں۔ اس انکشاف کے بعد دہلی سرکار نے اسکول کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا ہے اور اس کے خلاف جانچ کا حکم بھی دیا ہے ۔ نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے جو کہ وزیرتعلیم بھی ہیں کہا کہ اگر یہ سچ پا یا گیا تو اسے قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔دہلی سرکار کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اب تمام اسکولوں کو ایڈوائزی جاری کی جائے گی کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے لئے اس طرح کا کوئی کام نہیں کریں گے۔’’ریان انٹر نیشنل‘‘ ایک بڑا ادارہ ہے اور اس کی ویب سائٹ کے مطابق 15ریاستوں میں اس گروپ کے کل 106اسکول چل رہے ہیں۔ اس طرح اگر جبری رکنیت کامیاب ہو گئی تو بی جے پی کے ممبروں میں ہزاروں افراد کا اضافہ ہو جائے گا۔ ہر پارٹی اپنی ممبر شپ میں اضافہ چاہتی ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے لیکن اس کے لئے ’’ریان انٹر نیشنل‘‘ نے جو راستہ اختیار کیا اسے کسی طور پر درست نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے کہ یہ تو زبردستی کا معاملہ ہوا جب کہ ’’سیاست‘‘ اور کسی مخصوص پارٹی سے ہمدردی رکھنا ہر شخص کی اپنی مرضی پر منحصر ہے لیکن بی جے پی ایک ایسی پارٹی ہے جو خود کو انتہائی بااصول قرار دیتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی اصول ہے ہی نہیں ۔ اس کا سیاسی مفاد ہی اس کا اصل اصول ہے۔ اپنے سیاسی مفاد کے حصول کے لئے وہ ہر اصول ہر آدرش کو قربان کرسکتی ہے ۔ اس معاملہ میں بھی اس نے یہی کیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ جب جب بی جے پی اقتدار میں آتی ہے سرکاری اداروں اور اسکولوں کے بھگوا کرن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس بار چونکہ اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آگئی ہے اور سرکار وآر ایس ایس میں خفیہ مفاہمت ہو چکی ہے اس لئے بہت خاموشی سے اسکولوں اور تعلیمی نصاب کو بھگوا رنگ میں رنگنے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے خلاف اٹھنے والی سیکولر آواز بھی کمزور ہو گئی ہیں اس لئے ان کے سامنے اب بہ ظاہر کوئی رکاوٹ بھی نہیں رہ گئی ہے۔!!

 

جاٹ ریزرویشن اور مسلمان 

جاٹ برادری سیاسی ،سماجی اور تعلیمی طور پر بہت مضبوط ہے ۔آبادی کے لحاظ سے کم ہونے کے باوجود یہ برادری سیاسی طور پر بھی بہت بااثر ہے لیکن ان تمام باتوں کو نظر انداز کرکے انہیں ریزرویشن کی مراعات دی گئی تھی مگر اب سپریم کورٹ نے اسے ردکردیا ہے ۔جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی بینچ نے اس سلسلے میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی یوپی اے حکومت نے اپنے نوٹیفیکیشن میں بہت سے قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے ۔بینچ نے کہا کہ ذات ایک اہم عنصر ہے لیکن صرف ذات کی بنیاد پر کسی کی پسماندگی کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ماضی میں کسی ٹھوس بنیاد پر کسی ذات کو اوبی سی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تو یہ بات مزید فیصلوں کے لئے نظیر نہیں بن سکتی۔یہ بھی کہا کہ جاٹ جیسی سیاسی لحاظ سے منظّم ذاتوں کو اوبی سی کی فہرست میں شامل کرنا دیگر پسماندہ ذاتوں اور طبقات کے لئے مناسب نہ ہوگا ۔قابل ذکر ہے کہ اب سے تقریباً تین سال قبل اترپردیش اسمبلی ا لیکشن سے قبل یوپی اے سرکار نے اس سلسلے میں آرڈیننس جاری کیا تھا ۔جاٹ اسی کے لئے عرصہ سے تحریک بھی چلارہے تھے،راجستھان میں تو انہوں نے اس کے لئے پرتشدد تحریک بھی چلائی تھی،اس فیصلہ پر اس وقت بھی سوال اٹھے تھے ۔پسماندہ طبقات کے لیڈروں نے بھی اوبی سی کی فہرست میں جاٹوں کی شمولیت پر سخت اعتراض کیا تھا بعد میں یہ معاملہ عدالت میں چلا گیاتھا،عدالت نے اس پر بھی سوال اٹھا یا تھا کہ آرڈیننس جاری کرتے ہوئے ’’ پسماندہ کمیشن ‘‘ کی سفارش کو کیوں نظر ...


Advertisment

Advertisment